نانک گلی میں عید کا سا سماں


دوپہر کے بارہ بج رہے تھے۔ سورج بھارت سے پاکستان کی طرف منتقل ہورہا تھا۔ یہ محض چند روز قبل 21 نومبر 2018 کی دوپہر تھی جب پورے ملک میں عید میلاد النبی منایا جارہا تھا۔ کراچی سے خیبر تک ہر کوئی عید میلاد لنبی کو اپنے مخصوص انداز میں منانے میں مگن تھا۔ عین اسی وقت بھارت سے ایک خصوصی ٹرین واہگہ اسٹیشن پر آ کر رکتی ہے۔ 1200 کے قریب سکھ یاتری باباگرونانک کا جنم دن منانے لاہور پہنچتے ہیں جو کہ 23 نومبر کو ننکانہ صاحب میں منایا جانا تھا۔

یاتریوں میں کچھ ننگے پاؤں ہیں۔ کئی پیر ٹرین سے اترتے ہی ماتھا ٹیکتے ہیں۔ کوئی احترام میں پاکستان کی جانب جھک رہا ہے تو کوئی ہاتھوں کے اشاروں سے فرض پورا کررہا ہے۔ آوازیں بلند ہوتی ہیں ’واہے گرو جی کا خالصہ، واہے گرو جی کی فتح‘ ۔ پاکستانی میڈیا کے کیمرے یہ تمام مناظر قید کررہے ہیں۔ کچھ دیر میں ہی دوسری اور پھر تیسری ٹرین لاہور پہنچتی ہے یوں 3 ہزار سے زائد سکھ یاتری پاکستان اترتے ہیں۔ جتھے دار امرجیت سنگھ اور ان کے ساتھی میڈیا سے گفتگو کرتے ہیں اور پاکستان کی جانب سے سکھ کمیٹی کے پردھان (صدر) سردار تارا سنگھ نمائندگی کرتے ہیں اور یوں سوال جواب کا سلسلہ شروع ہوتا ہے تو بات کرتار پور بارڈر اور سدھو جی کی جپھی تک پہنچ جاتی ہے۔

دہلی، چندی گڑھ اور امرتسر سے آئے مہمان اپنی سرکار کو برا بھلا کہتے ہیں اور ساتھ ہی پاکستان کے جذبے کو سراہا جاتا ہے۔ ویزے نہ دینے کی شکایات کے انبار لگتے ہیں اور پاکستانی میڈیا عید میلاد النبی کی نشریات میں سے یاتریوں کو بھی کچھ وقت زکوت کی صورت میں ادا کرتا ہے۔ کرتار پور راہداری کھولنے کی پاکستانی پیش کش پر بھارت کی چپ پر سکھ یاتری اپنی ہی سرکار سے ناراض سے دکھائی دیتے ہیں۔ دوسری جانب عمران خان اور جنرل باجوہ کی کھل کر تعریفیں کی جاتی ہیں۔ یاتریوں کو خصوصی ٹرین کے ذریعے ننکانہ پہنچایا جاتا ہے جہاں ایک دن کے وقفے کے بعد بابا گرونانک کے جنم دن کی مرکزی تقریب منعقد ہونا تھی۔ میڈیا بھی واپس ہوجاتا ہے۔

22 نومبر کو بارڈر کے اس پار سے خبر بریک ہوتی ہے کہ بھارت نے کرتار پور بارڈر پر مشترکہ راہداری بنانے کی پاکستانی پیش کش کو قبول کرلیا ہے۔ بھارت سمیت دنیا بھر کے سکھوں کا دیرینہ مطالبہ پورا ہوتا ہے۔ بھارتی یاتریوں کے لئے یقینا یہ بہت بڑا موقع تھا کہ اگلے روز انہیں بابانانک کا جنم دن منانا تھا اور ان کی سرکار نے اب ان کا 71 سال پرانا مطالبہ بھی پورا کرلیا تھا۔

22 نومبر کی رات کو ہی مجھے دفتر سے پیغام موصول ہوا کہ اگلے روز صبح 6 بجے آپ اپنی ٹیم کے ہمراہ ننکانہ صاحب کے لئے روانہ ہوں گے لہذا تیاری پکڑیں۔

اگلے روز صبح 6 بجے ہم ننکانہ صاحب کے لئے روانہ ہوئے۔ لاہور سے کئی دوسرے ہمارے صحافی دوست بھی ہم سفر ہوئے۔ صبح 8 بجے ہم ننکانہ کی گلیوں میں تھے۔ میرے لئے یہ پہلا موقع تھا کہ جب میں تاریخ کی کتابوں کے اوراق کو آج اپنی آنکھوں سے پلٹ رہا تھا۔ بابا گورونانک۔ ایک تاریخ، ایک عہد، ایک فلسفہ حیات جس کے بارے میں اقبال کا شعر ’آشکار اس نے کیا جو زندگی کا راز تھا۔ ۔ ۔ ہند کو لیکن خیالی فلسفہ پر ناز تھا‘ میری ذہانت میں مستقل سکونت اختیار کرچکا تھا۔

ننکانہ میں سکیورٹی انتہائی سخت تھی۔ ہمیں گوردوارہ جنم استھان تک پہنچنے میں تقریبا ایک گھنٹہ لگا۔ یہ وہ گوردوارہ تھا جہاں سکھ مذہب کی روایات کے مطابق ان کے بانی اور پہلے گرو بابانانک نے 1469 کو جنم لیا تھا۔ اس وقت اس جگہ کا نام رائے بھوئی دی تلونڈی تھا جو کہ بعد میں بابا نانک کے نام سے منسوب ہوا تو ننکانہ صاحب کہلایا۔ ان کے والدین مہتا کالو (کلیان چند داس بیدی) اور ماتا ترپتا کا تعلق ہندو مت سے تھا۔ والد تلونڈی گاؤں میں فصل کی محصولات کے مقامی پٹواری تھے۔ بابا نانک نے اپنی زندگی کا بچپن یہیں گزارا تھا۔

ننکانہ صاحب کی گلیاں معطر تھیں۔ نانک کے سینکڑوں چاہنے والے آج ان کے جنم دن کو شایان شان انداز میں منارہے تھے۔ مجھے ننکانہ میں وہی جوش و خروش نظر آیا جو عیدالفطر کے روز ہمارے ہاں گھروں، گلیوں اور بازاروں میں ہوا کرتا ہے۔ سکھ یاتریوں کے چہروں پر خوشی ناقابل بیان تھی۔ ہر ایک اپنی ہی دھن میں مست تھا۔ کوئی ماتھا ٹیکے تھا، کہیں ہاتھ پیشانی کو چھو رہے تھے تو کسی کی آنکھیں آنسوؤں سے نم تھیں۔ ہم نانک کے چاہنے والوں کے تاثرات ساتھ ساتھ کیمرے میں محفوظ کررہے تھے۔

ہم نے یاتریوں سے جب کرتار پور بارڈر کھلنے کے حوالے سے تاثرات جاننے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ بیشتر یاتریوں تک کرتار پور بارڈر کھلنے کی خبر ابھی پہنچی ہی نہ تھی جس کی وجہ شاید رابطوں کا فقدان تھا۔ چندی گڑھ کے ایک سکھ یاتری سے جب اس بارے ہم نے سوال کیا تو انہوں نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے جوابا پوچھا کیا بھارت سرکار نے فیصلہ کرلیا ہے؟ میں نے عرض کیا، جی ہاں۔ ابھی کل ہی۔ ہماری بدولت یاتریوں تک جب یہ خبر پہنچی تو ہمیں لگا گویا مفتی منیب نے عید کا چاند نظر آنے کا اعلان کردیا ہو۔

یاتریوں کا ایک ہجوم ہمارے اردگرد خبر کی تصدیق کے لئے اکٹھا ہوگیا۔ امرتسر کے ایک یاتری نے خوشی سے میرے ساتھ جپھی ڈالی۔ انہی کے ایک دوست نے بیگ سے کڑا نکالا اور ساتھی دوست سے مجھے کڑا پہنانے کا کہا۔ سیلفیاں بنیں اور محبت کا کڑا پہنایا گیا۔ سنا تھا سکھ لوگ محبت پر آئیں تو جان نچھاور کردیتے ہیں، اس دن بذات خود محسوس بھی کیا۔ بزرگ سکھ پاکستانی پنجاب کے لئے بالکل انہی جذبات کا اظہار کررہے تھے جو بالعموم ہم مسلمان اہل مکہ کے لئے کرتے ہیں۔ ہمیں ندامت ہوتی کہ ننکانہ کی گلیوں میں سکھ ننگے پاؤں گھومیں اور ہم اپنے گرد آلود جوتوں کے ساتھ گوردوارے کی حدود تک چلے آئے۔ سکھ مذہب کے عقائد کے ساتھ گو کہ ہماری شناسائی زیادہ نہ تھی مگر دل میں ان کے عقائد کے لئے ادب و احترام رچا بسا تھا۔ جوتے اتارے اور گوردوارے کے اندر داخل ہوئے۔

سکھ یاتری مقدس کتاب ’گرنتھ صاحب‘ کی یاترا کررہے تھے۔ ایک لمبی لائن لگی تھی۔ دوسری جانب یاتریوں کے لئے ایک محفل بھی سجی تھی۔ جہاں سکھ یاتریوں کے جتھے دار اور اندرون و بیرون ملک سے مختلف گوردوارہ کمیٹیوں کے عہدیداران خطاب کررہے تھے۔ گرونانک کے چاہنے والے نانک کے بچپن کو یاد کرکے ان کے ذکر میں محو تھے۔ پاکستان کے وفاقی وزیر مذہبی امور پیر ڈاکٹر نورالحق قادری نے بھی اس محفل سے خطاب کرنا تھا۔ سکھ مقررین کرتار پور بارڈر کھلنے کے اعلان پر خوشی کا اظہار کررہے تھے، پاکستانی حکومت کے اقدام کو بھرپور ستائش مل رہی تھی۔ نعرے بازی ہورہی تھی۔ اچانک بیچ میں کہیں سے خالصتان کا نعرہ بھی لگتا ہے۔ حاضرین میں سے بعض اس کا بھرپور جواب دیتے تو کئی یاتریوں کے چہرے پر ناگواری کے تاثرات بھی نمایاں تھے۔

جمعہ کا دن تھا۔ مسلمانوں کی ساری بڑی مساجد گوردوارے کے آس پاس تھیں۔ سب ہی بند تھیں۔ 12 بجے کے بعد نگر کیرتن (مقدس کتاب کے ہمراہ جلوس) برآمد ہوا۔ یاتری مخصوص کلام اور ذکر کرتے نظر آتے ہیں۔ سب کی توجہ ایک مرکز کو ہوجاتی ہے۔ مرد، خواتین سب گھل مل جاتے ہیں۔ کوئی ذات پات رہتی ہے نہ جنس میں کوئی تفریق، جس کو پہنچ پاتی ہے گرنتھ کی سواری کو چھونے کی کوشش کرتا ہے۔ بعض نوجوانوں نے ہاتھوں میں نیلے اور پیلے رنگ کے جھنڈے اٹھارکھے ہیں۔

پیلے رنگ کے جھنڈے پر انگریزی اور اردو میں خالصتان لکھا نظرآرہا تھا۔ گوردوارے کے مرکزی دروازے پر خالصتان کی آزادی پر مبنی فلیکسز آویزاں تھیں۔ پولیس اہلکار مرکزی دروازے کے دونوں جانب کھڑے تھے۔ میڈیا کے کیمرے مرکزی دروزے کی چھت سے نگر کیرتن کے خوبصورت مناظر براہ راست دکھارہے تھے۔ سامنے والے بازار کی دونوں جانب مسلمان عورتیں گھروں کی چھتوں پر گلاب کی پتیاں لئے جلوس کی منتظرہیں۔ سکھ یاتریوں کے استقبال میں مقامی مسلمان عورتوں کا جذبہ مثالی تھا۔

مسلم سکھ بھائی چارے کا جو درس نانک نے دیا تھا ننکانہ کی گلیوں میں عملی طور پر نظر آرہا تھا۔ میں نے کبھی ایسے مناظر نہیں دیکھے تھے کہ مسلمان جمعہ کی نماز کے اوقات میں تبدیلی کریں، اور سکھوں کی مذہبی رسومات کے احترام میں نہ صرف مساجد بند کی جائیں بلکہ ان کا بھرپور استقبال کیا جاتا ہے۔ مقامی مسلمان اور سکھ آبادی نے عیدمیلادلنبی اور باباگرو نانک کا جنم دن مشترکہ منانے کا اعلان کررکھا تھا۔ شام ہوئی تو گلیاں برقی قمقموں سے سج گئیں۔ بازار کھل گئے، سکھ یاتری خریداری میں مگن ہوگئے۔ مقامی لوگوں کے بقول پورے سال میں اس دن سے خوبصورت دن کوئی نہ تھا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں