دہشت گردی سے نجات


\"mujahid

پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے ایک بار پھر اس بات کو دہرایا ہے کہ ملک میں دہشت گردی کے خلاف شروع کیا جانے والا آپریشن ضرب عضب اب اپنے آخری مراحل میں ہے۔ فوج نے وسیع قبائیلی علاقوں کو انتہا پسند گروہوں سے واگذار کروانے کے بعد اب انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشن کا آغاز کیا ہے۔ راولپنڈی میں نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے علاقے میں پراکسی وار کے خلاف بھی آواز بلند کی اور واضح کیا کہ پاکستان پراکسی وار کے خلاف ہے اور کسی دوسرے ملک کو پاکستان کے خلاف اس قسم کی جنگ جوئی کی اجازت بھی نہیں دے گا۔

جنرل راحیل شریف کی دونوں باتیں پاکستان اور اس پورے خطے میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمہ کے حوالے سے بے حد اہم ہیں۔ انہوں نے کراچی میں چیف جسٹس سندھ کے صاحبزادے کے اغوا اور مشہور قوال امجد صابری کے بہیمانہ قتل کا حوالہ دئے بغیر کہا کہ دہشت گرد اب پریشان ہو کر ملک میں ’سافٹ ٹارگٹ‘ کو نشانہ بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔ لیکن پاک فوج ان عناصر کو شکست دینے کا عزم کئے ہوئے ہے۔ ان دل خوش کن باتوں کے ساتھ یہ باور کروانے کی ضرورت بہر حال موجود ہے کہ کراچی میں ہونے والے یکے بعد دیگرے دونوں واقعات سے کراچی آپریشن اور آپریشن ضرب عضب کی کامیابی اور حکمت عملی کے حوالے سے سنگین سوالات سامنے آئے ہیں۔ جیسا کہ پاک فوج کے سربراہ نے کہا کہ دہشت گرد قوتیں اب پریشان ہو کر کمزور نشانے لگانے کی کوشش کررہی ہیں۔ لیکن کسی صوبے کی اعلیٰ ترین عدالت کے چیف جسٹس کے بیٹے کا دن دہاڑے اغوا اور ایک مقبول فنکار کا اسی انداز میں قتل، لوگوں کو ہراساں کرنے اور فوجی اقدامات پر ان کے اعتماد کو کمزور کرنے کا سبب بنے ہیں۔ ان واقعات کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کی مجبوری قرار دے کر آگے نہیں بڑھا جا سکتا۔ اگرچہ ان دونوں واقعات سے جنرل راحیل شریف کے اس مؤقف کی تائد ہوتی ہے کہ دہشت گردوں کی نئی حکمت عملی کے مطابق ان لوگوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جنہیں عام طور سے بھاری بھر کم سیکورٹی حاصل نہیں ہوتی ، اس لحاظ سے وہ یقیناًسافٹ ٹارگٹ ہوتے ہیں۔ لیکن ان پر حملہ کرکے دہشت گردوں نے خوف و ہراس اور حکومت و نظام پر عدم اعتماد کی جو فضا پیدا کی ہے ، وہ اتنی ہی مؤثر اور طاقتور ہے جو کسی ہائی پروفائل ٹارگٹ کو نشانہ بنانے سے پیدا ہو سکتی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف سرگرم عمل سیکورٹی فورسز کو اس تبدیل ہوتی حکمت عملی کے مطابق خود کو تیار کرنے کی ضرورت ہے۔

\"gen-raheel\"

ان واقعات سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ کوئی فوج خواہ کتنی ہی طاقتور ہو، وہ ملک کے ہر شہری کو مسلح محافظ فراہم نہیں کرسکتی۔ کسی ملک میں دہشت گردوں کو غیر مؤثر کرنے کے لئے ان عوامل کو ختم کرنے کی ضرورت ہوتی ہے جن کی وجہ سے یہ عناصر قوت پکڑتے ہیں۔ پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ اور اس سے ہونے والے ناقابل تلافی جانی اور مالی نقصان کے باوجود ، ابھی تک ملک میں انتہا پسندی کے خلاف رائے عامہ ہموار کرنے کا کام شروع نہیں ہو سکا ہے۔ جو لوگ اپنے محدود وسائل کے ساتھ یہ کام کرنے کی کوشش کرتے ہیں انہیں نہ صرف دہشت گردوں سے خطرہ ہے بلکہ ریاست کے ادارے بھی ان کے راستے کا پتھر بنے ہوئے ہیں۔ اس کی واضح مثال گزشتہ دنوں اداکار حمزہ عباسی کے پروگرام کی بندش کا معاملہ ہے جنہیں اقلیتوں کی حفاظت کی بات کرنے پر پروگرام نہ کرنے کا حکم جاری کیا گیا تھا۔حالانکہ یہ سوال اٹھانا ملک میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خاتمہ کی جنگ کا اہم حصہ ہے۔

اسی طرح قومی ایکشن پلان کے تحت مدرسوں پر کنٹرول کا کوئی طریقہ وضع نہیں ہو سکا ہے۔ بلکہ گزشتہ دنوں یہ حیران کن خبر سامنے آئی ہے کہ خیبر پختون خوا کی حکومت نے انتہا پسندی کا پرچار کرنے والے اور دہشت گردوں کے لئے نرم گوشہ رکھنے والے ایک مدرسہ کو 30 کروڑ روپے امداد دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ صوبائی یا وفاقی حکومتیں اگر مدرسوں کی اصلاح کرنے کے لئے ان کے ہاتھ مضبوط کرکے یہ توقع کریں گی کہ اس کے بعد وہ امداد کے لالچ میں حکومت کی بات مانیں گے ، تو یہ تباہ کن غلط فہمی ہوگی۔ مدرسوں کو مالی لحاظ سے مضبوط کرنے کی بجائے حکومتوں کو باقاعدہ تعلیمی نظام کو مستحکم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ غریب والدین مفت تعلیم اور رہائش کے لئے اپنے معصوم بچوں کو مدرسوں کے حوالے کرنے اور نتیجے میں انتہا پسندوں کو رنگروٹ فراہم کرنے سے باز رہیں۔

پراکسی وار کے خلاف جنرل راحیل شریف کی بات بھی قابل ستائش ہے ۔ پاکستان اب یہ تجربہ کررہا ہے کہ اس کے ’دشمن‘ ملک بھارت اور افغانستان انہی ہتھکنڈوں سے پاکستان کے خلاف کارروائیاں کرنے کی کوشش کررہے ہیں جو ماضی کی پالیسیوں کے نتیجہ میں پاکستانی ریاست کا وتیرہ رہا ہے۔ اس طرز عمل کا مقابلہ کرنے کے لئے ملک کی فوج کو پوری طرح مستعد ہونے کے علاوہ ماضی کی ان نشانیوں کو بھی مکمل طور سے ختم کرنا ہوگا ، جو قومی مفاد اور سلامتی کے نام پر درحقیقت ملک کے مفادات کو نقصان پہنچانے کا سبب بنی ہیں۔ ان لوگوں میں سے بعض عالمی سطح پر مطلوب دہشت گرد ہیں لیکن ملک میں وہ محفوظ ہی نہیں بلکہ طاقتور بھی ہیں اور فلاحی منصوبوں کے نام پر انتہا پسندی کا زہر پھیلانے میں مصروف بھی ہیں۔ ایسا ہی ایک دہشت گرد مولوی تو ریاست کے ساتھ مسلح جنگ کرنے کے بعد بھی بڑی شان سے اسلام آباد میں قلعہ بند ہے اور موقع ملنے پر ریاست کی اتھارٹی کو چیلنج بھی کرتا رہتا ہے۔ جب تک ان عناصر کو نشان عبرت نہیں بنایا جائے گا، نہ پراکسی وار کے خلاف مملکت کی پالیسی کو سنجیدہ سمجھا جائے گا اور نہ ہی انتہا پسندی اور دہشت گردی کے قلع قمع کے لئے کوئی جنگ کامیاب ہو سکے گی۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 622 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali