ٹیکساس سکول میں فائرنگ کرنے والے لڑکے کے والدین کے خلاف پٹیشن درج


پاکستان

BBC
ٹیکساس حملے میں ہلاک ہونے والے طلبہ میں پاکستانی طالبہ سبیکا شیخ بھی شامل تھیں

اس سال مئی میں امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر ہوسٹن میں واقع ایک ہائی سکول میں ہونے والی فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے 10 بچوں کے والدین نے فائرنگ کرنے والے لڑکے کے والدین کے خلاف امریکی عدالت میں پٹیشن درج کروائی ہے۔

ان والدین میں پاکستانی طالبہ سبیکا شیخ کے والدین بھی شامل ہیں۔

سبیکا کے والدین نے پٹیشن میں فائرنگ کرنے والے 17 سالہ لڑکے کے والدین پر الزام عائد کیا ہے کہ انھوں نے اپنے بیٹے کی ذہنی کیفیت جانتے ہوئے بھی اسے قانونی طور پر اسلحے تک رسائی دلوائی۔

سبیکا شیخ کے بارے میں مزید پڑھیے

ٹیکساس سکول کے ہلاک شدگان میں پاکستانی طالبہ بھی شامل

’روز بتاتی تھی آج اتنے دن رہ گئے اور پھر میں واپس آ جاؤں گی‘

امریکہ میں فائرنگ: پانچ خونریز حالیہ واقعات

’سبیکا کی وجہ سے ہمیں پاکستانیوں سے محبت ہو گئی‘

بی بی سی کی نامہ نگار سحر بلوچ سے بات کرتے ہوئے سبیکا کے والد عبدالعزیز نے کہا کہ ‘ہمارے لیے تو ایک جیتا جاگتا انسان چلا گیا۔ ہم کیسے چپ کر کے بیٹھ جائیں۔ یہ معاملہ صرف میڈیا کی حد تک نہیں اٹھانا ہے بلکہ اس کا مقصد ان سب بچوں کے لیے انصاف مانگنا ہے جو اس واقعے میں جاں بحق ہوئے۔’

انھوں نے کہا کہ ‘ہم اس انتظار میں تھے کہ حکومت اس بارے میں کوئی ٹھوس قدم اٹھائے گی، لیکن جب ایسا دیکھنے میں نہیں آیا تو ہم نے فیصلہ کیا کہ ہمیں ہی کچھ کرنا چاہئیے۔’

انھوں نے بتایا کہ یہ پٹیشن ‘سبیکا کی سالگرہ کے روز، یعنی پہلی دسمبر سے دو دن پہلے 28 نومبر کو عدالت میں پیش کی گئی تھی جس کی خبر برطانوی جریدے گارڈین میں شائع ہوئی تھی۔’

امریکہ

AFP
17 سالہ طالبعلم دیمیتریوس پاگورٹزس جن کو فائرنگ کے بعد حراست میں لے لیا گیا

کچھ حلقے، جن میں فائرنگ کرنے والے لڑکے کے وکیل بھی شامل ہیں، اس دلیل کی نفی کررہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ والدین پر اس طرح کی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی۔

لیکن عبدالعزیز کہتے ہیں کہ اگر وہ اور باقی بچوں کے والدین چپ ہوگئے تو ایسے واقعات میں کمی نہیں آئے گی۔

‘ہم چاہ رہے ہیں کہ لوگوں کے ذہنوں سے یہ واقعہ نا جائے۔ اس کے لیے ہم سے جو کوشش ہو سکے گی ہم وہ کرنے کو تیار ہیں۔’

اس پٹیشن میں والدین کی نمائندگی امریکہ میں اسلحے کے خلاف اصلاحات پر کام کرنے والا ادارہ ‘ایوری ٹاؤن فار گن سیفٹی’ کر رہا ہے۔

امریکہ

Getty Images
ہوسٹن کا وہ سکول جہاں یہ واقعہ پیش آیا

سبیکا کے والد نے بتایا کہ ان کا مطالبہ ہے کہ اس پٹیشن کے توسط سے لوگوں میں احساسِ ذمہ داری بڑھے۔

‘اس (پٹیشن) سے یہ ہوگا کہ لوگ اپنے آس پاس اور اپنے خاندان کے لوگوں پر نظر رکھ سکیں گے۔ ہم اس پٹیشن کے توسط سے لوگوں کو اس بات کا قائل کرنا چاہتے ہیں، تاکہ وہ اپنے ذمہ داری نبھائیں۔’

عبدالعزیز نے کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ اس وقت امریکہ میں اسلحے سے منسلک اصلاحات یا ترمیم پر دونوں فریقین بہت مضبوط ہیں۔

‘مجھے علم ہے کہ انصاف مانگنے کے لیے ہماری یہ کوشش بہت طویل بھی ہو سکتی ہے۔ لیکن اس کو بیچ راستے میں چھوڑنا ناممکن ہے۔’

سترہ سالہ سبیکا ایکسچینج سٹوڈنٹ تھیں جو ٹیکساس میں پڑھنے گئی تھیں۔ ان کے گھر واپس آنے میں تقریباً 20 دن رہ گئے تھے جب یہ واقعہ پیش آیا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 6404 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp