عمران خان، ڈاکٹر الف نون اور پیجو نائی


گلی میں میں ڈھول کی آواز آ رہی تھی، گاؤں دیہاتوں آج بھی گھروں کے دروازے سارا دن کھلے ہی رہتے ہیں، بس برائے نام ایک پردہ وغیرہ ہی لٹکا ہوتا ہے یا وہ بھی نہیں۔ پُنوں مراثی ڈھول کی تھاپ کے ساتھ ساتھ ہر گھر میں ایک ایک پمفلٹ بھی پھینکتا جا رہا تھا۔

اس وقت ہمارے لیے مارکیٹنگ کا یہ طریقہ بالکل نیا تھا۔ اس سے پہلے ایک مرتبہ ہم نے یہ دیکھا تھا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی دوسری حکومت سے پہلے ہیلی کاپٹر سے انتخابی پمفلٹ پھینکے گئے تھے اور ہم کھیتوں میں نوٹوں کی طرح انہیں پکڑنے کے لیے بھاگتے رہے تھے۔

پُنوں مراثی ہر ایک کو خوشخبری سنا رہا تھا کہ ساتھ والے محلے میں ڈاکٹر الف نون آ گئے ہیں۔ اس پمفلٹ پر ڈاکٹر صاحب کے نام کے ساتھ ایم بی بی ایس، ایم ایس اور کئی دیگر ڈگریوں کے نام بھی لکھے ہوئے تھے، جو ہم میں سے کسی کو بھی نہیں پتا تھے۔ ڈاکٹر صاحب ایک دم مشہور ہو گئے تھے اور پر کوئی ڈاکٹر صاحب، ڈاکٹر صاحب کرنے لگا تھا۔

ڈاکٹر صاحب کی موٹے شیشوں والی عینک اور کن پٹیوں پر سفید بال انہیں مزید معتبر بنا دیتے تھے۔ انہوں نے اپنا کلینک ایک بیٹھک میں کھولا تھا اور محلے کے بوڑھے، بچے مائیاں سبھی ان کے پاس تواتر سے علاج کے لیے جانا شروع ہو گئے۔

کچھ عرصہ بعد انہوں نے کسی آدمی کو انجیکشن لگایا اور اس کی حالت بہت ہی سیریس ہو گئی۔ ڈاکٹر الف نون نے کہا کہ انہیں کوئی بہت ہی بڑی بیماری ہے لہذا انہیں فوری طور پر کسی بڑے ہسپتال یا پھر لاہور لے جائیں۔ لاہور جا کر پتا چلا کہ ڈاکٹر صاحب نے کوئی غلط قسم کا انجیکشن لگا دیا ہے۔ پھر کچھ عرصہ بعد یہ راز کھلا کہ ڈاکٹر الف نون صاحب تو ڈاکٹر ہی نہیں ہیں۔ وہ تو فلاں فلاں جگہ اس ڈاکٹر کے پاس ڈسپنسر ہوا کرتے تھے۔ لیکن جب تک یہ پتا چلا تب تک کئی مریضوں کو وہ کسی بڑے ہسپتال یا پھر لاہور کا چکر لگوا چکے تھے۔

دوسرا واقعہ پرویز نائی کا ہے۔ اس نے بھی راؤ شفیق خان کی بنائی دکانوں میں ابھی نئی نئی دکانداری شروع کی تھی۔ سارے لوگ پرویز کو ”پیجو نائی“ کہتے تھے۔ امی جی نے مجھے بھی اس کے پاس بھیج دیا کہ تمہارے سر میں جوئیں بہت زیادہ ہو چکی ہیں فورا سے پہلے جاؤ اور سڑک کے قریب اس نئے نائی سے بال کٹوا کے آو۔

میں وہاں گیا تو پیجو نائی کی بجائے اس کا بھائی تھا وہاں۔ وہ بال کاٹتا گیا اور ٹک پر ٹک لگاتا گیا۔ جب کوئی گھنٹے بعد اسے خیال آیا کہ یہ کوئی گڑ بڑ ہو رہی ہے تو اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور بڑے بازار میں ایک دوسرے نائی کے پاس لے گیا۔ تین روپے بالوں کی کٹائی اسے دی اور جب اس نے بال کاٹے تو میری تقریبا ٹنڈ ہو چکی تھی۔

بعد میں پتا چلا کہ پیجو نائی کا بھائی تو جوتے گانٹھنے کا کام کرتا ہے، اسے تو بال بنانے ہی نہیں آتے۔

اسی طرح کا ہی ہاتھ پیجو نائی نے اس وقت کیا جب اپنا کاروبار وسیع کرنے کے چکر میں ایک ولیمے پر اس نے دیگیں پکانے کی حامی بھر لی۔ اپنے ساتھ اس نے ایک شاگرد بھی ملا لیا، جو دیگیں پکانے والوں کے ساتھ کام کر چکا تھا۔

دیگیں پکانے کی باری آئی تو کبھی کہتا پیاز کم ہے، کبھی ادرک کم ہو جاتا، کبھی مرچیں اور کبھی میوے مزید خرید کر لائیں۔ شادی والے گھر کے افراد کو اس نے بازار کے چکر لگوا لگوا کر ہلکان کر دیا۔

جب کھانا کھلانے لگے تو کئی دیگوں میں نمک زیادہ تھا، چاول ٹوٹے ہوئے تھے اور گوشت کا بھی برا حال ہو چکا تھا۔

انہوں نے پوچھا ”پیجو اے کی کیتا ای“۔ پیجو نائی کہنے لگا، میں نے تو اپنی طرف سے پوری کوشش کی ہے لیکن چاول شاید نئے تھے اس وجہ سے زیادہ پک گئے ہیں لیکن بے فکر رہیں اگلی شادی پر ٹھیک کر لیں گے۔

مجھے آج کل عمران خان صاحب کو دیکھ کر بھی ڈاکٹر الف نون، پُنوں مراثی کا ڈھول اور مارکیٹنگ کا نیا طریقہ یادآ جاتا ہے۔

اللہ نہ کرے کہیں خان صاحب بھی پانچ برس بعد یہ نہ کہہ دیں گے کہ بیماری بڑی ہے مریض کو لاہور لے جائیں اور کسی روز یہ پتا چلے کہ یہ تو فلاں ڈاکٹر کے پاس ڈسپنسر تھے۔

دوسری طرف خان صاحب کے چند وزیروں کو دیکھ کر مجھے پیجو نائی اور اس کا بھائی یاد آ جاتے ہیں۔ کہیں بال سنوارنے کے چکر میں یہ عوام کی ٹنڈ ہی نہ کر دیں اور پیجو نائی کی طرح حکومتی وزیر ولیمے والوں کے چکر لگوا لگوا کر یہ نہ کہہ دیں کہ ہم نے تو پوری کوشش کی تھی لیکن بے فکر رہیں اگلی شادی پر ٹھیک کر لیں گے۔
(ڈاکٹر الف نون کا مکمل نام نہیں لکھا گیا)

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں