عمران خان اور پی ٹی آئی حکومت کے سو دن، مزاحیہ میمز میں


پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت کے سو دن پورے ہونے کے بعد اور کوئی کامیابی کا دعویٰ سو فیصد درست ہو یا نہ ہو مگر ایک بات طے ہے کہ اس حکومت کے سو دنوں میں اخبارات، ویب سائٹس اور خصوصاً سوشل میڈیا کو مزاح کے لیے روزانہ کچھ نہ کچھ ملتا رہا۔

حالت یہ ہے کہ ہر نیا آنے والا لطیفہ، شگوفہ، حماقت یا الفاظ کا غلط استعمال میمز اور فن کی ایک نئی لہر کو جنم دیتا ہے۔ آج ہی سابق وفاقی وزیر خواجہ آصف نے سوال کیا کہ ’موصوف کو حماقتیں کرنے کی باقاعدہ ٹریننگ دی جاتی ہے یا قدرتی طور پہ ہی خود کفیل ہیں؟‘

خواجہ آصف کا اشارہ جس جانب بھی ہو مگر یہ سوال بہت سے لوگ پوچھتے ہیں تو اسی لیے ہم نے سوچا کہ ہم تحریکِ انصاف حکومت کی چند یادگار میمز کو آپ کے ساتھ شیئر کریں۔ اگر آپ سوشل میڈیا پر نظر رکھتے ہیں تو آپ کے لیے اکثر میمز دیکھی بھالی ہوں گی مگر بہت کچھ بدل گیا ہے ان سو دنوں میں۔

1: جہانگیر ترین اور آزاد امیدوار

پی ٹی آئی کو قومی اسمبلی میں اکثریت تو مل گئی مگر حکومت بنانے کے لیے اسے آزاد امیدواروں کی ضرورت پڑی اور اس آڑے وقت میں بقول پی ٹی آئی کے بعض حلقوں کے ’یار ہی یار کے کام آیا‘ یعنی جہانگیر ترین جو خود تو نااہل ہیں اور انتخاب نہیں لڑک سکتے مگر انہوں نے ملک بھر سے آزاد امیدواروں کو طیارے میں لاد لاد کر اور نجانے کس کس طریقے سے بنی گالا پہنچانا شروع کیا۔

جس کے نتیجے میں یہ میم بنی یعنی ’اس پیار سے میری طرف نہ دیکھو۔۔۔۔‘

یعنی ڈاکٹر عبدالرحمٰن کا کہنا ہے کہ ’میں بھی چاہتا ہوں کہ میری جانب کوئی اس طرح دیکھے جیسے جہانگیر ترین آزاد امیدواروں کی طرف دیکھتے ہیں۔‘ اُف اُف۔

اور یہ

2: ہیلی کاپٹر پچپن روپے فی کلومیٹر

عمران خان نے اپنی پہلی تقریر میں سادگی کا اتنا ذکر کیا اور پروٹوکال اور وی آئی پی کلچر کے بارے اتنے بلند بانگ دعوے کیے کہ جب سرکاری ہیلی کاپٹر کی بنی گالا آنیاں جانیاں نظر آئیں تو لوگوں نے پوچھا کہ جناب یہ کیا؟ ابھی یہ بحث شروع ہوئی تھی کہ وفاقی وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے چٹکلا چھوڑ دیا کہ ہیلی کاپٹر کا خرچ تو صرف ’پچپن روپے فی کلومیٹر ہے‘۔ اب سادگی کے دعوے الگ پچپن روپے والی بات تو دعوتِ میمز ہے۔ اور سوشل میڈیا کہاں ایسی دعوت کو ٹھکراتا ہے۔ اس پر مزید لطیفہ یہ ہوا کہ فواد چوہدری نے اپنا سورس بھی بتا دیا جو کہ گوگل تھا۔

اور اس کے بعد یہ ویڈیو۔۔۔

3: ’ریاست سے نہ ٹکرانا‘

عمران خان کی حکومت کے پہلے سو دنوں میں اگر کسی موقع پر اُن کی پہلی تقریر کے بعد کسی معاملے پر اُن کی تعریف ہوئی تو وہ تحریکِ لبیک یا رسول اللہ کے دھرنے کے ردِ عمل پر ہوئی۔ عمران خان نے آسیہ بی بی کی رہائی کے فیصلے کے بعد احتجاج کی کال پر قوم سے خطاب میں خبردار کیا اور کہا کہ ’ریاست سے مت ٹکرانا‘۔

یہاں تک تو بات ٹھیک رہی مگر اس کے بعد جو ہوا وہ بذبانِ سوشل میڈیا کچھ یوں تھا۔

مگر اس سارے معاملے نے نیا رُخ تب اختیار کیا جب حکومت نے تحریکِ لبیک کے رہنما خادم حسین رضوی کو گرفتار کر کے اُن کے خلاف دہشت گردی اور بغاوت کا مقدمہ درج کیا۔

4: یو ٹرن اور لیڈرشپ

عمران خان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’مقصد کو حاصل کرنے کے لیے یو ٹرن لینا عظیم لیڈر شپ کی شناخت ہوتی ہے‘۔ اس بیان کے بعد حسبِ توقع پی ٹی آئی کی لیڈرشپ عمران خان کے بیان کے دفاع میں میدان میں اتری جس پر اسامہ نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ’عمران خان کی ترجمانی وہ لوگ کررہے ہیں جن کو خود نہیں پتہ کہ کل ان کا لیڈر پھر یو ٹرن لے گا کیونکہ یہ ’عظیم لیڈر‘ کی نشانی ہے۔‘

اس بیان پر طنز کرنے والوں کی کمی نہیں جسا کہ حمزہ چوہدری نے لکھا

اور یہ ویڈیو جو یو ٹرن کی علامت بن چکی ہے۔

اور ٹویٹ میں تو عمران خان کی یو ٹرن پر پوری تقریر کو بیان کرنے کا دعویٰ کر دیا گیا ہے۔

5: روشنی کی رفتار سے چلنے والی ٹرین

عمران خان نے پاکستان ریلوے کی ایک تقریب میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’چین میں ایک ایسی ٹرین تیار کی جا رہی ہے جو روشنی کی رفتار سے تیز چلے گی۔ اب دنیا میں ایسی کسی ٹرین یا طیارے کا وجود تو نہیں۔ نہ ہی سائنسدان اس حوالے سے کچھ بتانے کو تیار ہیں مگر سوشل میڈیا پر اس بارے میں بہت کچھ لکھا جا رہا ہے۔

6: ہم مصروف تھے

حکومت نے اپنے سو دن مکمل ہونے پر ملک کے بڑے اخباروں میں اشتہارات دیے جن میں صفحۂ اول پر اشتہار میں لکھا ہوا تھا کہ ’ہم مصروف تھے‘ جبکہ صفحہ پلٹنے پر مختلف ہیڈلائنز پر مشتمل ایک تصویر تھی۔ اس پر بھی سوشل میڈیا پر شدید تنقید کی گئی جن میں سیاستدان اور اینکرز شامل تھے۔

اور کچھ کے خیال میں مصروفیت کچھ یوں تھی

اور کچھ نے تو اس بات کو بہت آگے تک لے جانے کا فیصلہ کیا

7: انڈے اور مرغیاں

حکومت کے سو دن پورے ہونے پر جہاں بقول فواد چوہدری ’سوا کروڑ‘ کے اشتہارات دے کر حکومت نے مصروفیت کے بارے میں بتایا وہیں عمران خان نے اسلام آباد میں ایک تقریب میں اقتصادی اور معاشی ترقی کے بارے میں بات کرتے ہوئے دیسی انڈوں اور مرغیوں کا ذکر کیا۔ اب یہ بات اس سے قبل بل گیٹس بھی کر چکے تھے اور بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ عمران خان کے علم میں بھی یہ ویڈیو ہو گی۔ مگر جس انداز میں اس کا ذکر کیا گیا اور ٹی وی پر دورانِ تقریر چند خواتین کے ردِ عمل سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ بات لوگوں کو اس طرح سمجھ نہیں آئی جس طرح عمران خان سمجھانا چاہ رہے تھے۔

جہاں خواجہ سعد رفیق نے اس پر طنز کیا وہیں مسلم لیگ ن کے حامیوں نے شہباز شریف کے ماضی میں اس طرح کے منصوبوں کے بارے میں بات شیئر کی۔ جیسا کہ اس ٹویٹ میں آپ دیکھ سکتے ہیں۔

اور کچھ کے خیال میں یہ آئیڈیا بہت آگے تک جا سکتا ہے۔

اور اس کے بعد لوگوں کا خیال ہے کہ معاشی انقلاب یونہی آئے گا۔

سوشل میڈیا پر ہنسی مذاق معمول کی بات ہے مگر ایسا بہت کم ہوا کہ نوے دنوں میں اتنی تفریح سوشل میڈیا پر ملی ہو۔ جو اپنی ذات میں ایک کارنامہ ہے۔ اس سب کے بعد اکثر لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ عمران خان کو لکھی ہوئی تقریر کرنی چاہیے تاکہ اس قسم کے شگوفے نہ پیدا ہوں۔ مگر سوشل میڈیا اس سے متفق نہیں۔ کیونکہ پھر اتنی تفریح کہاں ملے گی؟

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 6374 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp