انڈے مرغی کا کاروبار اور قرض کی واپسی


وزیراعظم پاکستان نے انڈے مرغیوں اور کٹوں کے ذریعے معیشت کی بحالی کا ذکر کیا کر دیا، سب لٹھ لے کر ان کے پیچھے ہی پڑ گئے۔ کسی نے شیخ چلی کی واپسی کی پھبتی کسی، کسی نے گرم انڈے بیچنے والے کا طعنہ دیا، کسی نے ککڑی پی ایم کے طنز کے تیر برسائے۔ کسی نے انہیں شیخ چلی کی انڈے بھری ٹوکری اٹھانے والا قرار دے دیا۔ کوئی ستم ظریف یوں طعنہ زن ہوا کہ پوری دنیا کے حکمران ہمارے وزیراعظم سے انڈے مرغیوں کے کاروبار کے گر دریافت کرنے کے لیے وقت مانگ رہے ہیں۔ کچھ تو ایسے بے لحاظ اور سنگدل ہیں جو انہیں انڈوں پر بیٹھا وزیراعظم کہنے سے بھی نہیں چوکتے۔ غرض جتنے منہ اتنی باتیں۔ ادھر پولٹری کے کاروبار سے وابستہ لوگ خوشی سے پھولے نہیں سما رہے ہیں اور مرغیوں کے نخرے تو آسمان پر پہنچے ہوئے ہیں۔ وہ اپنی ہی تعریف میں یوں رطب اللسان ہیں کہ
ملا ہے ارفع و اعلٰی مقام مرغی کو
ویسے حمزہ شہباز کو ککڑی کا طعنہ دینے والوں کو وزیراعظم نے مشکل میں ڈال دیا ہے۔ ان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ اپنے وزیراعظم کے اس بیان کے فضائل و مناقب کس طرح بیان کریں۔ کچھ ایسے بھی ہیں کہ جنہیں درختوں کے ساتھ پھلوں کی جگہ بھی انڈے مرغیاں ہی نظر آ رہی ہیں۔ خود وزیراعظم کا بھی یہی حال ہے۔ وہ اس بیان کی ناقابل یقین پذیرائی کے بعد عالم بیخودی و سرشاری میں محو تھے کہ اچانک انہیں ڈالر کی اونچی پرواز سے متعلق بتایا گیا۔ بس پھر کیا تھا،انہوں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ حکومت وقت کو بے نقط سنانا شروع کردیں۔ وہ تو بھلا ہو بشریٰ بی بی کا کہ جنہوں نے انہیں گندا انڈا سنگھا کر بڑی مشکل سے یقین دلایا کہ وزیر اعظم آپ ہیں۔ تب انہوں نے فوراً یوٹرن لے کر ڈالر کے مہنگا اور اپنی کرنسی کی بے قدری کے فضائل بیان کرنا شروع کر دیے۔ یاد رہے کہ یہ وہ گندا انڈا ہرگز نہیں تھا جس کے متعلق شاعر مشرق نے گلی میں پھینکنے کا مشورہ دیا تھا۔

وزیراعظم کے مرغیوں انڈوں کے ذریعے کاروبار کو دن دگنی رات چگنی ترقی دینے کے مشورے پر کچھ لوگوں نے عمل پیرا ہونے کی سعی تو کی مگر ساتھ ہی بقول شاعر اس خدشے کا بھی اظہار کیا کہ
مہ جبینوں کی محبت کا نتیجہ نہ ملا
مرغیاں پالیں مگر ایک بھی انڈا نہ ملا

انڈا نہ ملنے کی وجہ شاید یہ ہو کہ شاعر کے ڈربے میں ساری مرغیاں ہی ماڈرن اور سمارٹ تھیں جنہیں شاعر کی معیشت سے زیادہ اپنی خوبصورتی اور حسن و جمال کی فک تھی۔ ایسی ہی ایک مرغی ایک دکاندار سے انڈا خریدنےگئی تو اس نے ترنت پوچھا کہ وہ خود انڈےکیوں نہیں دیتی۔ مرغی نے برجستہ جواب دیا کہ اس سے اس کے فگرز خراب ہوجائیں گے۔ مگر ہمیں یقین ہے کہ وزیراعظم کے ڈربے میں ایسی خودنمائی اور غرور و تکبر کی ماری مرغیاں نہیں ہوں گی اس کے برعکس ان کے پاس سونے کا انڈا دینے والی مرغیاں بھی بڑی تعداد میں ہوں گی۔ فی الحال تو ایک دو ہی دریافت ہوئی ہیں وزیراعظم اگر اپنی منجی تلے ڈانگ پھیریں گے تو انہیں ہزاروں ایسی مرغیاں مل جائیں گی۔ مگر وزیراعظم کو ان کے لیے کچھ دیسی مرغوں کا انتظام بھی کرنا پڑے گا کیونکہ بقول شاعر

بِنا مرغے کے پَر جھٹکتی ہیں
مرغیاں در بہ در بھٹکتی ہیں

ہمارے وزیراعظم کئی بار اپنی تقریروں میں ناممکن کو ممکن بنانے کی بات کرچکے ہیں۔ ابھی کل ہی انہوں نے مسئلہء کشمیر کے پر امن حل کی خوش خبری سنا کر قوم کو نہال کردیا۔ مسئلہ کشمیر سے نمٹ کر شاید وہ اپنے ڈربوں میں اس قدر دیو ہیکل اور جسیم و لحیم مرغیاں بھی پیدا کر دیں کہ جنہیں باربرداری اور کھیتی باڑی کے لیے بھی استعمال کیا جاسکے تاکہ تیل وغیرہ کی بچت کی جا سکے۔ ہم وزیراعظم سے یہ بھی استدعا کریں گے کہ وہ اپنے ان چاہنے والوں کو روکیں جو خاصے جلد باز اور ہتھ چھٹ واقع ہوئے ہیں اور بیچارے کتنے ہی گرم انڈے بیچنے والوں کو پی ٹی آئی پر طنز و تعریض کا حربہ سمجھ کر ان کی سر عام درگت بنا چکے ہیں۔

وزیراعظم نے مرغیوں کو حکومت کی طرف سے مفت ٹیکے لگانے کی بھی فراخ دلانہ پیشکش کی ہے۔ سرِ دست تو وہ اور ان کی کابینہ غریب عوام کو آئے دن مہنگائی اور گرانی کے ٹیکے لگا رہے ہیں۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ ہمارے وزیراعظم کے معیشت کی بحالی کے انقلابی اعلان کے بعد آئی ایم ایف،عالمی و ایشیائی بینک اور دوسرے ممالک بغلیں بجا رہے ہیں کہ انہیں اپنے بھاری قرضوں کی رقم کی واپسی کے روشن امکانات دکھائی دینے لگے ہیں۔ یہ بالکل ویسا ہی تیر بہدف اورکارگر نسخہ ہے جو کسی زمانے میں ایک مقروض نے قرض لینے کے کئی سال بعد قرض خواہ کے سامنے پیش کرتےہوئے کہا تھا کہ وہ گھبرائے نہ کیونکہ اس کے قرض کی ادائیگی کی عملی صورت نکل آئی ہے اور بہت جلد یہ ادا بھی ہوجائے گا۔ قرض خواہ نے جب حیرت سے ممکنہ سبیل کے بارے میں دریافت کیا تھا تو اس نے کچھ یوں جواب دیا تھا۔

میری ایک دور افتادہ زمین ہے۔ اس سال سے خانہ بدوشوں نے اپنی بھیڑ بکریوں سمیت وہاں سے گزرنا شروع کیا ہے۔ وہ سال میں دو مرتبہ گزرا کریں گے۔ میں نے وہاں رسی باندھ لی ہے۔ جب سیکڑوں کی تعداد میں بھیڑ بکریاں گزریں گی تو ان کے جسم رسی سے رگڑ کھائیں گے،جس سے ان کی اون اور بال زمین پر گریں گے۔ وہ اون اور بال میں سمیٹتا رہوں گا۔ جب منوں ٹننوں کے حساب سے ہو جائیں گے تو انہیں منڈی میں بیچ دوں گا۔ جو پیسے ملیں گے خود بھی عیاشی کروں گا اور تمہارا قرض بھی تمہارے منہ پر ماروں گا۔ یہ رام کہانی سن کر قرض خواہ کے چہرے پر زہرخند مسکراہٹ پھیل گئی،جسے دیکھ کر مقروض نے فخریہ انداز سے کہا کہ دیکھا!جب قرض کی واپسی کی فوری یقینی صورت نظر آئی تو کیسے خوشی سے پھولے نہیں سما رہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں