غلامی کا دور ختم ہوچکا ؟


آج غلامی سے آزادی کا عالمی دن ہے۔ غلامی بذات خود بری چیز تھی یا اس کے اثرات میں برائی تھی کہ یہ انسانی کرامت کے خلاف ہے اور اس میں انسانی اہانت تھی اور اس میں انسانوں کے ساتھ برا سلوک کیا جاتا تھا؟ میرے خیال میں غلامی کو آج بذاتہ برا سمجھا جاتا ہے لیکن یہ بذاتہ بری نہیں ہے بلکہ اثرات کے لحاظ سے ہے کیونکہ انسانوں میں کلاسز اور درجہ بندی تو موجود ہے اور موجود رہے گی اور اسی درجہ بندی کا نتیجہ تھا کہ کچھ انسان مالک اور کچھ مملو ک ہوتے تھے۔

درجہ بندی کو ختم کرنے کے حوالے سے انسانی تاریخ میں جس نظام نے پہلی مرتبہ کوششیں کیں وہ سوشلزم تھا، سوشلزم کے ذریعے سرمایہ دارانہ نظام میں بہت سی اصلاحات ہوئیں لیکن سوشلزم اس کی جگہ نہیں لے سکا، بلکہ خود درجہ بندی کا شکار ہوگیا اور بالآخر ختم ہوگیا۔ اس کے ختم ہونے کی بنیادی وجہ میرے خیال میں یہی ہے کہ انسانوں میں درجات ہونا ایسی لازمی چیز ہے کہ اس کو نظر انداز کرکے بنایا جانے والا کوئی بھی نظام زیادہ دیر نہیں چل سکے گا۔ غلامی بھی درجہ بندی اور کلاز سسٹم کانتیجہ تھی۔

بہت سی قدیم چیزوں کو آج ہم اپنے تناظر میں دیکھتے ہیں تو برا سمجھنے لگتے ہیں اور اپنے دور کے حساب سے ان پر حکم صادر کررہے ہوتے ہیں۔ جبکہ اس دور کے تناظر میں اگر دیکھا جائے تو اس میں کوئی برائی نہیں ہوتی ہے۔ اس لئے چیزوں کو دیکھنے کے تناظر میں دور کا لحاظ بہت ضرور ی ہے اور اس میں صرف دور کا ہی مسئلہ نہیں ہوتاہے بلکہ اس دور میں اس کو کس طرح ایڈجسٹ کیا گیا اس کو بھی بالکل نظر انداز کر دیاجاتاہے، غلامی کواسلام میں کس طرح ایڈجسٹ کیاگیا اس کی تفصیلات اگر پڑھیں تو معلوم ہوتاہے کہ اتنا اچھا سلوک آج ملازموں کے ساتھ نہیں کیا جاتاہے جتنا اچھا سلوک غلاموں کے ساتھ کیاجاتاتھا۔

اصل بات جس کی طرف اشارہ مقصود ہے کہ غلامی یا اس طرح کی بہت سی چیزوں کوختم کرکے آج دنیا سمجھتی ہے کہ انسانی حقوق پر صحیح معنوں میں عملد آمد ہو چکا ہے اور آج کا دور سابقہ اداوار سے اس لحاظ سے فوقیت رکھتاہے کہ اس میں انسانی حقوق کا ایسا عالمی چارٹر نافذ ہے جو سابقہ کسی زمانے میں نہیں رہاہے۔ لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ جس طرح غلاموں کی اہانت و تذلیل ہوتی تھی اور ان کے ساتھ برا سلوک کیا جاتا تھا آج بھی نچلے طبقے اور لور کلاس کے ساتھ وہی سلوک ہورہاہے۔ رویوں اور سلوک میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ ایک طویل فہرست ہے ان چیزوں کی جن کے نام ہم نے ختم کیے لیکن عملی زندگی میں وہ اسی طرح برقرار ہیں اور ہم مطمئن ہیں۔

اسلام نے جو کرنے کا کام تھا وہ کیا بجائے ناموں کو ختم کرنے اور بدلنے پر زور دینے کے، انسانوں میں درجہ بندی کی موجودگی ہے اور رہے گی ایسی نا قابل انکار حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے اسلام نے اپنے ماتحتوں کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا۔ بہت سے علماء غلامی کو اصل مسئلہ سمجھتے ہوئے اس پر بحث کررہے ہوتے ہیں کہ غلامی جائز ہے کہ ناجائز؟ اگر آج ناجائز ہے دوبارہ کبھی جائز ہوسکتی ہے کہ نہیں؟ لیکن میرے خیال میں اصل مسئلہ درجہ بندی اور کلاس سسٹم کا ہے غلامی تو اس کا ایک مظہر اور حصہ تھی۔

اصل بحث معاشرے میں مختلف درجات اور کلاس کے حوالے سے ہونی چاہیے جس پر آج کی مہذب دنیا بھی برقرا رہے۔ معاشرے میں مختلف کلاسز ہونی چاہیے کہ نہیں اس پر بحث ہوسکتی ہے لیکن جب تک کلاس سسٹم اور درجہ بندی والا معیار اور نظام موجود ہے اسلام کی تعلیمات اور آپ ﷺ کے تربیت یافتہ لوگوں کا اسوہ انتہائی اہمیت کاحامل ہے۔

قرآن کریم اور رسول اللہ کی تعلیمات اور صحابہ کرام کی عملی زندگی میں غلاموں کے ساتھ جو حسن سلو ک تھا وہ کسی بھی مہذب معاشرے میں ماتحت کلاس کے ساتھ نہیں ہے۔ قرآن کریم میں اور رسول اللہ کے فرامین میں غلاموں اور ماتحتوں کے ساتھ حسن سلوک کی تعلیم دی گئی حتی کہ اللہ کے نبی کی آخری وصیت میں بھی ماتحت لوگوں کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیاگیا۔ قرآن اور حدیث میں ماتحت کلاس کے ساتھ حسن سلوک کے جو احکام ملتے ہیں آج کی مہذب دنیا جو غلامی جیسے ادارے کو ختم کر نے پر تو فخر محسوس کرتی ہے کاش ماتحتوں کو اتنے ہی حقوق دے سکے۔

ماتحتوں کو مارنے اور سزاد ینے کی ممانعت :

اللہ کے نبی ﷺ نے ماتحتوں کو مارنے سے سختی سے منع کیا، حدیث و سیر ت میں ایسے بہت سے واقعات ہیں جب کسی نے اپنے غلام کومارا تو اللہ کے نبی ﷺ نے فورا ماتحتوں کے حقوق کے حوالے سے تنبیہ کی اور بہت مرتبہ غلام کو آزادکردینے کا حکم دیا۔ غلاموں کے مالکوں پر آپ کی ہدایات کا یہ اثر تھا کہ انہوں نے اس کے بعد زندگی بھر کبھی غلام کو نہیں مارا۔

وہ لوگ ماتحتوں کے ساتھ کس طرح کا سلوک کرتے تھے اس حوالے سے صرف ایک ایک صحابی کا واقعہ ملاحظہ کیجئے اس کے علاوہ ایسے بہت سے واقعات کتب سیرت میں موجود ہیں۔ معاویہ بن سوید روایت کرتے ہیں کہ میرے گھر ایک غلام تھا، میں نے اس کو مارا، پھر والد کے خوف سے گھر سے بھاگ گیا، ظہر کے وقت آیا اور والد کے پیچھے نماز پڑھی۔ بعد نماز والد نے مجھ کو اور غلام کو بلایا، غلام کو حکم دیا کہ تم اپنا بدلہ لے لو۔ اس نے مجھ کو معاف کردیا۔

اس کے بعد والد نے یہ واقعہ بیان کیا کہ رسول کے زمانے میں ہمارے خان دان ’بنی مقرن‘ میں صرف ایک غلام تھا، ہم میں سے کسی نے اس کو ماردیا۔ رسول کو معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا: اس کو آزاد کر دو۔ لوگوں نے عرض کیا اس کے سوا ہمارے پا س اور کوئی خادم نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا:اچھا، جب تک دوسرے خادم کا انتظام نہ ہوجائے اس سے کام لو، لیکن جیسے ہی انتظام ہوجائے اس کو آزاد کردو۔

غلاموں کی غلطیوں پر بے حساب معافی کا حکم :

ماتحتوں سے اگر کوئی غلطی سر زد ہوجائے تو اس پر نہ صرف معاف کردینے کا حکم دیا بلکہ جتنی مرتبہ بھی غلطی کریں پھر بھی ان سے درگزر کرو۔ حضرت عبداللہ ابن عمر روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص حضور کی خدمت میں آیا اور دریافت کیا کہ ہم غلاموں کو کتنی بار معاف کردیا کریں۔ آپ اس کی بات سن کر خاموش رہے۔ اس نے پھر کہا کتنی مرتبہ اسے معاف کریں، آپ اب بھی خاموش رہے۔ جب اس نے تیسری بار یہی سوال کیا تو آپ نے فرمایا: ”ہر روز ستر مرتبہ اسے اس کی غلطی پر معاف کردیا کرو۔ “

ستر مرتبہ معاف کرنے کا مطلب یہی ہے کہ جتنی مرتبہ بھی غلطی کرے اس کو حتی الامکان درگز ر کرو۔

غلاموں کو اپنی مثل کھلاؤ اور پہناؤ :

غلاموں اور ماتحتوں کے ساتھ حسن سلوک کی اس سے بڑھ کر مثال کیا ہوسکتی ہے کہ ان کو کھانا کھلانے اور لباس پہنانے میں اپنے ساتھ شریک کرنے کا حکم دیاگیا۔ نبی علیہ السلام نے فرمایا ”تمہارے بھائی تمہارے خدمت گار ہیں، اللہ نے انہیں تمہارے ماتحت کردیا ہے، پس جس شخص کا بھائی اس کے ماتحت ہو، اسے چاہیے کہ جو چیز خود کھائے، اسی میں سے اسے بھی کھلائے اور جو پوشاک خود پہنے ویساہی اسے بھی پہنائے اور ان پر کوئی ایسا بوجھ نہ ڈالے جو ان کی طاقت سے زیادہ ہو اور اگر ان کی طاقت سے زیادہ کام لیاجائے توپھر ان کی مددکردیا کرو“۔

صحابہ کرام میں حضرت علی اور ابو ذر رضی اللہ عنہم و دیگر لوگوں کے ایسے واقعات آتے ہیں جنہوں نے ان احادیث پر عمل کیا اور غلاموں و ماتحتوں کو اپنے لباس و خوراک میں اپنے ساتھ شریک کیا۔

غلاموں کی تعلیم وتربیت پر اجرو ثواب

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جس طرح مسلمانوں کے لیے اپنی اولاد کی تعلیم تربیت پر زور دیا اور اسے باعث اجرو ثواب قرار دیاہے، اسی طرح غلاموں کی تعلیم تربیت پر بھی انہیں ابھاراہے۔ تاکہ معاشرہ کو ان کے علم وہنر سے فائدہ پہنچے۔ چنانچہ آپ نے فرمایا: تین شخص ایسے ہیں جن کو دوہرے اجر ملیں گے۔ ایک ان میں سے وہ ہے جو اپنی باندی کو تعلیم دے اور عمدہ تعلیم دے، اس کو ادب سکھائے اور خوب سکھائے اور اس کو آزاد کرکے خود اس سے نکاح کرلے۔

یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کی تاریخ گواہ ہے کہ اس میں ماتحت کلاس سے ہزاروں علماء، محدثین اور فقہاء پیدا ہوئے ہیں اور ان کی کلاس ودرجہ کو نظر انداز کرکے بلاتفریق معاشرے نے ان کو علم کی حصو ل و اشاعت میں شریک کیاہے۔

غلاموں کی شادی بیاہ کی ذمہ داری آقا پر ہے :

غلاموں کی شادی کے سلسلے میں اسلام کا موقف یہ ہے کہ آقا کو چاہیے کہ ان کی شادی کی فکر کریں۔ غلام اگر مرد ہے تو آقا اس کے حق میں جو بہتر سمجھے جائز حدود میں رہ کر اس کی شادی کرائے۔ اگر باندی ہے توآقا اپنے تصرف میں رکھے یا اسے آزاد کرکے اس سے خود شادی کرلے یا دوسری جگہ کرادے۔ قرآن کریم میں حکم دیا گیا ہے : ”وَأَنکِحُوا الْأَیَامَی مِنکُمْ وَالصَّالِحِیْنَ مِنْ عِبَادِکُمْ وَإِمَائِکُمْ إِن یَکُونُوا فُقَرَاء یُغْنِہِمُ اللَّہُ مِن فَضْلِہ۔ “ (النور:32)

(تم میں سے جو لوگ مجرد ہوں اور تمہارے لونڈی غلاموں میں سے جو صالح ہوں، ان کے نکاح کردو اگر وہ غریب ہوں تو اللہ اپنے فضل سے ان کو غنی کردے گا۔ )

بہت اچھا ہے کہ مہذب دنیا اور با شعور انسانوں نے مل کر غلامی کا ادارہ ختم کردیا ہے لیکن آج اس دور میں بیٹھ کر غلامی کو لعنت کہنے اور اسلام کو اس حوالے سے کوسنے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا بلکہ ماتحت کلاس کو اگر یہی حقوق مہیا کردیں جوقرآن وسنت کی تعلیمات اور مہذب دنیا کے چارٹر میں موجود ہیں تو ان پر بہت بڑا انعام ہوگا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں