انڈے کتنے اچھے ہیں


آمنہ مفتی دو برس پہلے اپنے ایک کالم ”مرغی تو نے اچھا کیا“ میں لکھتی ہیں
مرغے میں نے انڈا دیا۔
مرغی تو نے اچھا کیا
انڈے کتنے اچھے ہیں
پاؤں تیرے ننگے ہیں
انڈے بیچو، جوتے لو

یہ نظم میری نہیں۔ یہ نظم کس کی ہے۔ مجھے معلوم نہیں، شاید لکھتے ہوئے کچھ الفاظ بھی آگے پیچھے ہو گئے ہیں، لیکن نظم کا مقصد جو مجھے سمجھ آیا وہ یہ ہے۔ کہ مرغی کے انڈے بیچ کر زندگی کی بنیادی سہولیات خریدی جا سکتی ہیں۔

یہ نظم مجھے کافی تلاش کے بعد مل تو گئی لیکن اس کے ساتھ ہی مجھے عمران خان کا تازہ بیان بھی میسر آگیا جس میں انھوں نے سو روزہ کارکردگی دوران جو معیشت کی بہتری اور دہی خواتین کو مرغی دینے کے لئے نسخہ دیا تھا اس پر اٹھایا جانے الے سوشل میڈیا کے بیانات پر بالآخر لب لشائی کر ہی دی۔ ”کہا دیسی لوگ کوئی بات کریں تو غلامانہ ذہنیت والے مذاق اڑاتے ہیں، ولایتی لوگ مرغی اور غربت کے خاتمے کی بات کریں تو وہ شاندار کہلاتا ہے۔۔ ”یاد رہے وزیراعظم نے 100 روزہ کارکردگی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ لاہور میں بہت جلد ایک بہت بڑی منڈی کا افتتاح ہو گا، دیہی علاقوں میں غربت کے خاتمے کے لئے پروگرام لارہے ہیں، سیم والے علاقوں میں جھینگا فارمنگ کی جاسکتی ہے۔ دیہی خواتین کو دیسی مرغیاں، انڈے اور چوزے دیے جائیں گے، یہ سب ایسے اقدامات ہیں جن پر زیادہ اخراجات نہیں آئیں گے اور اس کا براہ راست فائدہ غریبوں کو پہنچے گا۔“ ویسے کوئی کہہ رہا کہ یہ سب باتیں شیخ چلی جیسی ہیں۔ ”

ادھر اپوزیشن کو تو جیسے کوئی نیا کھلونا مل گیا کسی نے کہاسیاستدان ملک کو ایٹمی طاقت بناتے ہیں ایک عمران خان صاحب ہیں انڈے اور مرغی کی باتیں کرر ہے۔ ہیں، ادھر سوشل میڈیا پر تو نا جانے کی کیا کہا جارہا ہے۔ جیسے۔ ”اب مرغی کے ہاتھوں میں ہے۔ اس قوم کی تقدیرہر انڈہ ہے۔ ملت کے مقدر کا ستارہ۔“ ابھی میں یہ سب کچھ لکھنے کے لئے ذرا چیزیں کھنگال ہی رہی تھی کہ یاد آیا کہ 2015 میں پنجاب حکومت میں اس وقت کے خادم اعلی نے جناب شہباز شریف نے 45 ہزار مرد وخواتین کو بطور لائیو اسٹاک ٹرینگ کا تربیتی پروگرام کا انعقاد بھی کرواچکے ہیں۔

انٹرنیشل پولٹری ایکسپو جس کا انعقاد بھی کروایا گیا اور تین روزہ یہ نمائش 10 سے 12 ستمبر تک جوہر ٹاؤن لاہور میں منعقد کی گئی تھی اور بینرز پر لکھا ہے۔ کہ سنڈے ہو یا منڈے روز کھاؤ انڈے اور مرغی کا تاج بھی بینر کی زینت ہے۔ سب چھوڑیں سندھ بورڈ آف اینوسٹمینٹ کی جانب سے پچھلے سال سکھر میں لائیو اسٹاک اور دیہی آبادی کو اس فائدہ پہنچانے کے لئے نمائش اورآ گہی کی تین روزہ ایکٹویٹی بھی کی تھی۔ ”تو یہ تو واضع ہے کہ لائیواسٹاک پر بات کرنا کوئی نئی بات نہیں اور بے وجہ تنقید کی بھی کوئی ضرورت نہیں، یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے۔ کہ پاکستان دنیا میں دودھ کی پیداوار میں چوتھے نمبر پر ہے۔

عمران خان نے لاہور چیمبر آف کامرس سے خطاب میں کہا ہے۔ کہ ”روپے کی قدر میں کمی سے گھبرانے کی ضرورت نہیں۔“ حلال گوشت کی مارکیٹ 2 ہزار ارب ڈالرز کی ہے۔ جبکہ پاکستان کا حلال گوشت کی مارکیٹ میں کوئی حصہ نہیں، حلال گوشت مارکیٹ سے فائدہ اٹھانے کی بات کریں تو مذاق اڑایا جاتا ہے۔ تو ان سب باتوں کے تناظر میں دیکھا جائے تو عمران خان نے کوئی ایسی نئی بات نہیں کہی جس پر ان کی اتنی لیے دیے ہو 2016 میں مائیکروسافٹ کے بانی اور دنیا کے امیر ترین شخص بل گیٹس نے غربت سے نمٹنے کے لیے ’مرغیاں پالو اور غربت مٹاو‘ نامی ایک منصوبے کا اعلان کیا تھا، جس کے تحت برکینا فاسو اور نائیجیریا سمیت مغربی افریقی ممالک کو ایک لاکھ چوزے عطیہ کیے جانے تھے لیکن کیا کریں ان کا جو کہہ رہے کہ موجودہ حکومت، مرغی معیشت ’اور‘ انڈہ اکانومی ’ ہے اب کسی کی زبان تو روکی نہیں جاسکتی البتہ اپنے عمل سے حکومت کو یہ ثابت کرنا ہو گا کہ انڈے اور مرغی سے غربت جیسے عفریت سے کیسے نکلا جاسکتا ہے۔۔

سیانے کہتے ہیں صحبت کا اثر ہوتا ہے۔ عمران خان کی تین ازدواج کا اثر ان کی زندگی میں بخوبی نظر آتا ہے۔ جیسے جمائما کے ساتھ کے دوران عمران خان یورپی ممالک کی ترقی سے مرعوب تھے۔ ”جو شاید آج بھی کسی حد تک ہیں لیکن ریحام خان کے ساتھ کہ دوران عمران خان پر میڈیا اور خوش لباسی کا غلبہ رہا۔“ اور اب بشری بی بی کا دور ہے۔ اور عمران خان کی باتوں میں بھی دیسی عنصر عیاں ہے۔ جیسے مرغی اور انڈے سے معیشت کی بہتری کا نسخہ کی بات ہو یا مدینہ جیسی ریاست کے تصورات تو صحبت کا اثر تو ہوتا ہے۔

چلیں اس بحث میں رکھا ہی کیا، اب اسد عمر جیسی فراست میرے پاس ہے نہیں کہ معیشت کی بہتری پر کچھ بتا سکوں البتہ میری ناقص رائے میں ”ایک وقت تھا جب پاکستان کا شمار روئی، چاول، اور چائے برآمد کرنے والے سرکردہ ممالک میں ہوتا تھا جراحی کے آلات اور کھیلوں کے سامان کی صنعت تو اب بھی کوئی ثانی نہیں رکھتی چمڑا اور اس کی مصنوعات دستی قالینوں کی برآمد بھی ہماری معیشت کے لئے بہت بڑا ذریعہ ہے۔ اور یہ بات تو ہم جانتے ہیں کہ ملک کی کل آبادی کا 70 فیصدحصہ آج بھی زراعت سے وابستہ ہے۔ اور اس ہی وجہ سے پاکستان کی معیشت کا انحصار زراعت کی ترقی پر ہے۔۔“ زراعت کے شعبے میں ہم کیا کر ہے۔ ہیں وہ بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ ”بے زمین ہاری۔“ غربت سے بری طرح متاثر ہیں۔

جاگیر دارانہ نظام، ایک ظالمانہ نظام بن گیا ہے۔ اب کوئی عمران خان سے پوچھے کہ ان کی اپنی جماعت میں کتنے زمیندار ہیں اور کتنے شگر مل ملکان؟ ادھرڈالر کی اچانک اونچی اڑان نے عوام کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ کیونکہ بیرون ملک زیر تعلیم طالبعلموں کو فیس کی ادائیگیوں میں شدید پریشانی پیش آر ہی ہے۔۔ ڈالر اچانک 134 روپے سے 142 روپے پر پہنچ گیا لیکن چند گھنٹوں کے بعد وہ چار روپے کمی کے ساتھ 138 روپے پر آ کر رک گیا۔

عوام کی صدائیں میرے کانوں میں گونجتی ہیں باتیں بہت ہیں جو شاید کہی اور لکھی جا سکتی ہیں لیکن میرا سوال ہمیشہ سادہ ہی ہوتا ہے۔ کہ کیا اس ملک میں رہنے والے کے لئے دو وقت کی کا حصول آسان ہے اور اس کا جواب جو کہ ہم جانتے ہیں کہ نفی میں ہی ہے۔ تو پھر کوئی مرغی بیچے یا انڈے، اگر حالات اس طرح  سدھرنے ہیں تو بس کر جائیں، کیونکہ مذاق سے ہٹ کر حقیقت یہ ہے کہ غریب مر گیا ہے، بے روزگاری منہ چڑاتی ہے۔ نوجوان اس احساس محرومی کے ساتھ منشیات جیسی لت کا شکار ہوتے ہیں، بوڑھے ماں باپ کی دوا لانے کے لئے پیسے نہیں۔“ بچوں کو پھل جیسی نعمت سالوں میں میسر آتی ہے۔ بعض دفعہ یہ سب لکھتے ہوئے آنکھیں نم ہوجاتی ہیں لیکن شاباش ہے۔ حکمرانوں پر کہ کہیں سے کوئی اصلاحی بات سننے کو ملے اور عمل سے تو خیر ہمارا کیا واسطہ دور جدید میں مرغے بھی بے وقت بانگ دیتے ہیں، اور بہت سے لوگ اس کی بانگ پر کان نہیں دھرتے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

ثنا ہاشمی کی دیگر تحریریں
ثنا ہاشمی کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں