مزار‘ ملنگ‘ کبوتر ‘ہپی اور تصوف


میرے تین استاد تھے‘ مزے کی بات یہ ہے کہ تینوں کا تصوف سے یا رومی کی شاعری وغیرہ سے کوئی تعلق نہ تھا۔ میرا پہلا ٹیچر ایک چور تھا۔ ایک بار میں راستہ بھول گیا اور بہت دیر سے گھر آیا۔ میرے گھر کی چابیاں ہمیشہ ساتھ والوں کے یہاں ہوتی تھیں۔ اس رات اتنی دیر ہو چکی تھی کہ میری ہمت نہیں ہوئی انہیں ڈسٹرب کرنے کی.

میں کھڑا سوچ ہی رہا تھا کہ دروازہ کیسے کھولوں‘ اتنے میں ایک شخص اندھیرے سے نمودار ہوا اور اس نے مجھ سے پوچھا کہ مسئلہ کیا ہے۔ میں نے ساری کہانی سنائی تو اس نے میری مدد کرنے کی حامی بھر لی۔ میں ایک طرف ہوا تو بڑے مزے سے پلک جھپکتے میں اس نے دروازے کا تالا کھول دیا اور سائیڈ پہ ہو گیا۔

میں بڑا متاثر ہوا‘ میں نے اس کی بڑی منتیں کیں کہ یار مجھے بھی یہ سب سکھا دو‘ کہنے لگا کہ بھائی میں تو ایک چور ہوں‘ ساری عمر اسی کام میں گزری ہے‘ تم کیسے اتنی جلدی سیکھ پاؤ گے؟

لیکن میں بہرحال اتنی شکر گزار قسم کی فیلنگ میں تھا کہ میں نے اسے اپنے گھر قیام کی دعوت دے دی۔ اس نے تقریباً ایک مہینہ میرے گھر گزارا‘ ہر رات وہ باہر جانے سے پہلے کہتا کہ میں کام پہ جا رہا ہوں‘ تم اپنا کام دھندہ کرو اور ہاں اپنی عبادت مت بھولنا‘ پھر مزے سے نکل جاتا۔

جب وہ گئے پہر واپس لوٹتا تو میں اس سے پوچھتا کہ ہاں بھئی کوئی معاملہ بنا؟ ہر بار اس کا جواب یہی ہوتا‘ نہیں‘ آج رات تو نہیں‘ خدا نے چاہا تو شاید کل بن جائے‘ میں کل رات پھر نکلوں گا۔ میں اس کے یقین سے بڑا متاثر ہوا‘ مجھے اس سے ہمیشہ زندگی گزارنے کا حوصلہ ملا۔

میرا دوسرا استاد ایک کتا تھا۔ میں دریا کے پاس سے گزر رہا تھا کہ وہ مجھے نظر آیا۔ وہ شدید پیاسا تھا لیکن جیسے ہی وہ دریا کے نزدیک آیا تو اسے وہاں ایک اور کتا پانی کے اندر دکھائی دیا۔ وہ بری طرح سے ڈر گیا۔ وہ بار بار بھونکتا رہا‘ واپس پیچھے ہوتا‘ پھر آگے آ جاتا‘ بے چارہ بڑی کوشش میں تھا کہ بس ایک بار کسی طرح اس دوسرے کتے سے پیچھا چھڑا لے۔

آخرکار اس کی پیاس جیت گئی۔ اس نے صورتحال کا مقابلہ کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ جب وہ چھلانگ لگا کر پانی کے اندر اترا تو دوسرا کتا غائب ہو چکا تھا۔

میرا تیسرا استاد ایک بچہ تھا۔ وہ اپنے گاؤں کے پاس والی ایک مسجد کی طرف جا رہا تھا۔ اس کے ہاتھ میں ایک جلتی ہوئی موم بتی تھی۔ میں نے اس سے پوچھا کہ یہ موم بتی کیا اسی نے جلائی ہے‘ اس نے کہا ہاں میں نے جلائی ہے۔ میں تھوڑا پریشان ہوا کہ چھوٹا سا بچہ ہے خود کو آگ ہی نہ لگا لے‘ اسی پریشانی میں اس سے پوچھ لیا کہ بیٹا ایک وقت ایسا تھا جب یہ موم بتی جل نہیں رہی تھی‘ کیا تم مجھے بتا سکتے ہو کہ یہ شعلہ جو اس وقت موجود ہے یہ کہاں سے اور کیسے آیا تھا؟

بچہ ہنسا‘ پھونک ماری اور موم بتی بجھا دی۔ پھر اس نے مجھ سے پوچھا کہ اب جو یہ موم بتی بجھ چکی ہے تو جناب‘ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ شعلہ جو اب موجود نہیں ہے‘ وہ کہاں اور کیسے چلا گیا؟

تب میں نے یہ جانا کہ میرا سوال کس قدر بیوقوفانہ تھا۔ آگہی کا شعلہ کیسے جلتا ہے اور پھر یہ کہاں غائب ہو جاتا ہے؟ مجھے ایسا لگا کہ بالکل موم بتی کی طرح بعض اوقات یہ شعلہ انسان کے دل میں اندر کہیں جل رہا ہوتا ہے‘ لیکن اسے معلوم نہیں ہوتا کہ اسے کس نے جلایا ہے۔

تب سے ایک اور کام یہ ہوا کہ میں اپنے آس پاس کی چیزوں کو بہت زیادہ اہمیت دینے لگا۔ بادل‘ درخت‘ دریا اور جنگل‘ ہر گزرتا انسان‘ تب یوں ہوا کہ مجھے ہر چیز سے علم ملا‘ میں نے بہت کچھ جانا اور عین اس لمحے میں نے کچھ نیا سیکھا‘ جب مجھے اس کی ضرورت تھی۔تو اب دیکھا جائے تو ساری زندگی میرے کئی استاد رہے ہیں‘ بہت سارے!

یہ الکیمسٹ سے مشہور ہونے والے پالو کوئیلو کی اپنی کہانی ہے۔ جب اس نے ترکی میں ایک بابے سے پوچھا کہ آخر آپ کے بھی تو کوئی استاد ہوتے ہوں گے؟ تو بابے نے آگے سے یہ ساری کہانی سنا دی۔ یہ اس کا نیا ناول ہے مگر مجھے ایسا لگ رہا ہے جیسے یہ سب کچھ بہت بہت مرتبہ پڑھا ہوا ہے۔

یہ پورا ناول کب کا مجھ پہ گزر چکا ہے‘ یہ سارے نوجوان جو اس میں ہیں اور جو بہت سے کردار نبھا رہے ہیں وہ بھی میں ہوں‘ اور جو وقت ہے‘ جو اس ناول کا ایک خاص دور ہے‘ وہ بھی سب کا سب مجھ پر سے ہو کے گزرا ہے‘ اور وہ جو لکھنے والا ہے وہ بھی میں ہوں۔

یہ انگریزی ناول (بنیادی طور پہ ترجمہ) اردو ادب کے ایک شوقین کو اچھا ضرور لگتا ہے ‘لیکن پرانا کیوں معلوم ہوتا ہے؟ شاید اس لیے کہ پاپولر ریڈرشپ کے فارمولے پر چلتے ہوئے پالو کوئیلو نے اس ناول میں دو ہاٹ ترین موضوعات ایک ساتھ نبھائے ہیں۔ ایک تو ناول کے نام سے ہی ظاہر ہے کہ ہپی کلچر ہو گیا‘ دوسرا موضوع تصوف ہے۔

ان دونوں موضوعات پہ ہمارے پاس کتابوں کا بہت عمدہ تجربہ ہے۔ اپنے تارڑ صاحب کا وہ سفرنامہ جو تھا‘ نکلے تیری تلاش میں‘ یہ پورے کا پورا ناول اس کا ایک چیپٹر دکھائی دیتا ہے۔ بار بار کی اس یاد سے پیچھا چھڑائیں گے تو اشفاق احمد کے بابے راستہ روک کے کھڑے ہو جائیں گے۔

اہم ترین بات یہ ہے کہ تارڑ صاحب کی وہ کتاب ہو یا اشفاق صاحب کا تصوف‘ دونوں چیزیں اپنے وقت کے حساب سے ٹھیک تھیں اور ایک مکمل پریزنٹیشن تھیں۔

پالو کوئیلو چونکہ خود ہپی رہ چکے ہیں اس لیے شاید وہ موضوع کے رومانس میں زیادہ مبتلا ہوئے اور لکھتے لکھتے بار بار پھسلتے رہے۔ اسی طرح ان کا تصوف بھی ادھر برازیل والوں کے لیے شاید نیا ہو لیکن ہم لوگوں کے لیے‘ مشرق والوں کے لیے‘ جو رومی‘ خیام‘ حافظ‘ سعدی وغیرہ کو ہضم کیے بیٹھے ہیں اور جو روحانیت کی اشفاق صاحب یا ممتاز مفتی والی ماڈرن ترین فارم بھی نبھائے ہوئے ہیں‘ ہمارے لیے اس کتاب میں کچھ نیا نہیں ہے۔

سوال یہ ہے کہ پھر آخر لکھنے کے لیے اس کتاب کو ہی کیوں چنا گیا؟ اس لیے کہ یہ وقت جو کٹ تھروٹ مقابلے بازی کا ہے‘ جب بندے کو بندہ کھاتا ہے‘ جب لکھنے کے لیے کئی فاسٹ فوڈ جیسے موضوع موجود ہیں‘ اس دور میں کوئی ہے جو ایسے وقتوں کو یاد کرتا ہے جب دنیا میں گھومنا پھرنا آسان تھا.

جب کئی ملکوں کی سرحدیں پار کرنا اور کئی ہزار میل کا سفر بس میں ہی کر لینا اور صرف ستر ڈالر میں کر جانا ممکن تھا‘ جب ٹرمپ بادشاہ نہیں ہوتا تھا اور جب نفرت سے زیادہ محبت کرنا آسان تھا۔

سب سے زیادہ مزے کی بات یہ کہ ہمارے وہ بچے جو صرف انگریزی پڑھتے ہیں اور جو نہ تارڑ صاحب کو پڑھنے والے ہیں اور نہ جنہوں نے اشفاق صاحب کو پڑھا‘ اگر وہ پالو کوئیلو کی وجہ سے ہی تصوف کے بارے میں تھوڑا بہت جان لیں اور ہپیوں کی صفائی میں لکھے گئے چند صفحے پڑھ لیں تو اس میں برا کیا ہے؟

ایک بات اور یہ بھی دماغ میں آئی کہ یہ جو ہمارے ملنگ ہوتے ہیں‘ جو چرسی موالی بے چارے مزاروں پہ پڑے رہتے ہیں یا کبھی غلطی سے شہر میں آ جائیں تو بھگا دئیے جاتے ہیں‘ یہ بھی تو مشرق کے ہپی ہیں۔ ہپی کلچر تھوڑا ویسٹ کی وجہ سے گلیمرائزڈ ہو گیا‘ ایک پوری تحریک کی شکل اختیار کر گیا اور آخر میں تقریباً ختم بھی ہو گیا.

لیکن ہمارے ملنگ تو استاد جی زندہ و جاوید ہیں۔ وہ بھی کوئی خاص برے لوگ نہیں ہوتے۔ لنگر پانی ان کا مزار والے چلاتے ہیں‘ جڑی بوٹیاں‘ دوا دارو کہیں نہ کہیں سے مولا مقدروں میں لاتا ہے اور کام دھام چلتا رہتا ہے۔ ذرا سوچیں ایک منٹ کو‘ دل پہ ہاتھ رکھیں اور بتائیں کہ اگر کسی مزار پہ سے ملنگ اور کبوتر اٹھ جائیں تو وہاں باقی کیا بچے گا؟

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 471 posts and counting.See all posts by husnain