”عصمت چغتائی، احتجاج اور بغاوت کے آرٹ کی بانی“، ایک جائزہ


اُردو ادب سے وابستگی کے بعد عصمت چغتائی کے افسانوں سے نصابی سا ربط رہا۔ بہت زیادہ غور و فکر کا موقعہ نہ مل سکا، کچھ نصابی مجبوریاں اور کچھ ادب سے انٹرٹینمنٹ کا کام لینے کا رویہ آڑے رہا، اس دوران ڈاکٹر فرزانہ کوکب جو ہماری ٹیچر ہی نہیں کڑکتی دھوپ میں سایہِ مہرباں کا سا درجہ رکھتی ہیں سے عقیدت محبت اور خلوص کا تعلق رہا۔ لیکن ادب اور خاص طور پر عصمت چغتائی کے فن کے حوالے سے وہ اِدراک و شعور نصیب نہ ہو سکا جو ان کے پی ایچ ڈی کے تھیسسز عصمت چغتائی روایت شکنی سے روایت سازی تک، کے مطالعے کے دوران میرا نصیب بنا۔

میں نے محترم قاضی عابد کی بکس پہ اپنے مختصر مطالعہ و جائزہ میں بھی لکھا تھا کہ یہ میری طالب علمانہ کاوش ہے لہذا اسے تنقیدی مضمون نہ سمجھا جائے۔

یہی گزارش اب بھی ہے کہ میرا یہ حاصل مطالعہ جانبدارانہ ہوگا کیونکہ ڈاکٹر فرزانہ کوکب سے میرا احترام محبت و عقیدت کا رشتہ ہے ان سطور میں، میں اپنا مطالعہ اور وہ شعور پیش کر رہی ہوں جس کا اِدراک مجھے اس کتاب کے مطالعہ کے دوران ہوا۔

یہ کتاب فکشن ہاوس نے شائع کی، قیمت اس مہنگائی کے دور میں مناسب اور کتابت و سرورق خوبصورت اور عنوان، عصمت چغتائی روایت شکنی سے روایت سازی تک اس سے بھی زیادہ پرکشش اور قاری کو متوجہ کر دینے والا۔

انتساب ڈاکٹر فرزانہ کوکب نے اپنے بچوں اور شوہر کے نام کیا ہے جو ہماری یونیورسٹی کی روایت ہے اس سے قبل محترم قاضی عابد بھی اپنی ایک کتاب کو اپنی شریکِ حیات کے نام معنون کر چکے ہیں۔ یہ ہمارے مشرقی کلچر کی روایت بھی ہے۔

کتاب کا پیش لفظ محترم قاضی نے لکھا ان کے بقول باغی اور مضطرب روحیں ایک دوسرے کی تلاش میں سفر کرتی ہیں گویا عصمت کا ڈاکٹر فرزانہ کوکب فرزانہ سے ایک باغیانہ اور روایت شکنی کی نسبت سے ایک تعلق ہے اور وہ ان باغیانہ روایات کی امین ٹھہریں جس کی ابتدا عصمت کر چکی ہیں۔

کتاب کا تعارف قاضی جاوید صاحب نے لکھا اور بڑے اختصار کے ساتھ عصمت کے ادبی مقام و مرتبہ اور اس پہ ڈاکٹر فرزانہ کوکب کے تھیسسز و تجزیاتی مطالعے کا ذکر کیا پسں ورق پہ معروف مورخ ڈاکٹر مبارک علی کی رائے اس کتاب کی علمی حثیت کو وقار بخش رہی ہے۔

حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا، میں ڈاکٹر فرزانہ کوکب نے اپنے اس تحقیقی مقالے میں عصمت کے فن کے تذکرے کے ساتھ یونیورسٹی، شعبہ اُردو اور دوران تھیسسز تعاون کرنے والے مہربانوں کا ذکر شکریے اور محبت کے ساتھ کیا۔

باب اول میں عصمت کے حالات زندگی و شخصیت کا ذکر ہے۔

عصمت خانم، منی بیگم، بغیر اطلاع کے پیدا ہوجانے اور بہن بھائیوں کے مہترانی کے نال کاٹنے ہر بھنگن کی لونڈیا کی داستان خود عصمت کی زبانی بیان ہوئی ہے۔ ہلاکو کے بھائی چغتائی خان سے نسبی تعلق رکھنے والا یہ خاندان ادب سے ہمیشہ آشنا رہا اس باب میں عصمت کے خاندانی حالات اور بچپن کے واقعات کا زیاد تر مواد عصمت کی خود نوشت، ”کاغذی ہے پیراہن“ سے لیا گیا ہے۔ عصمت کی علمی تربیت اس کے بھائی عظیم بیگ چغتائی نے کی جس کا حوالہ اس باب میں موجود ہے۔ بچپن سے ہی عصمت میں سوال اُٹھانے کی جراءت اور اپنی نسائی حثیت کا احساس دلانے بل کہ احتجاج کرنے کا رجحان تھا۔

21 جولائی 1915 سے 24 اکتوبر 1991 تک عصمت کی زندگی اس کی باغیانہ روش کی عکاس رہی حتی کہ اس وفات کے بعد یہ ہنگامہ کچھ اور تیز ہوگیا کیونکہ انھوں نے اپنی لاش کی تدفین کے بجائے جلانے کی وصیت کر دی تھی۔ زندگی بھر ہنگاموں کے ساتھ جینے والی بقول جگدیش چندرودھان موت کے بعد بھی ہنگاموں کا موجب بنی رہی۔

باقاعدگی سے عصمت نے طالب علمی کے دور سے لکھنا شروع کیا پھر افسانے ڈرامے ناول، ناولٹ اور خاکے لکھتی چلی گئی، ڈاکٹر محمد اشرف اس حوالے سے عصمت کو بسیار نویس کہتے ہیں۔ ان کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر فرزانہ کوکب فرزانہ کوکب لکھتی ہیں۔
”وہ محبت میں احساسِ ملکیت کے خلاف تھیں، عشق میں سستے جذبے اور جذباتی پن کی قائل بھی نہ تھیں، عصمت عشق کو ایک فعال جذبہ بنانا چاہتی تھیں، عشق ان کے نزدیک زندگی یا مقاصدِ زندگی کی انتہائی منزل تھا۔ عصمت کو مفتوح ہونا پسند نہ تھا وہ برابر کا تعلق رکھنا چاہتی تھیں۔ عصمت کی شخصیت کا سب سے اہم اور لائقِ تحسین پہلو یہ ہے کہ وہ جو کچھ بھی تھیں کھلے عام تھیں ڈنکے کی چوٹ پہ یہ تھیں۔ “

دوسرے باب میں افسانہ نگاری پہ ایک جامع بحث کے بعد ڈاکٹر فرزانہ کوکب فرزانہ کوکب نے عصمت کے فن پہ کچھ یوں رائے دی ہے، عصمت کے پاس موضوعات کا جتنا تنوع ہے اور جس طرح کے کردار انھوں نے پیش کیے ہیں اور ان کی اسلوبیاتی خصوصیات اور انفرادیت، ان سب کے باوجود ناقدین نے سب سے زیادہ ان کے حوالے سے جس لفظ کا ڈھنڈورہ پیٹا وہ لفظ فحش نگاری ہے۔ اور یہ الزام ان کی ہر تخلیق پہ لگا لیکن اس کے باوجود اس کے فن کو پذیرائی اور اعتبار نصیب ہوا اس لیے کہ اس نے منافقت کے بجائے اس معاشرے کا کچا چٹھا بیان کیا۔

تیسرا باب ناول نگاری پہ ہے،

اس سلسلے میں ڈاکٹر فرزانہ کوکب نے بہت سے تجزیہ نگاروں اور ناقدین کی آرا عصمت کے فن پر پیش کی ہیں۔ عصمت کے فنِ ناول نگاری پہ ڈاکٹر حیات افتخار اپنی رائے کچھ یوں دیتے ہیں، عصمت چغتائی پہلی ناول نگار خاتون ہیں جنھوں نے پہلے پہل اپنے ناولوں میں نسوانی کرداروں کا نفسیاتی تجزیہ پیش کیا انھوں نے عورتوں کے جنسی و نفسیاتی مسائل کو خود انہی کے نقطہ نظر سے ظاہر کیا اور جنسی گھٹن اور مردوں کی بد عنوانی پہ قلم اُٹھایا۔

عصمت نے کل چھ ناول تخلیق کیے۔ ضدی، ٹیڑھی لکیر، معصومہ، سودائی، جنگلی کبوتر اور واقعہ کربلا پر مبنی ناول قطرہ خون، ان صفحات میں ان ناولوں کے کرداروں کا نفسیاتی تجزیہ اس فن کے ماہرین کی آرا اور ان کی کتب کے اقتباسات کے ذریعے کیا گیا ہے۔

عصمت معاشرے کی کمزوریوں پہ بے دھڑک قینچی چلا دیتی ہے یہ خیال کیے بغیر کہ اس کی کاٹ کس دل پہ پڑتی ہے یا کس جان کا نقصان ہوتا ہے جس کا اظہار ان کے ناولوں اور افسانوں میں جا بجا ملتا ہے اس باب میں ان تشبیہات کے کئی حوالے بھی موجود ہیں۔ اس باب کے آخر میں ان کے کربلا پہ لکھے ناول، قطرہ خون، کے حوالے سے ان کی چند سہوا کی گی غلطیوں کے تذکرے کے ساتھ یہ موضوع سمٹ جاتا ہے۔

باب چہارم عصمت کے ناولٹ، خاکہ نگاری، ڈراموں، رپورتاژ اور آپ بیتی پہ ہے ابتدائی سطور میں ناولٹ اور ناول کے فرق کو بیان کرنے بعد ان کے مشہور ناولٹوں دل کی دنیا، باندی، عجیب آدمی کے تجزیے پر مشتمل ہے اور تمام کردار سماجی تضادات کی عکاسی کر رہے ہیں، میرا دوست میرا دشمن، کے نام سے منٹو اور دوزخی کے نام سے منٹو پہ لکھے دو اہم خاکوں میں سے منٹو کے حوالے سے عصمت کے خاکے پہ ڈاکٹر فرزانہ کوکب اپنا تجزیہ کچھ یوں پیش کرتی ہیں۔

”عصمت چغتائی جہاں اس حقیقت کی قائل ہیں کہ کسی بھی شخصیت کی خاص نفسیاتی تشکیل میں اس دنیا اور اہلِ دنیا کا بھی ایک خاص کردار ہوتا ہے اس طرح وہ یہ بھی مانتی ہیں کہ کسی بھی حساس شخص کی موت میں دنیا اور اہلِ دنیا کی بے حسی اور ناقدری کا بہت دخل ہوتا ہے۔ “

باب پنجم کے صفحات نہایت اہم ہیں جہاں ڈاکٹر فرزانہ کوکب فرزانہ کوکب اس ساری بحث کو سمیٹتے ہوئے رقم طراز ہیں کہ
”تکنیک اور فن کے اعتبار سے سے دو یا تین ناولوں اور ناولٹوں کے علاوہ شاید عصمت چغتائی کے کسی ناول کو بہت اعلیٰ پائے کا نہ کہا جاسکے مگر عصمت کے مخصوص طرزِ فکر اور زبان و بیان کی انفرادیت کے باعث یہ اُردو ناولوں کے خزینہ میں اچھا اضافہ قرار دیے جا سکتے ہیں۔ ان کے بقول اُردو ادب میں عصمت کی شخصیت جتنی بلند ہے اتنی متنازعہ۔ “

آگے بڑھتے ہوئے ڈاکٹر فرزانہ کوکب فرزانہ عصمت کے بارے لکھتی ہیں بیسویں صدی کی خواتین لکھاریوں کا ذکر عصمت چغتائی کے ناولوں اور افسانوں کو شامل کیے بغیر لکھنا ممکن نہیں، عصمت ایک صاحبِ طرز اور عہد ساز ادیبہ ہیں ان کے بعد آنے والے ادیبوں نے ان کی جراءت و بے باکی کی پیروی کرنے کی کوشش کی، جب تک دنیا میں اُردو اَفسانہ زندہ رہے گا عصمت چغتائی کی بطور ادیبہ اہمیت و ناموری زندہ حقیقت کے طور پہ موجود رہے گی، ماخذ و کتابیات کی تفصیلی فہرست کے ساتھ اس کتاب کی تکمیل ہو جاتی ہے۔ عصمت چغتائی کی شخصیت اور فن پر بہت سا مواد اور حوالہ جات کا اس کتاب میں جمع ہو جانا کئی حوالوں اور ماخذ کی تلاش سے قارئین کو بے نیاز کر دیتا ہے۔

ادب کا ذوق اور عصمت کے فن سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے یہ کتاب ایک بڑا سرمایہ ہے، اللہ ڈاکٹر فرزانہ کوکب فرزانہ کے قلم کو روانی اور انھیں طویل عمر عطا کرے اور ان کا سایہ تا دیر ہمارے سروں پہ قائم رکھے۔ وہ ہمارے شعبے کا وقار اور ادبی دنیا کامعتبر نام ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

رفیعہ سرفراز کی دیگر تحریریں
رفیعہ سرفراز کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں