سو کاموں سے بڑا ایک کام


تحریکِ انصاف کی حکومت کے سو دن مکمل ہو گئے جن پر طرح طرح کے تبصرے ہو رہے ہیں۔ وہ لوگ جن کے دل چھوٹے اور بصیرت محدود ہے اور بے ہنر بھی، پھول کی پتی سے ہیرے کا جگر کاٹنے کے بجائے خنجر بکف دکھائی دیتے ہیں۔ وہ تاریخی لمحات کا خون کرنے پر تُلے ہوئے ہیں جبکہ تاریخ جو ستر برسوں سے ایک جگہ ٹھہری ہوئی تھی اور نفرتوں کے بھبکے آ رہے تھے، اس نے انگڑائی لی ہے، جس نے دو ملکوں کے درمیان محبت کا ایک مضبوط پُل تعمیر کر دیا ہے، چنانچہ بارہ کروڑ سے زائد سکھ برادری جو پوری دنیا میں پھیلی ہوئی ہے، اُسے کرتارپور گوردوارے کی زیارت کے لیے راہداری دستیاب آ گئی ہے اور وہاں قیام کا سنہری موقع مل رہا ہے۔

اِس تاریخی اقدام سے پاکستان اور سکھ برادری کے مابین تعلقات بہت مستحکم ہوں گے۔ توقع کی جا رہی تھی کہ بھارت اور پاکستان ایک دوسرے کے قریب آئیں گے اور تجارت اور باہمی اعتماد فروغ پائے گا۔ اس طرح دیرینہ تنازعات حل کرنے کی سبیل نکل آئے گی۔ وزیرِاعظم عمران خان نے کرتارپور راہداری کا سنگ ِ بنیاد رکھ کر تاریخ کا ایک نیا سنگ ِمیل نصب کر دیا ہے اور اُن کا یہی کام ہزاروں کاموں پر بھاری اور تابندہ مستقبل کی نوید ہے۔

یہ تاریخی کارنامہ جتنے کم وقت میں سرانجام پایا ہے، وہ بھی تاریخی عجائبات کے ذیل میں آتا ہے۔ جنرل ضیاء الحق وزیرِاعظم بے نظیر بھٹو صاحبہ اور وزیرِاعظم جناب نوازشریف برسوں کرتارپور راہداری کھولنے کی تدبیریں کرتے رہے، مگر اُنہیں بار بار ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ اِس کے برعکس جناب عمران خان پر آسمان اِس قدر مہربان رہا کہ جونہی اُن کے سر پر اقتدار کا ہما بیٹھا، نارووال کے قریب کرتارپور راہدای کھلنے کے اسباب جمع ہونا شروع ہو گئے اور برسوں کا سفر فقط سو دن کے اندر طے ہو گیا جو کسی طور پر ایک سیاسی معجزے سے کم نہیں۔

مجھے تو قطرے میں دجلہ دکھائی دے رہا ہے، مگر تاریخ کے شعور سے محروم نکتہ چیں اس میں بھی بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی کی ’انتخابی حکمتِ عملی‘ کے شوشے تلاش کر رہے ہیں کہ اگلے سال منعقد ہونے والے انتخابات میں سکھوں کے ووٹ حاصل کرنے کے لیے اس نے ایک ڈرامہ رچایا ہے، مگر اس کے ساتھ ہی بھارت اور پاکستان کے مابین مذاکرات کا دروازہ سختی سے بند کر دیا ہے۔ سرحد کے دونوں طرف عوام کی بہت بڑی تعداد امن اور دوستی کی آرزو مند ہے اور عمران خان کرکٹ کی دنیا میں ہیرو کا مقام رکھنے کے باعث بھارت میں بھی پسند کیے جاتے ہیں۔

اُنہوں نے اقتدار میں آتے ہی امن کے ترانے الاپنا شروع کر دیے۔ اپنی پہلی تقریر میں بھارت کو واضح اشارہ دیا کہ وہ ایک قدم ہماری طرف بڑھائے گا، تو ہم دو قدم بڑھ کر اس کا استقبال کریں گے۔ یہ اُن کی خوش قسمتی ہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے ایک جرأت مندانہ قدم اُٹھاتے ہوئے امن کو بروئے کار لانے کے لئے بھارت کے وسیع الظرف طبقات پر اعتبار کیا ہے۔ یوں لگا کہ جناب عمران خان نے وزارتِ عظمیٰ کا حلف اُٹھانے کی تقریب میں کرکٹ میں اپنے دیرینہ دوست اور بھارتی پنجاب کے وزیر جناب سدھو کو دعوت دی۔

وہ آئے اور اُنہوں نے جنرل قمر جاوید باجوہ کو جپھی ڈالی، ایک دو شعر پڑھے اور ہمارے جہاندیدہ سپہ سالار نے اُن کے کان میں مژدہ سنایا کہ ہم کرتارپور راہداری کھولنے کا مصمم ارادہ رکھتے ہیں۔ پاکستان کی حکمران قیادت نے بھی اِسی ’تھیم‘ کو دھیمے سُروں میں آگے بڑھایا، بھارتی حکومت کے سامنے اپنی اِس خواہش کا اظہار کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے بھارت کی وفاقی کابینہ نے اس کی منظوری دے دی۔ بظاہر یہ ایک ایسا ڈرامہ لگتا ہے جس کے ساتھ دونوں ملکوں کی خوش بختی جڑی ہوئی ہے۔

بعض اوقات بڑے بڑے کام ہفتوں میں سرانجام پا جاتے ہیں اور واقعات کی کڑیاں ایک دوسرے سے ملتی چلی جاتی ہیں۔ وزیرِاعظم عمران خان مبارکباد کے مستحق ہیں کہ ان کے اقتدار کے ابتدائی مہینوں میں تاریخ نے نیا ورق اُلٹا ہے اور امکانات کے در کھول دیے ہیں۔ ہماری اربابِ حکومت، اپنی وزارتِ خارجہ اور وزارتِ داخلہ سے یہ گزارش ہو گی کہ کرتارپور راہداری کے جملہ معاملات پر اچھی طرح غور کر لیا جائے اور پروگرام شروع کرنے سے پہلے اس کی تمام جزیات دوراندیشی سے طے کر لی جائیں۔

کرتارپور راہداری کی جو تقریب پاکستان میں منعقد ہوئی، اس میں بھارتی وزیرِخارجہ سشما سوراج اور بھارتی پنجاب کے وزیرِاعلیٰ امریندر سنگھ نے شمولیت سے انکار کر دیا۔ اس کے ساتھ یہ پیغام بھی دیا کہ نریندر مودی سارک کانفرنس میں شریک نہیں ہوں گے اور کرتارپور راہداری کھلنے کا یہ مطلب ہرگز نہ لیا جائے کہ باقاعدہ دوطرفہ مذاکرات بھی شروع ہو جائیں گے۔ یہ بھی ایک انتہائی المناک حقیقت ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں پر بھارتی انسانیت سوز مظالم اور دہشت گردی میں ہر لمحہ اضافہ ہو رہا ہے جبکہ بھارت کے اندر بھی جنونی تنظیمیں اقتدار پر قابض ہو گئی ہیں جنہوں نے مسلمانوں کے علاوہ دوسری اقلیتوں کی زندگی اجیرن بنا رکھی ہے۔

ہمیں کرتارپور راہداری کے جوش و خروش میں اِن حقائق کو نظرانداز کرنے کے بجائے کشمیری حریت پسندوں کی سیاسی اور سفارتی اعانت میں اضافہ کرنا ہو گا، کیونکہ اس وقت عالمی برادری نے کشمیریوں کے انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں پر تشویش ظاہر کرنا شروع کر دی ہے اور انسانی حقوق کے عالمی ادارے بھارتی مظالم پر رپورٹیں شائع کر رہے ہیں۔

ہم کسی مناسب وقت پر تحریک ِانصاف کے اُن دو تین بڑے بڑے کارناموں کی بھی نشان دہی کریں گے جو اپنی نوعیت میں سب سے جدا اَور حیرت ناک ہیں۔ تین مہینوں کے اندر کچھ ایسے واقعات رونما ہوئے ہیں جنہوں نے تاریخ کا خواب آور رُخ متعین کر دیا ہے اور قیادت کے نئے پیمانے وضع کیے ہیں جو صرف جناب عمران خان کی ذہنی اپچ کے شاہکار ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں