سیکولر ازم کیا ہے (دوسرا حصہ)


wajahatسیکولر ریاست میں قوانین کی بنیاد انسانی فہم اور تجربہ ہوتے ہیں

انصاف ایک سادہ سا لفظ ہے۔ انصاف کا بنیادی تصور یہ ہے کہ کوئی انسان دوسرے انسان کے ساتھ ایسا سلوک نہ کرے جو اُسے اپنے ساتھ اختیار کیا جانا پسند نہیں ہے۔ قانون کا مقصد انصاف کی فراہمی ہے۔

انصاف کا تصور بذات خود انسانی معاشرے کے ارتقا کے ساتھ ساتھ آگے بڑھا ہے۔  جنگل میں طاقتور کمزور کو کھا جاتا ہے چنانچہ جنگل میں انصاف نہیں پایا جاتا۔ انصاف انسانی معاشرت کی علامت ہے اورانسانی شعورکی عکاسی کرتا ہے۔ انسانی معاشرے میں انصاف کے بنیادی تصور کی روشنی میں قوانین تشکیل دئیے جاتے ہیں جن کا بنیادی مقصد انسانی اجتماع میں تمام افراد اور گروہوں کے مفادات کا اس طرح سے تحفظ کرنا ہے کہ انسانی معاشرے کی ہموار بود و باش ممکن ہو سکے۔

قدیم معاشرے میں علم اور معلومات کے محدود ذرائع کے باعث انسان قوانین کے ارتقا اور مقاصد سے بے خبر رہتا تھا۔ انسانی زندگی میں تبدیلیوں کا درمیانی وقفہ اس قدر طویل تھا کہ تبدیلی کو محسوس کرنا مشکل تھا۔ عام خیال یہ تھا کہ قوانین کسی کشف و الہام کا نتیجہ ہے جو خاص برگزیدہ انسانوں کا حصہ ہے اور باقی لوگوں کے لیے ان قوانین کی پابندی لازم ہے۔ طویل عرصے تک یہ سمجھا جاتا رہا کہ قدرتی قوانین یا قدرتی انصاف کا سرچشمہ مذہبی تعلیمات ہیں ۔ آج انسانی ارتقا سے بہتر واقفیت کی بنا پر ہم جانتے ہیں کہ اصول ، اقدار ، رسوم اور قوانین تو اُن معاشروں میں بھی موجود تھے جنہیں کسی جدید یا منضبط مذہب کی ہوا تک نہیں لگی تھی۔ رسوم اور اقدار کسی معاشرے کی زمینی ضروریات کے نتیجے میں تشکیل پاتے ہیں۔ انسانی علم میں اضافے، مغاشی سرگرمیوں کی بدلتی ہوئی صورتوں نیز سیاسی و سماجی عوامل کی بنیاد پر زمینی ضروریات بدلتی رہتی ہیں۔

قدیم اور جدید دنیا میں ایک بنیادی فرق یہ ہے کہ انسانی معاشرے کے ابتدائی مراحل میں انسانوں کو مختلف فطری مظاہر کے علت و معلول کا علم نہیں تھا ۔ وسائل کی قلت ہمیشہ درپیش رہتی تھی۔ انسانی زندگی ہر وقت گو نا گوں خطرات میں گھری رہتی تھی ۔ قدیم دنیا اوہام ، لالچ اور خوف سے عبارت تھی لہذا قدیم تمدن میں تسلسل ، تحفظ اور پیروی کے اصولوں پر زوردیا جاتا تھا۔ جدید دنیا میں تحفظ کی مختلف صورتیں سامنے آنے کے بعد تبدیلی اور بہتری کو ترجیح دی جاتی ہے ۔ چنانچہ جدید ریاست میں روایت کی تقلید اور رسم کی بالادستی قائم نہیں رہ سکتی ۔ انسانی تاریخ میں تمام قوانین انسانوں نے بنائے ہیں اور انسانی علم یا رائے غلطی سے ماورا نہیں ہوتے لہذا تمام قوانین میں بہتری کی گنجائش ہوتی ہے ۔ سیکولر ریاست اپنے شہریوں کی فلاح اور بہتری کے لئے انسانی فہم اور تجربہ کی روشنی میں قوانین تبدیل کرنے کا اختیار رکھتی ہے ۔

قدیم انسان صرف رسم سے آشنا تھا۔ رسوم انسانی معاشرے کے ارتقا میں قوانین کا روپ دھارتی رہی ہیں ۔ قدیم انسان قوانین کو بہتر بنانے کی طرف توجہ نہیں دیتا تھا کیونکہ قدیم معاشرے میں حیوانی جبلت اس قدر طاقتور تھی ، قوت کا استعمال اس قدر عام تھا اور سماجی بندھن اتنے کمزور تھے کہ غیر تبدل پذیر قوانین ہی انسانی تحفظ کی کچھ ضمانت مہیا کرتے تھے۔ قدیم معاشرے میں انصاف کا مجرد تصور بہت دھندلا اور کمزور تھا چنانچہ رسم کی بلا چون و چرا پیروی ہی کمزوروں کے لیے تحفظ کی کسی قدر ضمانت دیتی تھی۔ انسانی تجربے کی روشنی میں نسل در نسل کچھ اصول چلے آتے تھے جن کی پیروی سب پر لازم تھی۔پسماندہ معاشرے میں رسم کی پیروی کے ذریعے ہی طاقت اور جبروت کے ننگے استعمال کو روکا جا سکتا تھا۔ جدید معاشرے میں طاقت کے غیر منصفانہ استعمال پر قدغن کے بہتر اور زیادہ موثر ذرائع میسر ہیں۔

سیکولر ریاست میں قانون مقصود بالذات نہیں بلکہ درج ذیل مقاصد کے حصول کا ذریعہ ہے:

شہریوں کے جان و مال اور حقوق کا تحفظ ؛

انصاف کی فراہمی؛ اور

جرائم کی روک تھام ۔

چنانچہ سیکولر ریاست میں طے شدہ طریقہ کار اور ضوابط کے مطابق ادراتی سطح پر قوانین تبدیل کئے جا سکتے ہیں ، رد کئے جا سکتے ہیں اور انہیں بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

سیکولر ریاست رواج اور قانون میں فرق کرتی ہے۔ رواج کی پیروی ریاست کی ذمہ داری نہیں لیکن اجتماعی مشاورت کے نتیجے میں تشکیل پانے والے قوانین کی پابندی کرانا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ اسی طرح سیکولر ریاست جرم اور گناہ میں تفریق کرتی ہے۔ گناہ بنیادی طور پر ایسے فعل کا نام ہے جسے عقائد کی روشنی میں غلط قرار دیا جائے۔ سیکولر ریاست گناہ سے واسطہ نہیں رکھتی۔ جرم ریاست کے شہریوں میں طے شدہ معاہدے (حقوق و فرائض ) کی خلاف ورزی کا نام ہے۔ جرم ایک ایسا فعل ہے جس سے کسی دوسرے انسان یا گروہ کے مفادات کو نقصان پہنچتا ہو۔ ایک سیکولر ریاست جرائم کی روک تھام کی پابند ہے۔

سیکولر ریاست کسی شہری کے ضمیر پر قدغن نہیں لگا سکتی لیکن سیکولر ریاست کا فرض ہے کہ شہریوں کے مال اسباب کی چوری روکے۔ کوئی شہری کسی دوسرے شہری سے بیگار نہ لے۔ اسی طرح سیکولر ریاست مختلف گروہوں حتیٰ کہ مختلف ریاستوں کے مابین اختلافات حل کرنے کے لیے جنگ و جدل کی بجائے مکالمے اور ثالثی کو بہتر ذرائع قرار دیتی ہے۔

قانون کی تشکیل اور قانون پر عمل درآمد کی یہ بحث بظاہر سادہ معلوم ہوتی ہے ۔ لیکن ان سادہ اصولوں تک پہنچنے کے لیے بہترین انسانوں نے نہایت کڑے ادوارمیں سختیاں جھیلی ہیں تاکہ آج کی دنیا میں انسان بلا خوف و خطر ان اصولوں کا پرچارکر سکیں۔ انسانی معاشرہ ایک بہت بڑی سائنسی تجربہ گاہ ہے۔ ہم اس میں کچھ مفروضے قائم کرتے ہیں ، اُن مفروضوں کی بنا پر قوانین تشکیل دئیے جاتے ہیں ، ہم ان قوانین کے نتائج کا مشاہدہ کرتے ہیں، اوران نتائج کی روشنی میں اُن قوانین کو بہتربنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ قانون کے اس تصورمیں روایت کی حیثیت ناگزیر پابندی کی نہیں بلکہ ہمارے تجربے اورمشاہدے پر مبنی اجتماعی حافظے کی ہے۔ چنانچہ سیکولر ریاست میں روایت کسی رکاوٹ یا قدغن کی نہیں بلکہ ایک مفید آلے کی حیثیت رکھتی ہے۔

سیکولر ریاست ان معنوں میں قدیم معاشرے پر فوقیت رکھتی ہے کہ یہاں شہری جامد اور قدیم قوانین کے پابند نہیں بلکہ قوانین کو انسانوں کی فلاح اوربہتری کے لیے تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ چونکہ سیکولر ریاست کسی فرد واحد یا انسانوں کے کسی مخصوص گروہ کو اقتدارکا سرچشمہ قرارنہیں دیتی لہذا سیکولرریاست میں جبر اورناانصافی کے مواقع کم ہو جاتے ہیں اور انصاف کے حصول کی توقع بڑھ جاتی ہے۔ایسے ریاستی نظام میں جبراور ناانصافی کا امکان کم ہو جاتا ہے جہاں ریاست کے تمام باشندے یکساں رُتبے کی بنیاد پر قوانین اور پالیسیوں کی تشکیل میں برابر کے شریک ہوں۔

شہریوں کے درمیان ہر قسم کے امتیاز سے ماورا مساوات، سیکولر ریاست کا بنیادی اصول ہے۔

سیکولر ریاست تمام شہریوں کے مفادات کی غیر جانبدار محافظ اور ثالث کی حیثیت رکھتی ہے چنانچہ ایسی ریاست کی نظر میں کسی لسانی ، نسلی ، مذہبی یا ثقافتی امتیاز کے بغیر تمام شہری یکساں حقوق اور رتبہ رکھتے ہیں۔ انسانی مساوات کی اس بنیادی قدر کو عملی شکل دینے کے لیے سیکولر ریاست میں دو رہنما اصول اختیار کئے جاتے ہیں۔

-1 قانون کی بالادستی

-2 قانون کی نظر میں تمام شہریوں کی برابری

قانون کی بالادستی سے مراد یہ ہے کہ معاشرے میں کوئی فرد یا گروہ قانون سے ماورا نہیں۔ عدالتیں ان قوانین کی روشنی میں فیصلہ صادر کرنے کی پابند ہیں جو شہریوں نے قانون ساز اداروں کی مدد سے طے شدہ ضوابط کے مطابق تشکیل دئیے ہیں۔ قانون کی بالادستی کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ نظام عدل میں قانون کے لفظ اور قانون کی روح کی پابندی کی جائے گی اور من مانے فیصلے صادرنہیں کئے جائیں گے۔ شہریوں کی انصاف تک آزادانہ اور یکساں رسائی ممکن بنانے کے لیے منصفانہ اور شفاف سماعت کے معیارات قائم کئے جاتے ہیں۔

معاشرے میں مختلف اسباب کی بنا پہ تمام شہریوں کی مالی حیثیت اور اثر و نفوذ کی صلاحیت ایک جیسی نہیں ہوتی چنانچہ یہ ممکن ہے کہ کوئی شہری اپنے منصب ، مالی حیثیت یا سیاسی و سماجی اثر و نفوذ کے بل پر انصاف کی راہ میں حائل ہونے کی کوشش کرے۔ اس امکان کو کم کرنے کے لیے قانون کی نظر میں تمام شہریوں کی مساوات کا اصول قائم کیا جاتا ہے۔ ہر شہری کو خواہ اس کی منصبی ، مالی، سیاسی یا مذہبی حیثیت کچھ بھی ہو، قانون تک رسائی کا یکساں حق ہے ۔ تمام شہری دادرسی کے لئے قانون کا دروازہ کھٹکھٹانے کا یکساں حق رکھتے ہیں۔ عدالتیں فریقین کی مالی ، منصبی یا سیاسی حیثیت کی بجائے زیرِ نظر معاملے کے تمام پہلوﺅں پر غور کر کے قانون کے مطابق فیصلے کرنے کی پابند ہیں ۔

یہ دونوں اصول معاشرے میں امن و امان ، معاشی ترقی ، سیاسی استحکام اور سماجی ہم آہنگی کے لیے لازم ہیں چنانچہ انہیں قائم کئے بغیر  سیکولر ریاست کامیاب نہیں ہو سکتی ۔ (جاری ہے )


Comments

FB Login Required - comments

11 thoughts on “سیکولر ازم کیا ہے (دوسرا حصہ)

  • 22-01-2016 at 6:11 am
    Permalink

    آپ بہترین انداز میں موضوع کا احاطہ کررہے ہیں۔ اگر اس حوالے سے اگلی اقساط میں اس بات پر بھی روشنی ڈال سکیں کہ پاکستان کے حالات میں ہم سیکولرازم کی کون،کون سی روایات سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں،اور کس صورت میں؟ میری ادنی رائے کے مطابق ہم مکمل طور پر تو اس نظام کو نافذ نہیں کرسکتے،جیسا آپ نے گناہ اور جرم میں فرق بیان کیا،تو بحثیت اکثریتی مسلم ملک یہاں کچھ گناہ جیسے شراب،جوا اور زنا وغیرہ تویہاں جرم ہی رہنے چاہیں،مگر سماجی ناانصافی،اور امتیازی قوانین کہ جن سے شہری حقوق متاثر ہوتے ہیں ان پر نظرثانی ضرور ہونی چاہیے۔ امید ہے آپ رہنمائی فرمائیں گے۔

    • 22-01-2016 at 6:32 am
      Permalink

      بھائی عطا راشد، آپ کو اپنی رائے کا پورا حق ہے ۔ ابھی اس سلسلسے کی کم از کم پانچ اقساط باقی ہیں۔ میری درخواست ہے کہ آپ اپنے نکات مرتب کر لیں اور پھر انہیں ساتھ ساتھ شائع کیا جائے۔ مین ابھی بنیادی نکات ڈسکس کر رہا ہوں ۔ اطلاقی صورت پر بعد مین بات کریں گے

      آپ کا نام “ہم سب” پر ٹھیک کروا دوں گا۔ غلطی کی معذرت قبول کریں۔ وجاہت مسعود

  • 22-01-2016 at 8:00 am
    Permalink

    جی بہت شکریہ،تمام اقساط کا انتظار رہے گا۔

  • 22-01-2016 at 8:47 am
    Permalink

    وجاہت مسعود صاحب آپ کی علمی کاوشوں سے ہمیشہ مستفید ہوتا ہوں اور امید ہے مکمل مضمون بہت سارے وسوسے جو ایک سیکولر ریاست کے بارے میں ڈالے گئے ہیں وہ دور ہوں گے

  • 22-01-2016 at 2:36 pm
    Permalink

    Sir , is it possible to declare Pakistan as a secular state ? Thanks

  • 22-01-2016 at 6:29 pm
    Permalink

    superb writing..,,,,,,, there is great attraction in the writing of wajahat masood and sebbte hassan….

  • 22-01-2016 at 6:59 pm
    Permalink

    تمام اقساط آجائیں تبھی سوال کرنا مناسب ہوگا

  • 23-01-2016 at 12:53 pm
    Permalink

    i waite all things

  • 23-01-2016 at 3:13 pm
    Permalink

    سیکولرازم اور لبرل ازم

    سیکولرازم اور لبرل ازم دونوں جڑواں بہنیں ہیں۔ لبرل ازم ایک رویہ ہے، سیکولرازم ایک نظام ہے۔

    سیکولرازم کا مطلب ہے کہ دنیا کے معاملات انسان چلائے گا، اس کے لیے کسی خدائی ہدایت نامے کی ضرورت نہیں۔

    لبرل ازم کا مطلب ہے کہ کفر بھی ٹھیک ہے، ایمان بھی ٹھیک ہے، آدمی کو کافر ہونے کا بھی کھلا موقع ملنا چاہیے، مومن ہونے کا راستہ بھی صاف رہے۔ یہ رویہ ہے کہ کافر سے اس کے کفر کی بنیاد پر دوری نہ محسوس کرنا اورمومن سے اس کے ایمان کی بنیاد پرخصوصی محبت محسوس نہ کرنا، یہ لبرل ازم ہے۔

    کوئی مذہبی آدمی سیکولر نہیں ہوسکتا۔ سیکولر ہونے کا مطلب ہے دنیا میں خدا کے اختیارات سلب کر لینا، خدا کو غیر متعلق کر دینا۔۔۔۔ تو سیکولر ازم مذہب، خاص کر اسلام کی نفی ہے۔ عیسائیت نے تو اس پوزیشن کو قبول کر لیا کہ چلو دین انفرادی معاملہ ہے، لیکن اسلام کا تو دعویٰ ہی اس بات پر ہے کہ انسان، اس کی انفرادیت، اجتماعیت سب کی سب اسلام کے دائرے میں ہونی چاہیے، یعنی اسلام کو انسان کی انفرادی، اجتماعی سرگرمیوں کا مرکز ہونا چاہیے۔ سیکولرازم اس کو مانتا ہی نہیں، کہتا ہے مرکز انسان خود ہے‘‘۔
    احمد جاوید

  • 27-01-2016 at 10:43 am
    Permalink

    #Ata Rashid
    Sharab, Zina Aor Juwa Jurm Hi Rehney Chahiye…? Ata Sb, Kia Farma Rahey Hein…. Wajahat Masood Sb Ki Tehreer Ka Aap Matlab Hi Nahi Samjhe… these are human’s / individual’s personal attributes and he /she has every right to do whatever he thinks fit for him. Agar Aap Iss Haq Par Hi Pabandi Laga Dein Ge Tou Liberalism Ka Asal Maqsad Hi Faut Ho Jaye Ga.. It can’t be possible to ban these things in Liberalism. Am I right Wajahat Sb??????

Comments are closed.