پہلے تو نوکری کا اشتہار ہی نہیں لگتا، اگر اشتہار آ بھی جائے تو جاب نہیں دیتے کہ آپ نابینا ہیں


نابینا افراد

                                                نابینا افراد اپنے خلاف زیادتیوں پر احتجاج کرتے رہے ہیں لیکن اب بھی ان کا گلہ کہ ان کے لیے کچھ نہیں کیا جا رہا

سپریم کورٹ آف پاکستان کی عمارت کے باہر چھے یا سات افراد کا ایک گروہ اپنے بستوں میں سے مختلف کاغذات نکال کر عدالت میں جمع کرائی درخواست ڈھونڈ رہا تھا۔ وہ کاغذ نکالتے، ٹٹولتے اور پھر قریب کھڑے ایک ساتھی سے مدد طلب کرتے۔ آخر انہیں درخواست اور مطالبات کی فہرست مل گئی۔

اس گروپ میں شامل سبھی افراد بینائی سے محروم ہونے کے باوجود اعلی تعلیم یافتہ ہیں۔ سب سے آگے خیبر پختونخواہ کے محمد بلال ہیں جنہوں نے اپلائیڈ لینگویسٹکس میں ایم فِل کیا ہے۔ ان کے ساتھ ڈاکٹر عبد القیوم ناز اور نوجوان نبیل ستی بھی ہیں۔

نابینا افراد کا کہنا ہے کہ سرکاری اور غیر سرکاری نوکریوں میں معذور افراد کا کوٹہ تو مقرر ہے مگر اس کوٹے میں بھی بینائی سے محروم تعلیم یافتہ شہریوں کے ہاتھ کچھ نہیں آتا۔

وہ اس سے پہلے پانچ بار سپریم کورٹ آئے ہیں تاکہ ان کے کیس میں کچھ پیشرفت ہو سکے، مگر انصاف کی دیوی سے تاریخ پر تاریخ ہی مِل رہی ہے۔ محمد بلال نے بتایا کہ عدالت نے پہلی سماعت میں چاروں صوبوں اور وفاق سے اعداد و شمار طلب کیے مگر آج ساتویں سماعت کے لیے تاریخ ملی ہے اور وہ اعداد و شمار تاحال جمع نہیں کرائے گئے’۔

نابینا افراد

                                              خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے اس سے پہلے نابینا افراد کے مظاہروں اور لاہور میں دھرنے کے بعد سوموٹو نوٹس لیا تھا

واضح رہے کہ ملک بھر میں معذور افراد کے لیے ملازمتوں میں کوٹہ مقرر ہے۔ خیبر پختونخوا اور پنجاب میں دو فیصد، پنجاب میں تین جبکہ سندھ اور بلوچستان میں پانچ فیصد کوٹہ معذور افراد کے لیے مقرر ہے۔

مگر اس پر عملدرآمد کیسے ہو رہا ہے؟ محمد بلال کے مطابق ‘پہلے تو نوکری کا اشتہار ہی نہیں لگتا، اگر اشتہار آ بھی جائے تو جاب نہیں دیتے کہ آپ نابینا ہیں، ان کے خیال میں نابینا تو کچھ کر ہی نہیں سکتا۔ انٹرویو کے دوران تنگ کیا جاتا ہے، ان تمام ملازمتوں پر معمولی معذوری کے شکار افراد کو اس کوٹے کے تحت تعینات کیا جاتا ہے، اور ہم ہر ملازمت سے باہر نکل جاتے ہیں’۔

ان نابینا افراد کا مطالبہ ہے کہ معذور افراد کے کوٹے میں تفریق ختم کرنے کے لیے اس میں سے کچھ حصہ صرف نابینا افراد کے لیے مقرر کیا جائے۔ ‘ہمارے ملک میں تو نابینا افراد کے لیے حصولِ تعلیم ہی انتہائی مشکل ہے، ہمارے لیے سکول نہایت کم ہیں، مثلاً بلوچستان میں صرف ایک سکول ہے جہاں نابینا افراد کو تعلیم دی جاتی ہے، تو ہم کئی گنا زیادہ محنت کر کے ڈگری حاصل کرتے ہیں اور پھر ہمارا حق ہی ہمیں نہیں ملتا’۔

پاکستان

                         ان نابینا افراد کا مطالبہ ہے کہ معذور افراد کے کوٹے میں تفریق ختم کرنے کے لیے اس میں سے کچھ حصہ صرف نابینا افراد کے لیے مقرر کیا جائے۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے اس سے پہلے نابینا افراد کے مظاہروں اور لاہور میں دھرنے کے بعد سوموٹو نوٹس لیا تھا اور وفاق سمیت چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹریز سے ملک بھر میں معذور افراد کی کل تعداد اور سرکاری ملازمتوں میں نابینا افراد سے متعلق اعداد و شمار طلب کیے تھے۔ تاہم آج بھی معذوروں کے عالمی دن کے موقع پر ہونے والی سماعت میں بھی ان افراد سے متعلق کوئی جواب جمع نہیں کرایا گیا۔

جب نبیل ستی سے پوچھا گیا کہ اعلیٰ تعلیم ہے مگر ملازمت نہیں، تو کیسے گزارا کرتے ہیں؟ ان کا جواب تھا۔ ‘میں خود ٹیچنگ کے لیے گیا تو کہا گیا کہ آپ کو تو بورڈ ہی نظر نہیں آئے گا، سو مجھے ڈِس کوالیفائی کر دیا گیا۔ ہم نابینا اور کیا کر سکتے ہیں سوائے ‘سیلف ایمپلائمنٹ’ کے۔ اسی طرح بیوی بچوں کا پیٹ پالتے ہیں، چِپس بنا کر بیچتے ہیں، اتوار بازار، جمعہ بازار میں چیزیں فروخت کرتے ہیں، ایسے ہی گزارا ہوتا ہے’۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 6364 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp