آزادی کا کوڑے دان: سوشل میڈیا


Social media image

BBC

دنیا کی تقریباً آدھی آبادی سوشل میڈیا کا استعمال کرتی ہے، جب کہ مغربی اور شمالی یورپ میں دس میں سے نو افراد فیس بک، ٹوئٹر، انسٹاگرام، وی چیٹ یا ملتے جلتے نیٹ ورک استعمال کرتے ہیں۔

لیکن دوستوں اور مشہور شخصیات کو آن لائن فالو کرنا اور ان کے ساتھ اپنی زندگی کا موازنہ ہمیں زیادہ پریشان کر رہا ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ سوشل میڈیا بہت زیادہ استعمال کرنے والے اضطراب اور ڈپریشن جیسی دماغی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔

خاص طور پر نوجوان خواتین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا انھیں زیادہ محتاط کر دیتا ہے کہ وہ کس طرح دکھائی دیتی ہیں۔ گرل گائیڈنگ کی جانب سے کیے گئے ایک سروے سے معلوم ہوا کہ سات سے دس سالہ بچوں کی ایک تہائی تعداد کا کہنا ہے کہ جب وہ آن لائن ہوتے ہیں تو اوروں کے لیے سب سے اہم چیز یہ ہوتی ہے کہ وہ کس طرح نظر آتے ہیں۔تقریباً ایک چوتھائی کا کہنا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر بےعیب نظر آنا چاہتے ہیں.

عین اسی وقت پر لوگ سوشل میڈیا کے مثبت پہلوؤں کا اقرار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ سوشل میڈیا ان کو رائےکے اظہار کا موقع فراہم کرتا ہے اور تنہائی کے شکار لوگوں کو جذباتی سہارا تلاش کرنے کا راستہ مہیا کرتا ہے۔

#MeToo تحریک، جس نے بہت سی خواتین کو جنسی حملوں اور ہراسانی کے بارے میں بات کرنے کا موقع دیا ہے دراصل ایک احتجاج تھا جو سوشل میڈیا پر شروع ہوا تھا اور جب خواتین نے آن لائن اپنی کہانیاں سنائیں تو یہ بین الاقوامی مکالمے کا مرکز بن گیا۔دنیا کی تقریباً آدھی آبادی سوشل میڈیا کا استعمال کرتی ہے۔مغربی اور شمالی یورپ میں دس میں سے نو افراد فیس بک، ٹوئٹر، انسٹاگرام، وی چیٹ یا ملتے جلتے نیٹ ورک استعمال کرتے ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 6788 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp