پاکستان میں بار بار معاشی بحران کیوں پیدا ہوتا ہے؟


گزشتہ سال سے ہی ادائیگیوں کے توازن کا بحران خاموشی سے پاکستان میں پل رہا تھا۔ زرمبادلہ کے سکڑتے ہوئے ذخائر اور بڑھتی ہوئی درآمدات کی وجہ سے ملک اپنی بیرونی ادائیگیوں کی ضروریات پوری کرنے کی جدوجہد میں مصروف تھا۔
اس وقت ملک کو دہرے خسارے کا سامنا ہے جس کی وجہ سے اسے مالی اور بیرونی کھاتوں کا توازن برقرار رکھنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ یہ پاکستان کے لیے کوئی نیا چیلنج نہیں ہے، اس کی میکرو اکنامکس کی سطح پر موجود کمزوریاں ہر چند سال بعد سطح پر ابھر آتی ہیں جس کی وجہ سے اسے بیرونی بیل آؤٹ کی تلاش پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔ 2008 میں پرویز مشرف کی فوجی حکمرانی کے بعد آنے والی سیاسی حکومت کو انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) سے ایمرجنسی امداد مانگنا پڑی تھی۔
چھ برس بعد جبکہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں گر رہی تھیں، نواز شریف کی قیادت میں اگلی حکومت نے بھی ایک آئی ایم ایف پروگرام پر دستخط کیے۔ اقتدار میں آنے کے صرف تین ماہ بعد پاکستان کی نو منتخب حکومت زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے اور ممکنہ معاشی تباہی سے بچنے کے لیےسر توڑ کوشش کر رہی ہے۔
اگرچہ پاکستان میں بار بار در آنے والے معاشی بحران کی کئی وجوہات ہیں جن میں برآمدات کا غیرمتنوع ڈھانچہ اور لارج اسکیل مینوفیکچرنگ کا تقریباًمنجمد ہو جانا شامل ہیں، تاہم ملک کا حقیقی معاشی مسئلہ اس کی مالی بدانتظامی ہے۔
مالی خسارہ رواں برس جی ڈی پی کے 6.2 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔ اخراجات پر محدود پابندیاں، سیاسی مصلحتوں کے تحت کیے گئے ترقیاتی اخراجات اور نقصان میں جانے والے سرکاری اداروں کو دی گئی امداد اور حقیقی ٹیکس اصلاحات میں ناکامی اس مالی خسارے کی حقیقی وجوہات ہیں۔
یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں نے امیروں پر براہ راست ٹیکس عائد کرنے کے بجائے اندرونی اور بیرونی قرضوں کے ذریعے آمدنی اور اخراجات میں توازن برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے۔ ملک کی اشرافیہ موثر انداز میں مالی دھوکہ دہی کے ذریعے معاشی استحکام کا ایک سراب پیش کرتی رہی ہے حالانکہ درحقیقت معیشت کا وجود قرض لینے پر قائم رہا اور اسے مستقل طور پر اچانک معاشی تباہی کا خطرہ لاحق رہا ہے۔
اشرافیہ خود پر ٹیکس عائد نہیں کرنا چاہتی
اس مالی نظام کو برقرار رکھنے کی قیمت غریبوں، آنے والی نسلوں اور معیشت کے پیداواری سیکٹرز کو منتقل کر دی جاتی ہے۔ 220 ملین لوگوں میں سے صرف ایک فیصد افراد براہ راست انکم ٹیکس ادا کرتے ہیں جس کے باعث ٹیکسوں کا بوجھ بالواسطہ ٹیکسوں کے ذریعے غریبوں کو منتقل کر دیا جاتا ہے۔
خسارہ پورا کرنے کے لیے بلادریغ قرض لینا معاشی بوجھ اگلی نسلوں کو منتقل کرنے کے مترادف ہے۔ موجودہ انتظام منظم انداز میں حقیقی معیشت میں پیداواری سرگرمی کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔
مسلسل اندرونی قرضے لینے کا مطلب یہ ہے کہ بینک پرائیویٹ شعبے کے لیے ضروری رقم حکومت کو فراہم کرنے پر قانع ہو جاتے ہیں۔ آمدنی بڑھانے کی شدید ضرورت ٹیرف پالیسی کا حلیہ بگاڑ دیتی ہے اور پرائیویٹ شعبے کی مقابلے کی صلاحیت کمزور کرتی ہے۔
مالی انتظام صرف اس حد تک سنبھل سکتا ہے کہ ملک کی رعایتی بین الاقوامی امداد تک رسائی ہو سکے۔ غیرملکی امداد مختصر مدت کے لیے وسائل پر بوجھ کم کر سکتی ہے لیکن اس کی وجہ سے اصلاحات کرنے کا حکومتی جذبہ ماند پڑ جاتا ہے۔
اس پس منظر میں سعودی عرب سے حال ہی میں 6 ارب ڈالر کے امدادی پیکج کا اعلان ایک اخلاقی خطرے کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس کی وجہ سے ایک بار پھر حکمران اشرافیہ کوئی بھی ایسی حقیقی اصلاحات لانےسے پرہیز کریں گے جو ایک نئی تقسیم کے ذریعے اپنی معاشی طاقت سے محروم کر دے۔
اگر ماضی کے آئینے میں دیکھا جائے تو آئی ایم ایف کا پروگرام بھی اشرافیہ کی اصلاحات لانے کے محرک پر منفی اثر ڈالے گا۔ پاکستان کے تزویراتی سطح پر فیصلہ کرنے والے اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ اگر پاکستان پس پردہ امریکہ کو جیو پولیٹیکل رعایتیں دیتا ہے تو اسے آئی ایم ایف کا پیکج فوری طور پر مل سکتا ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان ایسا کوئی معاہدہ ہونے کے بعد آئی ایم ایف کی ٹیم سامنے آئے گی اور ضروری اکاؤنٹنگ کی مشق کرے گی اور پھر، جیسا کہ ماضی میں ہو چکا ہے، جب فیصلہ کن مرحلہ آئے گا تو آئی ایم ایف سیاسی طور پر حساس اصلاحات کے معاملے پر ایک بار پھر استثنیات اوررعایتین دینا شروع کر دے گا۔ اس پس منظر میں سعودی عرب کی حمایت اور ایک ممکنہ آئی ایم ایف معاہدہ اشرافیہ کی جان چھڑا دے گا۔ پاکستان میں جی ڈی پی سے ٹیکس کی شرح مستقبل طور پر کم ہے (اس وقت جی ڈی پی کا 10 فیصد ہے) جو کہ بھارت اور بنگلہ دیش جیسے ہمسائیہ ممالک اور دیگر ایک جیسی آمدنی رکھنے والے ممالک سے کم ہے۔ ٹیکس کا نظام پیچیدہ، غیرموثر، رجعت پسندانہ، بالواسطہ ٹیکسوں پر غیرضروری انحصار کرنے والا اور کئی قسم کی استثنیات پر مشتمل ہے۔
مثال کے طور پر فیڈرل بورڈ آف ریوینیو (ایف بی آر) ڈیوٹیز اور ٹیرف پر مستقل استثنیات کا اعلان کرتا رہتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق 2011 میں آدھی سے زیادہ ٹیرف لائنز کو اس طریقے سے ٹیکس سے استثنی دیا گیا۔
اگرچہ زرعی شعبے کا ملکی جی ڈی پی میں 20 فیصد کے قریب حصہ ہے اور یہ ایک اہم آجر ہے لیکن عملاً یہ شعبہ براہ راست انکم ٹیکس سے بچا ہوا ہے۔ سیاسی طور پر بااثر زمیندار طبقہ ایسی استثنیات سے براہ راست فائدہ اٹھاتا ہے۔
گزشتہ دو دہائیوں کے دوران ابھرتا ہوا شہری اور رئیل اسٹیٹ کا شعبہ بھی ٹیکس اکٹھا کرنے والوں کی رسائی سے باہر ہے۔ اگرچہ رئیل اسٹیٹ کا شعبہ پاکستان سے پیسے کے فرار سے جڑا ہوا ہے (انکے نفع سے عموماً دبئی، لندن اور ٹورانٹو کی جائیدادوں میں سرمایہ کاری کی جاتی ہے)، اس کے باوجود شہری جائیداد پر معمولی سا ٹیکس لگایا جاتا ہے اور رئیل اسٹیٹ کے سودوں کے ذریعہ حاصل کردہ رقم پر انتہائی کم ٹیکس عائد ہوتا ہے۔
اسی طرح خدمات کے شعبے میں ہونے والی وسعت کی وجہ سے ڈاکٹروں اور وکلا جیسے پروفیشنلز کی آمدنی بڑھ گئی ہے لیکن ان میں سے ٹیکس دینے والوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔ پرچون فروش تاجران نے ایک طویل عرصے سے ویلیو ایڈڈ ٹیکس کے خلاف مزاحمت کی ہے جو بالواسطہ ٹیکس سے زیادہ بہتر طریقہ سمجھا جاتا ہے اور ملکی معیشت کو دستاویزی شکل دینے میں ایک اہم قدم ہے۔

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے 

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

ڈاکٹر عدیل ملک کی دیگر تحریریں
ڈاکٹر عدیل ملک کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں