بھارتی آرمی چیف کی کھلی مداخلت پر پاکستان خاموش کیوں؟


ایک طرف وزارت خارجہ اس بات پر افسوس کا اظہار کر رہی ہے کہ بھارتی میڈیا کا بڑا حصہ کرتار پور راہداری کے حوالے سے منفی تاثر قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے تو دوسری طرف بھارتی آرمی چیف جنرل بپن راوت کے اشتعال انگیز بیان پر پاکستان کی طرف سے کوئی سخت رد عمل دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ملتان میں اخباری نمائندوں کے سوالوں کے جواب میں صرف اتنا کہنے پر اکتفا کیا ہے کہ ’پاکستان ایک نظریہ کی بنیاد پر وجود میں آیا تھا۔

بھارتی آرمی چیف کے تبصرہ سے ہمارا نظریہ تبدیل نہیں ہو سکتا‘ ۔ شاہ محمود قریشی نے جنرل بپن راوت کے بے سر و پا مؤقف پر دو ٹوک بات کرنے کی بجائے، دو روز قبل کرتار پور راہداری کے سنگ بنیاد کی تقریب کی کامیابی کا ذکر کرتے ہوئے اس بارے میں بھارتی حکومت کی خیر سگالی کا ذکر کرنا ضروری سمجھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم اس تقریب میں دو وزیروں کو بھیجنے پر بھارتی حکومت کے شکر گزار ہیں۔ یہ قدم دونوں ملکوں کے درمیان ایک مثبت پیش رفت ہے۔ اس کا پوری دنیا میں خیر مقدم کیا جا رہا ہے‘ ۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بدستور بھارتی حکومت کے ساتھ مفاہمانہ لب و لہجہ اختیارکیے ہوئے ہیں اور پاکستان کے نظام حکومت اور نظریہ ریاست کے بارے میں براہ راست رائے زنی پر مشتمل بیان کو سختی سے مسترد کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ وزیر خارجہ نے براہ راست سوال پر اس معاملہ کو نمٹانے کی غرض سے مختصر اور مفاہمانہ جواب دے کر گلو خلاصی کی کوشش کی ہے۔ دوسری طرف حکومت کے پرجوش ترجمان اور منہ پھٹ وزیر اطلاعات فواد چوہدری کو بھی پاکستان کے نظام اور اندرونی معاملات پر بھارتی فوجی سربراہ کی رائے زنی پر تبصرہ کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔ نہ ہی پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے جو کسی بھی معاملہ پر ٹویٹ پیغام کے ذریعے فوج کی رائے سامنے لانا ضروری سمجھتے ہیں، بھارتی آرمی چیف کی بدکلامی کا نوٹس لینا ضروری سمجھا ہے۔

وزیر خارجہ کے بھارت کے بارے میں خوشگوار کلمات کے برعکس آج ہی وزارت خارجہ کے ایک بیان میں کرتار پور راہداری کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب کے حوالے سے بھارتی میڈیا کے منفی رویہ پر افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔ اور اسے دونوں ملکوں کے تعلقات کے تناظر میں منفی طرز عمل قرار دیا گیا ہے۔ وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ بعض عناصر ذاتی مفادات کے لئے اس خوشگوار وقوعہ کو پاکستان کے خلاف منفی ذہنیت کو فروغ دینے کے لئے استعمال کر رہے ہیں لیکن پاکستان کرتار پور میں گردوارہ دربار صاحب سے بھارتی ضلع گورداسپور میں ڈیرہ بابا نانک تک راہداری کی تعمیر کے مثبت اقدام میں بھارتی حکومت سے تعاون کی توقع کرتا ہے۔

بھارتی فوج کے سربراہ نے کل ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’پاکستان کو ایک اسلامی ریاست بنا دیا گیا ہے۔ جہاں دوسروں کے لئے کوئی گنجائش نہیں ہے۔ بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے لئے پاکستان کو سیکولر ملک بننا پڑے گا‘ ۔ اگرچہ سیکولر اقدار کسی بھی ترقی پذیر معاشرہ کے لئے بنیادی حیثیت رکھتی ہیں اور پاکستان میں بھی بڑھتی ہوئی مذہبی انتہا پسندی سے نمٹنے کے لئے سیکولر اقدار کے فروغ کی بات کی جاتی ہے تاکہ سب عقائد اور لوگ ایک معاشرہ میں گھل مل کر رہ سکیں اور کوئی بھی طبقہ اپنے عقیدہ کی وجہ سے احساس محرومی کا شکار نہ ہو۔

ملک میں البتہ اسلامی نظام نافذ کروانے کی جدوجہد کرنے والے عناصر نے ہمیشہ سیکولر ازم کو لادینیت سے تعبیر کرتے ہوئے اس سیاسی اصطلاح کے بارے میں عوامی جذبات کو مشتعل کرنے کی کوشش کی ہے۔ جبکہ سیکولر مزاج کو فروغ دینے کی بات کرنے والے اپنے مؤقف کے لئے قائد اعظم محمد علی جناح کی دستور سازاسمبلی میں 11 اگست 1947 کی تقریر کا حوالہ دیتے ہیں جس میں انہوں نے واضح کیا تھا کہ پاکستان میں ہر مذہب سے تعلق رکھنے والے لوگ اپنے عقائد پر عمل کرنے میں آزاد ہوں گے اور کسی کے ذاتی عقیدہ سے ریاست کا کوئی تعلق نہیں ہو گا جو تمام شہریوں کے ساتھ برابری اور مساوی احترام کی بنیاد پر سلوک کرے گی۔

اس اصولی سیاسی نظریاتی بحث سے قطع نظر یہ فیصلہ کرنا بہر حال پاکستانی عوام اور اس کے منتخب نمائندوں کا کام ہے کہ وہ کون سا نظام حکومت استوار کرنا چاہتے ہیں اور ملک میں آباد مختلف اقلیتوں کے حوالے سے کیا انتظام مناسب سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان میں بعض حلقوں کی طرف سے انتہا پسندی کی ترویج کے باوجود ملک میں عمومی طور سے یہ رائے تسلیم کی جاتی ہے کہ ہر شخص کو اپنے مسلک، عقیدہ اور مذہب کے مطابق عمل کرنے اور زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے۔

ملک کا آئین بھی اس بنیادی شہری حق کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔ اس لئے کسی دوسرے ملک کے لیڈر یا فوجی نمائیندے کی جانب سے اس بارے میں رائے زنی کا کوئی جواز نہیں۔ اس کے برعکس بھارت میں ہندو جتھے اور انتہا پسند گروہ اقلیتی عقائد کے حامل لوگوں کے ساتھ جو سلوک روا رکھ رہے ہیں، اس سے عالمی سطح پر بھارت کے مستقبل کے حوالے سے ضرور تشویش پیدا ہو رہی ہے۔ بھارت کے دانشور بھی انتہا پسندی کی اس لہر کو ملک کے سیکولر آئین اور شہری حقوق کے لئے خطرہ قرار دے رہے ہیں۔

اس پس منظر میں بھارتی آرمی چیف جنرل بپن راوت کا بیان نظر انداز کرنا درست اقدام نہیں ہو سکتا۔ کرتار پور راہداری کے حوالہ سے پاکستان میں بہت جوش پایا جاتا ہے اور وزیر خارجہ کی قیادت میں پاکستانی حکمران یہ تاثر دینے کی کوشش کررہے ہیں کہ یہ اقدام کر کے پاکستانی حکومت نے سفارتی لحاظ سے بھارت پر بڑی کامیابی حاصل کر لی ہے لیکن سفارتی کامیابی کے کسی بھی غیر جانبدارانہ معیار پر پرکھنے سے ان دعوؤں کی تصدیق ممکن نہیں ہو گی۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1036 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali