ناول ٹوٹی ہوئی دیوار ۔۔آٹھویں قسط


آٹھواں باب

وقت : بارہ بجے دوپہر

تاریخ: 7 نومبر، 2015

مقام : کابل، افغانستان

گھر پہنچ کر واحدی نے کپڑے بدلے ہی تھے کہ فون کی گھنٹی بجنے لگی۔ دوسری طرف ایک انجانی سی آواز تھی، ”پروفیسر صاحب تمھارے بارے میں ہمیں سب پتہ ہے۔ تم کہاں رہتے ہو کیا کام کرتے ہو اور ابھی ابھی کہاں سے آئے ہو۔ ہم تمھیں یہ پہلی اور آخری بار فون کر رہے ہیں۔ اس کے بعد ہماری گولی ہوگی اور تمھارا سر۔ بہتر ہوگا یہ سب بکواس لکھنا بند کرو۔ تم یہودی ایجنٹ ہو غدار ہواور غداروں اور ایجنٹوں کا ہم کیا حشر کرتے ہیں تمہیں پتہ ہونا چاہیے۔ اور ہاں اِس فون کو ایزی مت لینا۔ اس سے قبل بھی تمھاری شکائتیں آئی تھی ہماری جب سے تم پر نظر ہے۔ “

واحدی کا چہرہ غصے سے سرخ ہوگیا اُس کے بھنچے ہوئے منہ سے صرف ایک لفظ نکلا، ”کون ہو تم؟ “

دوسری طرف سے جواب آیا، ”طالبان۔“ ا ور فون بند ہوگیا۔

واحدی نے ہیلو ہیلو کئی بار کہا مگر آواز ندارد۔ اُس نے فون کریڈل پر رکھ دیا۔ یہ کوئی پہلا فون نہیں تھا۔ واحدی کو ایسے فون کالز اس سے قبل بھی آتی رہی تھیں اور اس نے کبھی پرواہ نہیں کی تھی مگر اس بارلہجہ دوسرا تھا۔ واحدی چپ چاپ فون کو کچھ دیر تک تکتا رہا اور پھر ایک گہری سانس لی اورپھر الماری سے کپڑے نکال کر باتھ روم چلا گیا۔

کچھ دیر بعد جب وہ باتھ روم سے باہر نکلا تو سلپینگ ڈریس میں تھا۔ واحدی نے قریب ہی میز پر پڑی کتابوں میں سے ایک کتاب اُٹھائی اور لیٹ کر ورق گردانی کرنے لگا۔ جلد ہی اُس کو لگا جیسے کتاب پڑھنے میں اُس کا دل نہیں لگ رہا ہے شاید فون کال کی وجہ سے ایک بے چینی سی اُس میں اندر ہی اندر رینگ رہی تھی، پھر کچھ سوچ کر وہ اُٹھا اور کمپیوٹر آن کرکے اُس کے سامنے آکر بیٹھ گیا اور پھر فیس بک پر لاگ اِن ہوگیا۔ اس وقت اُس کا دل چاہ رہا تھا کہ کسی سے بیٹھ کر بے مقصد باتیں ہی کرتا رہے کیونکہ ذہن اس وقت بہت منتشر تھا اچانک ثانیہ کا میسج ان باکس میں آگیا۔

 ”کیسے ہیں سر آپ؟ “

 ”میں ٹھیک ہوں، آپ کیسی ہو ثانیہ؟ ’‘ اُس نے ٹائپ کیا۔

 ”سر کیا آپ کے پاس کچھ وقت ہے؟ میں آپ سے کچھ دیر باتیں کرنا چاہتی ہوں۔ ’‘ ثانیہ کے جواب میں سوال آگیا۔

 ”جی ضرور فرمائیں۔ میں حاضر ہوں ’‘ اس نے اپنے مخصوص لہجے کو ٹائپ کر دیا

 ’‘ سر کیا محبت۔ رنگ نسل قومیت مذہب دیکھ کر ہوتی ہے؟ ”

 ”نہیں۔’‘ اُس نے نہیں ٹایپ کرکے ایک لائین کھینچی اور پھر لکھا“ رنگ نسل قومیت مذہب دیکھ کر صرف نفرت ہوتی ہے! ’‘

 ”تو جو لوگ یہ دیکھ کر زندگیوں میں رشتے قائم کرتے ہیں اُسے آپ کیا نام دیں گے؟ ’‘

 ”سمجھوتہ ’‘ اُس نے محض ایک ہی لفظ ٹائپ کیا۔

 ”کیا سمجھوتے کے سہارے زندگی گزاری جا سکتی ہے؟ ’‘ پھر میسج باکس پر ثانیہ کا نیا سوال آگیا تھا

 ”ہاں۔ گزاری جا سکتی ہے مگر اُس میں بس محبت نہیں ہوگی ’‘ ۔

 ”تو کیا ہو گی۔ ؟ نفرت؟ گھٹن؟ غصہ؟ تکلیف؟ آنسو؟ ’‘ لگتا تھا وہ بھری ہوئی بیٹھی ہوئی تھی۔

 ’پہلے صبر۔ اور پھرعا دت! ‘ ’یہ لکھ کر بھیجنے کے فوراٌ بعد وہ دوسرا میسج ٹایپ کرنے لگا

 ” کبھی کبھی کچھ عرصہ ساتھ ساتھ رہنے کے بعد یک دوسرے کی کچھ خصوصیات بھلی بھی لگنے لگتی ہیں اور پھر عادت کو لوگ غلطی سے محبت سمجھنے لگتے ہیں، مگر ایسے رشتے اگر کسی وجہ سے ٹوٹ جائیں تو بہت زیادہ تکلیف نہیں ہوتی بلکہ بہت جلد ہی ایک دوسرے کو بھلا بھی دیا جاتا ہے اور نئی زندگی کے مسائل میں لوگ مصروف ہوجاتے ہیں، اس سے پھر جلد ہی پتہ بھی چل جاتا ہے کہ وہ محبت نہیں تھی محض ایک سمجھوتہ تھا۔ “ دوسرا میسج بھیج کر واحدی کچھ دیر انتظار کرتا رہا مگر ثانیہ کی طرف سے فوراٌ ہی کوئی میسج نہیں آیا۔ واحدی کو لگا جیسے ثانیہ لکھنے سے قبل کچھ سوچ رہی ہے کیونکہ میسج باکس پر بار بار کچھ ٹائپ ہوتا تھا مگر پھر بھی اُسے وہ میسج موصول نہیں ہورہا تھا۔ اُسے لگا جیسے وہ لکھ کر اسے بار بار ایریز کر رہی ہے ور پھر دوبارہ سے ٹائپ کر رہی ہے۔ بالاخر کچھ سیکنڈز کے بعد ایک نیا میسج ثانیہ کی طرف سے آیا۔

 ”جب ہر مذہب کی ابتدا محبت ہے، انتہا محبت ہے تو پھر وہ اتنے سارے خانوں میں بٹ کیوں گئے ہیں؟ “

 ”فکر تو خیر ایک ہی ہے بس مختلف ادوار میں مختلف اذہان سے اُس کا اظہار ہوا ہے۔ اُن اذہان کے ماننے والوں نے اپنے ادوار کے لحاظ سے اُس کو جذب کیا ہے اور مجموعی اعتبار سے محبت ہی سب کا مرکز ہے اب یہ علیحدہ بحث ہے کہ یہ فکر فطری ہے یا غیر فطری، سماجی ہے یا سیاسی، انسانی ہے یا الہامی مگر انفرادی طور پر اقوام میں بٹ کر ٹکڑوں میں تقسیم ہوگئی ہے۔ یہ فکر کھربوں اربوں لوگوں کو متاثر کرنے کی وجہ سے سیاسی طور پر استعمال ہوگئی ہے اور خاصی حد تک پرا گندہ بھی۔ ’‘ واحدی نے پرسکون انداز میں جواب تحریر کر دیا۔

 ” سرمذہب کی ابتدا کیسے ہوئی؟ ’‘ ثانیہ کا سوال بھی باکس میں آگیا

 ”خوف، لاعلمی اور تنہائی سے۔ “ واحدی نے فوراٌ ہی ٹا ئپ کر دیا

 ” محبت؟ “ لگتا تھا ثانیہ نے حیرانگی سے یہ لفظ ٹائپ کیا تھا!

 ”ہاں محبت کو مذہبی دانشوروں نے خوف اور تنہائی کے علاج کے لیے استعمال کیا اور لاعلمی کے نتیجے میں خدا کی تخلیق کی اور اُس سے منسوب کر دیا ’پھر اُس خدا کی انسانی نفسیات کے لحاظ سے کہیں تقسیم ہوئی تو کہیں جمع! ‘ ’واحدی جیسے آنکھیں بند کرکے لکھ رہا تھا۔

 ’‘ آپ اِس قدر پر اعتماد کیسے ہیں اس بات میں؟ ’‘ ثانیہ نے حیرانگی سے ٹائپ کیا

 ’‘ اس لیے کہ خدا کی تخلیق صرف مذہبی ادوار اور علاقوں میں ہوئی اُن کا ظہور سائنس و فلسفے کے ادوار اور علاقوں میں نہیں ہوا اور نہ ہی ممکن ہے۔ ! ”

 ”سر کیا آپ محبت پر یقین رکھتے ہیں؟ “ ثانیہ نے شاید جھجکتے ہوئے ٹائپ کیا

 ”ہاں! ’‘ واحدی نے پر اعتماد ی سے جواب لکھا ’‘ اور آپ خدا کے نظریے پر یقین نہیں رکھتے؟ ’‘ ثانیہ نے اب کی بار بلا جھجک ہو کر لکھ دیا

 ”نہیں! ’‘ واحدی نے پھر اُسی پر اعتمادی سے جواب دیا

 ”کیا خدا کے تصور کے بغیر محبت ہوسکتی ہے؟ ’‘ ثانیہ نے کچھ سوچ کر لکھا

 ”ہاں ہو سکتی ہے ’‘ ۔ اور پھر کچھ وقفے کے بعد واحدی نے ایک اور میسج اپنے ہی میسج کے فوراٌ بعد لکھ دیا۔

 ”اصل میں وہی اصل محبت ہے جو خوف یا تنہائی کے خاطر نہ کی جائے۔ یعنی خدا اور محبت کا رشتہ بھی غور طلب ہے! “

 ” سر آپ سے ایک پرسنل سوال پوچھ سکتی ہوں؟ “ ایک بار پھر جیسے ثانیہ نے جھجکتے ہوئے لکھا۔ ”آپ نے کبھی کسی سے محبت کی ہے؟ “

 ”ہاں۔ کی ہے مگر اب وہ کسک کی شکل میں رہ گئی ہے۔ میری محبوبہ کو مرے بیس سال ہوگئے ہیں۔ اب میں جذبوں کی تروتازگی سے کہیں آگے چلا گیا ہوں۔ میری کسک میری طاقت ہے وہ میرے جینے کا سہارا ہے! ’‘ واحدی نے خیالوں میں بہتے ہوئے ٹائپ کیا۔

 ”پھرآپ نے کسی اور سے شادی نہیں کی؟ ’‘ ثانیہ نے جواب میں سوال لکھ دیا

 ”میں نے اپنی محبوبہ سے بھی شادی نہیں کی تھی، اُسے مجھ سے پیار کرنے کی سزا ملی تھی، اُس پر بد کرداری کا الزام لگا تھا کیونکہ ہم ایک دوسرے سے چھپ کر ملتے تھے۔ اُس کے خاندان نے میرے ماں باپ اور اپنی بیٹی کو مار دیا، میں بھی زخمی ہو گیا تھا مگر بچ گیا، میرے لیے زندہ رہنے کے لیے اُس کی یاد ہی بہت ہے، پھر کبھی کوئی دوسری عورت مجھ میں وہ جذبہ پیدا نہیں کرسکی جو اپنی محبوبہ کو دیکھ کر مجھ میں جاگا تھا۔ ’‘

 ”کیا آپ کی محبوبہ الگ مذہب سے تھی؟ ’‘ ثانیہ نے پھر لکھا

 ”وہ الگ فرقے سے تھی اور ایک الگ قبیلے سے بھی۔ “ واحدی نے اسکرین کو تکتے ہوئے، کی بورٖڈ کی طرف دیکھے بغیر ایک لائن اور ٹا ئپ کی، ”میں مذہب کو نہیں مانتا مگر محبت کے بنا شادی کو اخلاقی جرم سمجھتا ہوں۔ “

کچھ دیرتک واحدی انتظار کرتا رہا مگر اُسے لگا جیسے ثانیہ کے پاس اب بات کرنے کے لیے کچھ بچا نہیں ہے۔ مزید کچھ سیکنڈ واحدی نے انتظار کیا اور پھر خدا حافظ ٹائپ کر کے کپیوٹر ہی ٹرن آف کردیا۔

ٹوٹی ہوی دیوار۔ نویں قسط اگلے ہفتے

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں