گھوٹکی کا پریمی جوڑا اور اسلام آباد میں ٹیلیفون پر حکم سناتی عدالت


ہماری نئی حکومت نئے پاکستان میں انڈے اور مرغیاں بیچ کر ترقی کرنے کے فارمولے پر عمل در آمد کرتی نظر آتی ہے اور پرانے پاکستان والے سیاستدان نیب ریفرنس، جعلی اکاؤنٹس اور کالے دھن کے الزامات کی صفائی دے رہے ہیں نیز پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے 100 دنوں میں کاشت کردہ پودینے کے باغات گنوا رہے ہیں۔ ہمارے محترم ہر دل عزیز بڑے قاضی صاحب ڈیم بنانے کی چندہ مہم اور بڑھتی ہوئی آبادی کو کنڑول کرنے کے لیے کانفرنس کے انعقاد میں مصروف عمل نظر آتے ہیں۔ اصل میں جو کام حکومت کو کرنا چاہیے وہ کام ہمارے محترم بڑے قاضی صاحب کو کرنے پڑ رہے ہیں اور ساتھ ساتھ نئے اور پرانے پاکستان کے حکمرانوں کی ظلم و زیادتی کا بھی نوٹس لینا پڑ رہا بے مگر یہ بے لگام حکمران 62 ون ایف کو سمجھنے سے قاصر دکھائی دیتے ہیں۔

ایسے میں سندھ کے ضلع گھوٹکی سے تعلق رکھنے والے پریمی جوڑے غلام رسول بھٹو اور ان کی اہلیہ زرینہ بھٹو کی کون سنے گا جن کو پیار کی شادی کرنے کہ وجہ سے کارو کاری قرار دے دیا ہے اور وہ اپنی جان بچانے کے لیے ملک کے دارلخلافہ اسلام آباد آئے کہ یہاں پر تو پارلیمنٹ ہے، وزیر اعظم ہے اور چیف آف آرمی اسٹاف اور اعلیٰ عدلیہ کا چیف جسٹس ہے کوئی تو ان کی داد رسی کرے گا کوئی تو ان کی فریاد سنے گا تاکہ کسی بھی صورت ان کی جان بچ سکے۔ مگر دس ماہ سے پریس کلب اسلام آباد کے باہر کھلے آسمان کے نیچے دہائی دیتے آخر کار تنگ ہو کر انہوں نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے سامنے اپنے آپ کو زنجیروں میں باندھ کر احتجاج کرنے کی جرأت کی کہ شاید چیف جسٹس صاحب ان کی فریاد سن لے۔ چیف صاحب نے تو نہیں سنا مگر پولیس والوں نے ان کی سن لی اور ان دونوں کو پکڑ کر تھانہ سیکریٹریٹ میں ایک رات حوالات کا مزا چکھایا اور ایک خاتون پولیس اہلکار نے زرینہ بھٹو کو تھانے کے احاطے میں گالی گلوچ کرتے ہوئے تشدد کا نشانہ بنایا اور دوسرے روز اسلام آباد کے مجسٹریٹ ایڈیشنل کمشنر سٹی ڈاکٹر حسن وقار چیمہ کی عدالت میں پیش کیا گیا۔

چیمہ صاحب کی عدالت نے ان کو سزا سناتے ہوئے جیل بھیجنے کا حکم صادر فرما دیا جب ہمارے صحافی دوست غلام رسول کمبھر نے شور مچایا کہ مجسٹریٹ صاحب کہاں ہیں ان کی کرسی تو خالی ہے تو وہاں پر موجود پولیس والوں نے بتایا کہ صاحب گھر پر موجود ہیں اور سزا ٹیلیفون پر سنائی ہے۔ جب شہر اقتدار میں ایسا اندھا قانون ہو اور مجسٹریٹ گھر سے ٹیلیفون پر عدالتیں چلاتے ہوں ایسے میں ہم کیا توقع کر سکتے ہیں قانون و انصاف کی دیوی سے اور نئے اور پرانے پاکستان کی نورا کشتی کرنے والوں سے؟ اس طرح کی صورتحال میں بھلا کیسے اس ملک میں کسی غریب اور بے سہارا کو انصاف مل سکے گا۔ ہمیشہ کی طرح اس ملک میں وہی جنگل کا قانون چلتا رہے گا اور جس کے ہاتھ میں لاٹھی ہوگی بھینس بھی اسی کی ہو گی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں