خان صاحب میانوالی مرغا اور عبداللہ


ایک گجر اپنے کھوتے کو لے جارہا تھا کہ سامنے پانی کا ایک نالہ آیا۔ کھوتا وہیں رک گیا۔ گجر نے ایڑھی چوٹی کا زور لگایا لیکن مجال ہے جو کھوتا ایک قدم بھی آگے بڑھا ہو۔ کافی کوششوں کے بعد گجر نے تنگ آکر کھوتے کو وہی ڈھیر کردیا۔اور غصے میں مونچھوں کو وٹ دیتے ہوۓ ڈائیلاگ کہتا ہے۔

ہاہ جات دا کھوتا اور ضد گجراں ورگی

پشتو میں ضرب المثل ہے جس کا اردو میں معنی بنتا ہے کہ رسی جل جاتی ہے پر اسکا بل نہیں جاتا۔ اور غالباً یہ مقولہ اردو میں بھی استعمال ہوتا ہے۔اس مقولہ کو اگر اوپر والے لطیفے پر منطبق کیا جائے تو مطلب بنتا ہے کہ بھلے ہی دنیا ادھر کی ادھر ہوجاۓ لیکن قوموں کی علاقائی عادات و خصلتیں تبدیل نہیں ہوتی۔
جٹ فلسفی بن جاۓ گا لیکن اس کی شوبازی ختم نہ ہوگی۔
بٹ معدہ کا ڈاکٹر بن جاۓ لیکن بسیار خوری ترک نہیں کرے گا۔ ڈوگر دشمن دارہی رہے گا۔ آپ کو خان نسوار خور ہی ملے گا، میمن اور شیخ دریا دل ہی واقع ہوتے ہیں۔
لیکن میرے ہاں ان مشہور کردہ خصوصیات کا اطلاق جانوروں پر تو ہوسکتا ہے جیسے پشتو میں کہتے ہیں
خر چې د مکه بوزي هغه خر وي۔ انسانوں پر ہرگز نہیں هوتا کیونکہ انسان تغیر کا بچہ ہے اور انسان کے علاقائی و قومی عادات و خصلتوں میں مرور زمان کے ساتھ تغیر واقع ہوتا ہے۔ یہ ایک حقیقت اور میرا یقین بھی۔
اب کچھ بارے عبداللہ میاں کے
ہمارے مشر عبداللہ پیشے کے اعتبار سے تو ڈرائیور ہیں لیکن ان کو تخصص باحیا گالیاں دینے اور بہترین نسلی مرغے پالنے اور ان کو لڑانے میں حاصل ہے۔ مرغوں کو تو جناب پانچ بہنوں کے اکلوتے بھائی ابوبکر پر ترجیح دیتے ہیں۔ کل جناب باتوں باتوں میں خان صاحب کی تبدیلی پر بات کرنے لگے تو بڑے نالاں نظر آئے۔ میں نے تو ایویں ہی خان صاحب کے انڈوں کا ذکر چھیڑ دیا کہ جناب کے سیاہ لیکن مبارک و پرنور گال خوشی کے مارے مزید بینگنی ہوگئے۔اور کہنے لگے
یار یہ چاچا رمضان حرامی کو منتیں کرتے کرتے تھگ گیا کہ وہ اپنا میانوالی نسل کا مرغا ہمیں عارضی طور پر دے تو میں اس کی نسل پکڑ لوں لیکن وہ ۔۔۔۔۔ ٹالتا رہتا ہے اور بڑے قیمت کا خار بھی دیتا رہتا ہے دیوث کا بچہ۔
اب اگر اس سکیم میں میانوالی کے اعلیٰ نسل کے مرغے نہ سہی چار پانچ بچے ہی مل جاۓ تو مزہ آجائے کیونکہ لڑائی میں میانوالی مرغے کا کوئی جواب نہیں۔
اوووووہو توبہ یارب توبہ میانوالی مرغے کا سن کر انسان کی خصلتوں میں تغیر کے بارے میرا مستحکم ایمان متزلزل ہوتا گیا اور یہ شیطانی خیال دماغ میں گردش کرنے لگا کہ ہمارے ہاں میانوالی کے نیازی حضرات اکثر پیشہ کے اعتبار سے ٹرانسپورٹرز ہیں۔اور وہ کوئی شوق پالیں نہ پالیں، مرغے کا شوق ضرور پالتے ہیں جبکہ چاچا رمضان بھی نیازی اور خان عمران خان بھی میانوالی کے نیازی۔
اللہ ہمارے اس خیال کو غلط ثابت کرے اور خان صاحب کی یہ سکیم ہمارے معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ثابت ہو اور غربت میں کمی کا باعث ہو۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

ابراہیم محسن کی دیگر تحریریں
ابراہیم محسن کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں