ڈھائی ہزار روپے کی سرمایہ کاری سے ایک لاکھ ماہانہ کمائیے


ہمارے وزیراعظم نے سکیم پیش کی ہے کہ وہ دیہات کی تمام خواتین کو پانچ پانچ مرغیاں دیں گے اور اس کے نتیجے میں غربت میں خاطر خواہ کمی ہو جائے گی۔ اس پر ناسمجھ لوگ ان کا مذاق اڑانے لگے تو تنگ آ کر انہوں نے انہیں آئینہ دکھاتے ہوئے کہا کہ ”نوآبادیات سے متاثر (غلامانہ) ذہنوں کو مرغبانی کے ذریعے غربت کے خاتمے کا خیال مضحکہ خیز دکھائی دیتا ہے مگر جب ’گورے‘ دیسی مرغیوں (مرغبانی) کے ذریعے غربت مٹانے کی بات کرتے ہیں تو اسے“ خیالِ نادر ”قرار دے کر یہ عش عش کراٹھتے ہیں۔ “

اس کے ساتھ ہی انہوں نے مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس کا ایک مضمون بھی پیش کیا جس میں ایسے چشم کشا اعداد و شمار موجود ہیں جنہیں دیکھنے کے بعد عمران خان کے تمام حامیوں اور مخالفین کو ان کی حمایت اور مخالفت چھوڑ کر مرغیوں کی افزائش شروع کر دینی چاہیے۔

بل گیٹس کے مطابق اگر ایک خاتون کے پاس محض پانچ مرغیاں ہوں اور اس کا ہمسایہ اس کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے اسے اپنا مرغا کچھ دیر کے لیے دے دے، تو اس کی مرغیوں کے انڈے بارآور ہو جائیں گے۔ تین مہینے بعد اس کے پاس 40 چوزے ہوں گے۔ اگر ایک مرغی کی قیمت فروخت محض 5 ڈالر (سات سو روپے ) بھی ہو، جو مغربی افریقہ میں ہوتی ہے، تو وہ آرام سے سال کا ایک ہزار ڈالر (ایک لاکھ اڑتیس ہزار روپے ) کما سکتی ہے۔

Suppose a new farmer starts with five hens. One of her neighbors owns a rooster to fertilize the hens’ eggs. After three months, she can have a flock of 40 chicks. Eventually, with a sale price of $5 per chicken-which is typical in West Africa-she can earn more than $1,000 a year, versus the extreme-poverty line of about $700 a year.

With a sale price of $5 per chicken, which Gates notes is typical in West Africa, an owner can earn over $1,000 a year. The extreme-poverty line, meanwhile, hovers around $700 a year.

ہم نے ضرب تقسیم کی ہے۔ ایک افریقی مرغی سال کا 200 ڈالر یعنی ساڑھے ستائیس ہزار روپے کما کر دیتی ہے جبکہ اس کی قیمت محض 700 روپے لگائی گئی ہے۔ یعنی ایک مرغی سال بھر میں اپنی قیمت کا چالیس گنا کماتی ہے۔ ہمارے ہاں دیسی مرغی کی قیمت تقریباً 1200 روپے ہوتی ہے۔ یعنی ہماری ایک دیسی مرغی سال کا 48 ہزار کمائے گی۔ اگر آپ سال کا بارہ لاکھ یعنی ایک لاکھ روپے ماہانہ کمانا چاہتے ہیں تو آپ نے صرف 25 مرغیاں خریدنی ہیں اور پھر بے فکر ہو جائیں۔

اگر آپ اتنی اندھی کمائی دیکھتے ہوئے بھی چھے مہینے انتظار کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں تو 100 روپے کا دیسی چوزہ خرید لیں۔ ویسے تو دیسی چوزہ اس سے بہت کم قیمت کا ہوتا ہے مگر ہمارا خیال ہے کہ اس وقت وہ مارکیٹ میں بلیک میں فروخت ہو رہا ہو گا اس لیے اس کی قیمت 100 روپے لگائی ہے۔ یوں آپ ڈھائی ہزار روپے میں 25 چوزے خرید لیں گے اور چھے مہینے بعد وہ مرغیاں بن کر انڈے دینے لگیں گے۔ اگر آپ زیادہ جلد باز ہیں تو پھر آپ 1200 روپے کے حساب سے مبلغ 30 ہزار روپے میں 25 جوان جہان مرغیاں خرید لیں اور ایک سال بعد بغیر محنت کیے 12 لاکھ روپے کما لیں۔

اگر آپ ایک امیر کبیر مڈل کلاسیے ہیں تو آپ اپنی دس لاکھ کی گاڑی بیچ کر فوراً 833 مرغیاں خرید سکتے ہیں اور سال کے اختتام پر آپ 48000 روپے فی مرغی کے حساب سے چار کروڑ روپیہ اپنی انٹی میں دبا کر یورپ کی سیر کو نکل سکتے ہیں۔ اگر آپ کے پاس دس لاکھ نہیں ہیں تو آپ دل چھوٹا مت کریں۔ آپ ایسا کریں کہ اپنا ساٹھ ہزار کا موبائل بیچ کر 50 جوان جہان مرغیاں خریدیں اور سال بعد آپ 24 لاکھ روپے کے مالک ہوں گے اور اس سے اگلے سال ساڑھے نو کروڑ کے۔

اگر آپ ایک کروڑ روپے کے پلاٹ کے مالک ہیں تو یہی وقت ہے کہ آپ اسے بیچ کر 8333 دیسی مرغیاں خرید لیں اور سال بعد آپ 40 کروڑ روپے کے مالک ہوں گے۔ ان سے آپ تین تین کروڑ کے تین پلاٹ خریدیں اور بقیہ 37 کروڑ کو 3 لاکھ 8 ہزار مرغیوں میں ری انویسٹ کر کے اگلے سال 14 ارب 80 کروڑ روپے کما لیں۔ اب آپ کے پاس خواہ موبائل ہے یا گاڑی یا پلاٹ، آپ دو چار سال میں ارب پتی بن سکتے ہیں۔ اگر آپ کو ان اعداد و شمار پر یقین نہیں آ رہا تو کیلکولیٹر اٹھائیں اور خود جمع تفریق کر لیں۔ شاید کوئی غلطی نکل آئے اور منافع اس سے زیادہ بنتا ہو۔

آپ نوٹ کریں کہ اتنا اندھا دھند منافع تو منشیات یعنی ہیروئن، کوکین، چرس اور آئس وغیرہ کے پرخطر کاروبار میں بھی نہیں ہوتا جتنا مرغیوں کے کاروبار میں ہے۔ لیکن بہرحال ہم منشیات کے کاروبار کا مزید ذکر کرنے سے اجتناب کریں گے کیونکہ بات پھر ہمارے منصوبہ سازوں کی اہلیت کی جانب نکل سکتی ہے کہ انہیں پہلے یہ خیال کیوں نہیں آیا اور اب کیوں آیا ہے۔

شریف برادران کی نااہلی دیکھیں کہ انہوں نے کئی سال سے پنجاب میں لائیو سٹاک ڈیپارٹمنٹ کے ذریعے یہ مرغیاں فراہم کرنے کی سکیم شروع کی ہوئی ہے جس میں وہ 1200 روپے کی دیسی مرغی 840 میں فروخت کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود نہ تو غربت میں کمی آئی ہے، نہ لوگ ارب پتی بنے ہیں اور نہ ہی ملکی قرضہ اتر رہا ہے۔

ہم نے تحریک انصاف کے ایک ٹائیگر سے اس کی وجہ پوچھِی تو اس نے بتایا کہ شریف برادران یہ قیمتی دیسی مرغیاں غائب کر کے سارے پیسے خود کما رہے تھے اور اسی کمائی سے انہوں نے برطانیہ میں اربوں روپے کی جائیدادیں بنا لی ہیں ورنہ سکیم کے فیل ہونے کا کوئی چانس نہیں کیونکہ یہ بل گیٹس اور عمران خان نے تجویز کی ہے۔ (ختم شد)۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1037 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar