پاکستان ریلوے، کچھ بھی نہیں بدلا


زندگی تجربات کا نام ہے، بسا اوقات 40 سال بعد ایک ایسا واقعہ سامنے آتا ہے کہ انسان سر کھجاتا رہ جاتا ہے کہ اتنے برسوں تو ہم اس سے لاعلم ہی تھے۔ گذشتہ دنوں ٹرین کے سفر کے دوران ہمارے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی واقعہ پیش آیا کہ ہم سر دھنتے ہی رہ گئے۔ خیبر میل راولپنڈی سے کراچی کے لیے رات دو بجے روانہ ہوتی ہے۔ ہم اسٹیشن پر پہنچے اور ٹکٹ کے لیے لائن میں لگ گئے، جب ہماری باری آئی تو معلوم ہوا کہ ٹرین کی کسی کلاس میں بھی سیٹ یا برتھ نہیں ہے۔

ہم نے ڈیوٹی پر مامور ریلوے اہلکار سے استفسار کیا کہ اب کیا کریں؟ ہمیں ایمرجنسی ساہیوال کے لیے جانا ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ جب ٹرین پلیٹ فارم پر آئے تو آپ ٹکٹ چیکر اور ماسٹر سے رابطہ کر لینا، شاید گنجائش نکل آئے۔ اور بتایا کہ بوگی نمبر 14 میں گنجائش ہو سکتی ہے۔ ہم نے اس سے اوپن ٹکٹ لیا اور ٹرین پر سوار ہو گئے۔ واضح رہے کہ ٹرین کے اوپن ٹکٹ کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آپ کو ٹرین میں سفر کرنے کی اجازت ہے لیکن سیٹ یا برتھ کی سہولت نہیں ہوتی، آپ اکانومی کلاس میں سفر کرسکتے ہیں، اگر جگہ ملے توٹھیک وگرنہ کھڑے ہوکر سفر کرنا ہوگا۔

ہم ٹرین پر سفر کو اس لیے ترجیح دیتے ہیں کہ سفر آرام دہ ہوتا ہے، تھکاوٹ کی صورت میں انسان لیٹ بھی سکتا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ مناسب ترین ہوتا ہے۔ ہمیں اس وجہ سے بھی مناسب لگتا ہے کہ سرکار کی طرف سے جو چند صحافیوں کو ریلوے کنسیشن کارڈ جاری کیا جاتا ہے، ہمارے پاس بھی ہے جس کے تحت ہمیں ٹرین کی تمام کلاسوں میں 80 فیصد ڈسکاونٹ دیا جاتا ہے۔

جب ٹرین چلی تو ہم نے ماسٹرجی اور ٹکٹ چیکر کو تلاش کیا اور ان سے کہا کہ اگر ٹرین میں کسی بھی کلاس میں بیٹھنے کے لیے جگہ ہو تو ہمیں بتائیے، اس مقصد کے لئے ہم سے اضافی رقم دینے کو تیار ہیں تاکہ 8 گھنٹے کا سفر بہ آسانی کٹ سکے۔ انہوں نے جھٹ سے جواب دیا کہ ٹرین میں جگہ نہیں ہے۔ ہمیں چونکہ ٹرین میں سفر کرتے ہوئے سالوں بیت گئے ہیں اس لیے ہم نے اپنے طریقے سے بزنس کلاس کے ایک کمپارٹمنٹ میں جگہ ڈھونڈ نکالی۔

سو ہم نے خوشی سے ماسٹر جی کوبتایا کہ فلاں بوگی کے فلاں کمپارٹمنٹ میں چار برتھ خالی ہیں۔ ماسٹر جی نے ہمیں تاثر دیا کہ جیسے انہوں نے ہماری بات کو نظر انداز کردیا ہے اور آگے چلنے لگے، ہم پیچھے پیچھے کہ صاحب نظرِ کرم فرمائیں۔ بندہ بزنس کلا س کے اضافی پیسے دینے کے لیے تیار ہے، آپ بس سیٹ یا برتھ عنایت فرما دیجئے۔ وہ مسلسل چلتے رہے اور ایک کمپارٹمنٹ میں ریلوے پولیس کے چار اہلکاروں کو اپنے ساتھ چلنے کے لیے کہا اور جس جگہ کی ہم نے نشاندہی کی تھی اسی جگہ چار پولیس اہل کاروں کو بٹھا دیا اور ہمیں کہا گیا کہ آپ کے لیے جگہ نہیں ہے۔

ہم ماسٹر جی کا یہ برتاؤ دیکھ کر ہکا بکا رہ گئے کہ جگہ کی نشاندہی ہم نے کی اور ہم اضافی پیسے دینے کو بھی تیار تھے لیکن ماسٹر جی نے اپنے ساتھیوں کو ترجیح دی۔ سو ہم نے ماسٹر جی پر چڑھائی کر دی اور کہا کہ جب آپ جیسے لوگ اپنے ہی ساتھیوں کو نوازنے لگیں گے تو عام شہری کی کون سنے گا؟ ماسٹر جی نے جب دیکھا کہ یہ عام شہری تو گلے کو آ رہا ہے تو انہوں نے ہم سے جان چھڑانے کے لیے کہا کہ راولپنڈی سے گوجرانوالہ کے لیے سیٹ ہے، ہم نے کہا عنایت فرمائیے۔

کہنے لگے کہ ٹکٹ ساہیوال تک کا کٹے گا، ہم اس منطق پر حیران رہ گئے کہ اول تو ہمارے پاس ساہیوال تک جانے کے لیے ٹکٹ موجود ہے اگر بزنس کلاس میں سفر کرنے کے اضافی چارج کرنے ہی ہیں تو جہاں تک کی سیٹ عنایت کی جا رہی ہے صرف وہاں تک کے اضافی پیسے وصول کیے جائیں۔ جب ہم اس پر راضی نہ ہوئے تو انہوں نے دوسر ی جگہ بتائی جو ساہیوال تک کے لیے تھی۔ ہماری سمجھ میں بات آ گئی کہ جب ساہیوال تک کے لیے سیٹ مل رہی ہے تو ساہیوال تک کے اضافی پیسے ادا کردیتے ہیں۔

جب ٹکٹ بنانے لگے تو فل ٹکٹ بنایا، ہم نے گزارش کی کہ ہم صحافی ہیں، ہمارے پاس سرکار کا عطا کیاہوا کارڈ موجود ہے، جس کے تحت ہمیں 80 فیصد ڈسکاونٹ حاصل ہے۔ آپ اسی حساب سے ٹکٹ بنائیں۔ ماسٹر جی فرمانے لگے کہ یہ سہولت آپ کو ونڈ پر ہے ٹرین پر نہیں ہے۔ ہم نے جھٹ سے راولپنڈی سٹیشن سے حاصل کیا ٹکٹ ان کے سامنے رکھ دیا اور سوچا کہ اب ماسٹر جی کے پاس کوئی جواب نہ ہو گا لیکن ماسٹر جی گویا ہوئے کہ یہ سب ٹھیک ہے لیکن آپ اس وقت ٹرین میں ہیں اور ٹرین میں موجود مسافر کو یہ سہولت نہیں دی جا سکتی۔

ہم ماسٹر جی کی اس منطق پرحیران رہ گئے اور عرض کیا کہ جو کارڈ ریلوے سٹیشن پر کارآمد ہے وہ ٹرین میں کیسے ناکارآمد ہو گیا؟ ماسٹر جی کہنے لگے کہ میں اصولوں کا پابند ہوں لہٰذا آپ پوری ادائیگی کیجئے۔ ہم چونکہ 8 گھنٹے کھڑے ہو کر سفر نہیں کر سکتے تھے اس لیے ہم نے پہلے سے موجود ٹکٹ کے باوجود ماسٹر جی کوبزنس کلاس کی پوری ادائیگی کر دی لیکن چند سوالات نے ہمیں گھیر لیا کہ ہمارے ساتھ غلط کون کر رہا ہے، ماسٹر جی یا ریلوے کے فرسودہ قوانین؟

یا د رہے کہ ریلوے کی طرف سے جن صحافیوں کو کنسیشن کارڈ جاری کیے جاتے ہیں وہ بھی ایک امتحان سے کم نہیں ہے، یہ کارڈ ہر صحافی کو نہیں مل سکتے، ریلوے کنسیشن کے کارڈ کے حصول کے لیے لازم ہے کہ آپ کے پاس پی آئی ڈی کی طرف سے جاری کردہ ایکریڈیٹیشن کارڈ ہو۔ جبکہ پی آئی ڈی کے کارڈ کا حصول انتہائی مشکل ہے جس میں صحافی کے لئے کم از کم دس سال کا تجربہ ہونا لازمی ہے اس کے بعد تمام خفیہ ایجنسیاں انکوائری کرتی ہیں اور ایجنسیوں کی کلیرنس کے بعد ہی جا کر ایکریڈیٹیشن کارڈ کا حصول ممکن ہو پاتا ہے اس کے بعد کوئی بھی صحافی ریلوے کنسیشن کارڈ کے لیے اپلائی کرنے کا اہل ٹھہرتا ہے۔

کئی ماہ کی مسلسل جدوجہد اور متعدد جگہ خواری کے بعد ریلوے کا کارڈ ملتا ہے جس کی مدت معیاد صرف ایک سال کی ہوتی ہے یعنی جنوری سے دسمبر تک۔ عموماً کارڈ ملتے ملتے دو تین ماہ گزر چکے ہوتے ہیں اور کارڈسے سال میں صرف ایک آدھ مرتبہ ہی استفادہ کیا جا سکتا ہے، طرف تماشا تو یہ ہے کہ اتنی مشکلات کے بعد بننے والا ریلوے کارڈ تمام جگہوں پر کارآمد نہیں بلکہ چند ایک شہروں میں ہی اس کارڈ سے استفادہ کیا جا سکتاہے۔ مثال کے طور پر اسلام آباد، راولپنڈی کے عام شہری کسی بھی ریلوے ریزرویشن آفس سے ٹکٹ حاصل کر سکتے ہیں مگر صحافی راولپنڈی صدر میں واقع مین آفس سے ہی رعایت شدہ ٹکٹ حاصل کر سکتے ہیں، اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ حکومت نے صحافیوں کو ٹرین پرجو رعایتی سفرکی جو سہولت دی ہے وہ محض دکھاوے کے لئے ہے۔ ریلوے کے موجودہ وزیر شیخ رشید کو اس بارے سوچنا چاہیے جو یہ کہتے ہیں کہ صحافی ٹرین پر مفت سفر کرتے ہیں۔
اپنا تلخ تجربہ اس لئے شیئر کر رہا ہوں تاکہ حکومتی سطح پر اصلاح احوال کی کوئی کوشش بروئے کار لائے جا سکے۔

ظفر سلطان
ایڈیٹوریل ایڈیٹر
روزنامہ مشرق پشاور / اسلام آباد

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں