چارسدہ اور میری ڈی پی


qurb e abbasکچھ دوستوں نے کل سے اب تک متعدد مرتبہ پوچھا ہے کہ فرانس حملے میں آپ نے ڈی پی بدل لی تھی، غم و غصہ کا اظہار کیا تھا… اب خاموشی کس لیے… اور ڈی پی نہیں بدلی؟
پہلی بات تو ان سادہ دوستوں کے لیے یہ کہ فرانس ڈی پی ایک ٹرینڈ تھا، فیس بک پر ایپ موجود تھی سو کم و بیش سب نے اظہار یکجہتی کیا. اب پاکستان کا فلیگ مل جائے تو اس کو بھی لگانے میں کوئی حرج نہیں ہے.
لیکن تعجب اس لیے ہوتا ہے کہ کسی بھی غیر ملک کے باسیوں کو سپورٹ کرنے پر فورا غداری کا ٹائٹل لگا دیتے ہیں، جنازوں پر بھی مذاہب و ملک کے ٹھپے لگاتے ہیں…
میری نظر میں دہشت گردی کا نشانہ بننے والے پیرس میں ہوں یا چار سدہ کی یونیورسٹی میں… ان کے لیے دکھ مذہب و ملک کی بنا پر کوئی امتیاز نہیں رکھتا… بارہا یہی کہتا ہوں کہ ہمیں اسی سوچ کو ختم کرنا ہے کہ انسانیت کا دائرہ کار صرف مسلمان (وہ بھی اپنے فرقے کے مسلمان) تک محدود ہے اور دنیا کا بہترین خطہ پاکستان ہی ہے۔
اصل بات تو یہ ہے کہ جھنڈے، سرحدیں ملکوں کے نام کچھ بھی نہیں ہیں…. پوری دنیا آپ کا ملک ہے. ہر انسان آپ سے واسطہ رکھتا ہے آپ کا رشتہ دار ہے، ہر مذہب ایک عقیدہ ہے اور ہر انسان کو ہر قسم کا عقیدہ اپنانے کا حق ہے. ہر نسل رنگ میں اور رسم و رواج میں مختلف ہوسکتی ہے لیکن محض اس لیے غلط نہیں کہا جاسکتا کہ وہ آپ کے عقائد سے میل نہیں کھاتے… ہم میں سے کسی کے پاس اس زمین یا ملک کی خدائی رجسٹری موجود نہیں ہے اور ناں ہی ہم کسی مذہب کی سند ساتھ لے کر آئے ہیں… مان لیں کہ سب برابر ہیں… ہندو، سکھ، مسلم، مسیحی، پارسی، یہودی، بدھ سب آپ جیسے ہی ہیں… جیسے آپ کو اپنا مذہب سچا اور انسانیت کا علمبردار لگتا ہے ٹھیک اسی طرح دوسرے مذاہب کے پیروکاروں کے لئے بھی اپنا عقیدہ ایسا ہی ہے…
جتنی طاقت خود کو مسلمان اور دوسرے کو کافر ثابت کرنے میں صرف کی جاتی ہے اگر اتنی محنت اپنے آپ کو انسان بنانے پر کی جائے تو شاید پاکستان امن کا بہترین نمونہ بن جائے…


Comments

FB Login Required - comments