آزادی کوڑے دان: مزید اشیا


Question mark image

BBC

ہمارا آزادی کوڑے دان منصوبہ 1978 میں ہونے والے آزادیِ نسواں کے امریکی علم برداروں کے مشہور احتجاج کا ڈیجیٹل روپ ہے۔

ہم دنیا بھر کی خواتین سے پوچھ رہے ہیں کہ وہ کون سی چیزیں ہیں جو ان کو اپنی مرضی سے زندگی گزارنے کی راہ میں رکاوٹ کا باعث بن رہی ہیں۔

ہماری گیم میں موجود چیزیں ہمارے قارئین اور سامعین کی طرف سے تجویز کی گئی ہیں اور آپ ان اشیا کے بارے میں زیادہ معلومات حاصل کرنے کے لیے انھیں ہمارے ڈیجیٹل کوڑے دان میں ڈال کر مزید معلومات والے بٹن پر کلک کر سکتے ہیں۔

لیکن ہمیں اب بھی آپ کی تجاویز کی تلاش ہے۔

مذہبی لباس، بچوں کےلیے صنفی لباس اور تنحواہ کی رسیدیں جن سے صنفی بنیاد پر تنخواہ میں فرق نمایاں ہو، مقبول تجاویز ہیں۔چند اور تجاویز مندرجہ ذیل ہیں۔

ایئر برشنگ

یہ اشتہاری اور سوشل میڈیا کے سب سے زیادہ متنازعہ پہلوؤں میں سے ایک ہے۔تصاویر میں ترمیم کرنےکی یہ ایک ایسی تکنیک ہے جس کااستعمال لوگوں کو پتلا کرنے اور ان کے عیب چھپانے کے لیے کیا جاتا ہے۔

بعض اداکار جیسے کہ اس سال کے بی بی سی 100 ویمن میں شامل جمیلہ جمیل میگزین ایڈیٹرز کو اپنی کور تصاویر کو ایئربرش کرنے سے منع کرتی ہیں۔ انھیں خدشہ ہے کہ تبدیل شدہ تصاویر سے ان کے پرستاروں میں ان کا غیر حقیقی تاثر پیدا ہو گا۔

لیکن 2015 کے اعداد و شمار کے مطابق نصف سے زائد صارف اپنی سوشل میڈیا تصاویر پر فلٹروں کا استعمال کرتے ہیں۔ تو کیا ہم اتنے ہی برے ہیں جتنے میگزین؟

فیملی آرگنائزر

آرگنائزر وہ کیلنڈر ہوتے ہیں جن میں خاندان کے ہر فرد کے لیے ایک کالم دیا ہوتا ہے جس میں ‘ماں’ سے توقع رکھی جاتی ہے کہ وہ ہر کسی کی مصروفیات درج کرے۔ عام طور پر مائیں ہی یہ کام کرتی ہیں۔

یہ عورتوں کو عندیہ ہے کہ وہ ہر کسی کی اپائنٹمنٹ اور گھر میں کیے جانے والے کاموں کا ‘ذہنی بوجھ’ اٹھائیں۔

تاہم بہت سی عورتوں کا کہنا ہے کہ اس سے انھیں گھر کے کام ترتیب دینے میں خاصی مدد ملتی ہے اور یہ ماں بننے کے عمل کا لازمی حصہ ہیں۔

فیمینزم

کچھ لوگ آزادی کے کوڑے دان کے خیال کے خلاف تھے اور دوسروں کو پوری طرح سے آزادیِ نسواں کے تصور ہی سے اختلاف تھا۔

لوگ سوچتے ہیں کہ یہ تصور حد سے آگے بڑھ گیا ہے یا یہ کہ آزادیِ نسواں کا تصور خواتین کو اپنے بچوں کو گھر پر چھوڑ کر کام کرنے کے لیے مجبور کر کے نقصان پہنچا رہا ہے۔

ٹائیاں، کف لنکس اور سوٹ

صرف خواتین ہی ان چیزوں کا مشورہ نہیں دے رہی ہیں۔آزادی کوڑے دان میں بہت سے مردوں نے بھی اپنے پہننے کی چیزیں پھینکی ہیں۔ ایک شخص نے کہا کہ ‘یہ ویسی ہی جسمانی رکاوٹیں ہیں جیسے خواتین کا زیرجامہ۔’

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 6312 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp