پی ٹی آئی حکومت: کیا پبلک اکاؤنٹس کمیٹی بنے گی بھی یا نہیں؟

ذیشان علی - بی بی سی اردو، اسلام آباد


عمران خان

AFP

وفاق میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے ابتدائی سو دن پورے ہوچکے ہیں، لیکن پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اب تک نہیں بن پائی ہے جس کی وجہ سے کوئی بھی اور پارلیمانی قائمہ کمیٹی تشکیل نہیں دی جا سکی۔ یعنی اب تک کوئی قانون سازی بھی نہیں ہو سکی ہے۔

پارلیمانی طرز حکومت میں کسی بھی سٹینڈنگ کمیٹی کو بہت اہمیت حاصل ہوتی ہے اور پارلیمان کی قائمہ کمیٹی کا کام وزرا کی کارکردگی کی نگرانی کرنا اور قانون سازی کا جائزہ لینا ہوتا ہے۔

قانون کے مطابق حکومت بننے کے بعد سے اب تک کم از کم دو درجن کے قریب پارلیمانی قائمہ کمیٹیاں بنا دی جانی چاہیے تھیں، لیکن اب تک ایک بھی قائمہ کمیٹی نہیں بنائی جا سکی ہے جس کی وجہ قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی سربراہی کا تنازعہ ہے۔

وزیراعظم عمران خان کی سربراہی میں پیر کو ایک اہم اجلاس ہونے والا ہے جس میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے سربراہ کے نام پر غور کیا جائے گا۔

’دھاندلی‘ کی تحقیقات: 30 رکنی پارلیمانی کمیٹی کا قیام

پارلیمنٹ کو عزت دینی ضروری ہے

عمران حکومت کے 100 دن: ’ہم مصروف تھے‘ کے اشتہار

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کیا ہے اور اس کا کام کیا ہے؟

وفاقی حکومت کی جانب سے بجٹ میں جس جس وزارت اور محکمے کو جو پیسے ملتے ہیں اس کے آڈٹ کا جائزہ لینا پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا کام ہوتا ہے۔

پارلیمانی امور پر نظر رکھنے والے صحافی ایم بی سومرو نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے بارے میں کچھ اس طرح سے بتایا: ’ایسے سمجھیں کہ پارلیمان بجٹ منظور کر کے جو پیسے حکومت کو دیتی ہے ان کا حساب کتاب لینا، اخراجات صحیح ہوئے یا نہیں ہوئے، اس سارے طریقہ کار کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کہا جاتا ہے۔‘

انھوں نے مزید واضح کیا کہ ’پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو حکومت کے احتساب کا بہت بڑا فورم کہا جاتا ہے۔‘

ایم بی سومرو کہتے ہیں: ’جو پیسے جس مد میں منظور کیے گئے ہیں انھیں اسی مد میں خرچ کرنے کو یقینی بنانا بیورکریسی کا کام ہوتا ہے۔ اسی لیے یہ فورم اہم ہوتا ہے۔‘

میثاق جمہوریت

AFP

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا سربراہ قائد حزب اختلاف ہی کیوں؟

چونکہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا کام حکومت کو ملنے والے پیسوں کا حساب کتاب لینا ہوتا ہے، اس لیے ماہرین کے مطابق حکومت کا اپنا چیئرمین ہونا مناسب نہیں۔

مسلم لیگ ن کے سابق صدر نواز شریف اور پاکستان پیپلز پارٹی کی سابق چیئرپرسن بینظیر بھٹو کے درمیان طے پانے والے میثاق جمہوریت کے مطابق قائد حزب اختلاف کو چئیرمین بنانے کی روایت ڈالی گئی تھی۔

اس بارے میں صحافی ایم بی سومرو کہتے ہیں کہ ماضی کے تجربات کو سامنے رکھ کر نواز شریف اور بینظیر بھٹو نے میثاق جمہوریت میں یہ شق رکھی تھی کہ آپوزشین لیڈر کو ہی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین بنایا جائے گا۔

ان کا کہنا ہے کہ ’ماضی میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین حکومت اپنا ہی لگا دیتی تھی، یہی وجہ ہے کہ آج تک پبلک اکاؤنٹس کمیٹی پاکستان میں ادارے کی حیثیت نہیں حاصل کر سکی۔‘

’پیسے کو صحیح جگہ خرچ کرنے کو یقینی بنانا اور غلط جگہ خرچ کرنے سے روکنے کا کام ماضی میں پبلک اکاؤنٹس کمینی نہیں کر سکی۔‘

ایم بی سومرو کہتے ہیں کہ اسی وجہ سے یہ راستہ نکالا گیا کہ حکومت کا احتساب آپوزیشن کرے۔ انھوں نے کہا کہ ’یہ ایک اچھا حل تھا کیونکہ اگر حکومت بھی میری ہو اور پبلک اکاؤنٹس کا چیئرمین بھی میرا تو یہ مناسب نہیں۔‘

اے پی سی

AFP

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی سربراہی کا موجودہ تنازعہ کیا ہے؟

حزب مخالف کی جماعتیں پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کا نام پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین کے لیے نامزد کر چکی ہیں کیونکہ وہ ہی قائد حزبِ اختلاف بھی ہیں۔

تاہم پاکستان تحریک انصاف کی حکومت شہباز شریف کو پبلک اکاؤنٹس کا چیئرمین نہیں بنانا چاہتی ہے اور ان کی جگہ اپنی طرف سے کسی کو لگانا چاہتی ہے۔

موجودہ حکومت کا کہنا ہے کہ چونکہ مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کے نیب میں کیسز چل رہے ہیں، اس لیے انھیں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی سربراہی نہیں دی جا سکتی۔

جبکہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن، جن کے درمیان میثاق جمہوریت طے پایا تھا دیگر حزب اختلاف کی جماعتوں سمیت شہباز شریف کے نام پر ہی بضد ہیں۔

عمران خان اور تحریک انصاف کی حکومت کے 100 دن کی کارکردگی کے بارے میں مزید پڑھیے

بیوروکریسی عمران خان کی حکومت سے ناراض کیوں؟

عمران خان کے کفایت شعاری کے وعدے: کتنے پورے کتنے ادھورے؟

تحریکِ انصاف کی حکومت کے 100 دن، کیا کھویا کیا پایا

سو دن عمران خان کے، نئے پاکستان کے

50 لاکھ گھر پہلے 100 دن میں تو نہیں بن سکتے۔۔۔

احتجاج

AFP

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نہیں تو کوئی کمیٹی نہیں؟

قومی اسمبلی میں کوئی بھی بل پیش کیا جاتا ہے تو اسے سیدھا کمیٹیوں کی طرف بھیج دیا جاتا ہے۔ یعنی حکومت کے لیے قانون سازی کرنے کے لیے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے علاوہ دیگر کمیٹیوں کی بھی بہت اہمیت ہے۔

کوئی بھی حکومت بننے کے بعد فوری طور پر ان کمیٹیوں کو تشکیل دیا جاتا ہے تاکہ قانون سازی میں کوئی دشواری نہ ہو۔

اب جبکہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے سو دن مکمل ہو چکے ہیں اور پبلک اکاونٹس کمیٹی ہی نہیں بن سکی تو کوئی بھی پارلیمانی قائمہ کمیٹی بھی نہیں بنائی جا سکی، نتیجتاً کوئی قانونی سازی بھی نہیں ہو سکی ہے۔

دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف، مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان پبلک اکاؤنٹس کی سربراہی کے معاملے پر یہ جمود کب ختم ہوتا ہے، پارلیمانی قائمہ کیمیٹیاں کب تشکیل دی جاتی ہیں اور قانون سازی کا عمل کب شروع ہوتا ہے؟

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 6788 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp