کیا صرف عورت ہی سارے فساد کی جڑ ہے؟


\"mujahid

میرا خاندان پچھلی کئی دہائیوں سے جماعت اسلامی سے وابستہ ہے۔ میں نےجس ماحول میں آنکھ کھولی وہاں عورت کو سات پردوں میں چھپا کر رکھا جاتا تھا۔ شٹل کاک برقع آٹھ نو سال کی چھوٹی بچیوں کے لئے بھی لازم تھا۔ خواتین کسی مرد کی معیت کے بغیر گھر سے باہر قدم نہیں رکھ سکتی تھیں۔ مردوں کی بھی حتی الامکان یہی کوشش ہوتی تھی کہ اگر عورتوں کو کہیں لے جانا پڑے تو لوگوں کی گھورتی نظروں سے محفوظ رکھنے کے لئے رات میں ہی باہر نکلا جائے۔ اسی ماحول کے زیر اثر بڑا ہوا تاہم جب باہر کی دنیا کا مشاہدہ کیا اور کتابوں میں سر کھپایا تو کچھ نئی حقیقتیں سامنے آئیں جنہوں نےچند بنیادی سوالات کو جنم دیا۔

ہمارا شہر ایک پسماندہ علاقہ ہے جس میں آج بھی قبائلی روایات اور جاگیردارانہ اقدار غالب ہیں۔ بچپن سے ہی عورتوں کی اکثریت کو چہرہ چھپائے دیکھا۔ ساتھ ساتھ یہ بھی مشاہدہ کیا کہ عورت چاہے برقع میں ملبوس ہو یا اس کا چہرہ کھلا ہو، مردوں کی ہوس ناک نگاہیں نہ صرف سر سے پاؤں تک اس کا ایکس رے کرتی ہیں بلکہ جہاں تک اس کی جھلک دکھائی دیتی رہے وہاں تک نگاہوں کی غلاظت بھی ساتھ ساتھ چلتی رہتی ہے۔ جہاں ہوس بھرے فقرے زبان سے نکالنے کا موقع مل جاتا مرد اس سے نہیں چوکتے جبکہ دعوت دینے والے فحش اشارے اس پر بھی ایک عام معمول ھے۔ اس سارے مشاہدے نے ذہن میں پہلا سوال یہ پیدا کیا کہ عورت چاہے برقعے میں ہو یا اس کا چہرہ کھلا ہو، مردوں نے بہرحال انہیں دیکھتے ہی بے حال ہو جانا ہے تو پھر عورتوں کو برقع پہنانے کی کیا ضرورت ہے؟

پھرایک وقت آیا جب تعلیم کے سلسلے میں کئی سال لاہور رہنا پڑا۔ یہاں خواتین کی اکثریت چہرہ نہیں چھپاتی تھی اس کے باوجود میں نے دیکھا کہ ہمارے علاقے کی نسبت وہاں کے مرد کم جارحیت دکھاتے تھے۔ یوں لگتا تھا جیسے بھوک تو موجود ہے مگر اس کی شدت کم ہو گئی ہے۔ میرے ذہن میں دوسرا سوال یہ پیدا ہوا کہ اگرعورت کا چہرہ عیاں ہونے کے باوجود مردوں کا رویہ کم ہوسناک ہے تو پھر حجاب، چادر، یا برقع کی کیا اہمیت ہے؟ یہ بات بھی واضح ہو گئی کہ مسئلے کی جڑ کہیں اور ہے۔

\"burqa-taunting\"

اس مخمصے کا حل ڈھونڈنے کے لئے عمرانی علوم سے رہنمائی لینا چاہی تو ایک اور الجھن دامن گیر ہو گئی۔ کتب کے مطالعے سے یہ بات واضح ہو گئی کہ جدید دور میں اگر کسی معاشرے نے ترقی کرنا ہے تو مرد اور عورت دونوں کو کام کرنا ہو گا۔ یہ روح عصر کا تقاضا ہے کہ عورتوں کو گھر میں قید نہیں رکھا جا سکتا۔ سوال یہ تھا کہ اگر گھر میں پابند اور سات پردوں میں چھپی عورت کے بارے میں مرد اتنے اتاولے ہو جاتے ہیں تو جب وہ باہر نکل کر مردوں کے ساتھ کام کرے گی تب کیسا طوفان برپا ہوگا۔ یہ بات یقینی لگتی تھی کہ جن خرابیوں کا شکار مغربی معاشرہ ہے وہ تمام یہاں بھی در آتیں۔ علما کی رہنمائی حاصل کرنے کے لئے ان کی کتب پڑھیں تو معلوم ہوا کہ ان کے پاس اس کے علاوہ کوئی حل نہیں کہ عورت کو بلاضرورت گھر سے باہر نہ نکلنے دیا جائے۔ بعض علما اگرچہ خواتین کی تعلیم اور نوکری کے خلاف نہیں تھے تاہم ان کی بھی شرط یہی تھی کہ مرد اور عورت اکٹھے کسی صورت نہ ہوں۔ لیکن یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ 20 کروڑ آبادی پر مشتمل ایک معاشرے کے تمام افراد باہر کام بھی کریں اور ان کے درمیان رابطہ بھی موجود نہ ہو۔ کوئی شافی جواب یہاں سے بھی نہ ملا۔

یہ ساری گتھیاں اس وقت سلجھیں جب میری ایک قریبی عزیزہ کی شادی ہوئی اور وہ اپنے شوہر کے ساتھ ایک مغربی معاشرے میں منتقل ہوئی۔ پاکستان میں جب بھی وہ کالج جاتی تو اسے مردوں کی نوکیلی نکاہوں اور زہریلی زبانوں سے پیدا ہونے والی اذیت کا روزانہ سامنا کرنا پڑتا۔ البتہ مغرب میں جا کر اس نے دھیرے دھیرے اکیلے باہر نکلنا شروع کیا تو معلوم ہوا کوئی کسی کو نہیں چھیڑتا ۔ وہ اگر چاہے تو آدھی رات کو بھی اکیلی بلا خوف و خطر گھوم پھر سکتی ہے۔ یہ اس کے لئے حیرت انگیز تجربہ تھا اور جب اس نے مجھے یہ ساری تفاصیل بتائیں تب روشنی کے جھماکے کی طرح تمام تر مسئلے کا حل سامنے آگیا۔

میں ایک ایسے ماحول میں پلا بڑھا تھا جہاں مرد پہلے کھانا کھاتے اور عورتیں بعد میں۔ اسی طرح گھر میں لڑکوں اور مردوں کا ہی حکم چلتا۔ یہی وجہ تھی کہ جب بھی اس مسئلے پر غور کرتا تو اس کا حل تلاش کرتے ہوئے میرے سارے تجزیوں کا مرکز بھی عورت ہی ہوتی تھی۔ یہ خیال نہیں آیا کہ بنیادی مسئلہ تو مرد کی سرکشی ہے نہ کہ عورت کی بے بسی۔ مردانہ برتری کے احساس نے مجھے کبھی اسلام کے اس حکم کی اہمیت کا اندازہ نہ ہونے دیا جس میں کسی خاتون کو دیکھ کر نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اسے صرف سر جھکا کر چلنے کی ہدایت نہں سمجھنا چاہئے کیونکہ یہ مردوں کی سرکشی کو قابو میں رکھنے کا ایک بنیادی اصول فراہم کرتا ہے۔

مغربی معاشرے کو جب یہی مسئلہ درپیش ہوا تو انہوں نے بھی حل تلاش کرنے کے لئے عورت کی بجائے مرد کو اپنی توجہ کا مرکز بنایا اور وہ اسی نتیجے پر پہنچے جو ہمارے سامنے اسلامی حکم کی صورت موجود ہے۔ انہوں نے تمام تر ریاستی قوت مرد کو قابو میں کرنے پر صرف کی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہاں کوئی مرد کسی عورت کے ساتھ چھیڑخوانی نہیں کرسکتا کیونکہ اسے معلوم ہے کہ ایسا کرنے کی صورت میں پورا سماج اور ریاستی ادارے اس عورت کے ساتھ کھڑے ہو جائیں گے اور اسے قید و بند یا بھاری جرمانے کا سامنا کرنا ہو گا۔

ہم نے بھی اب یہی کرنا ہے کہ اسلام کے ان احکامات کو ریاستی سطح پر نافذ کرنا ہے جو مرد کی سرکشی کو رام کرنے کے لئے دیے گئے ہیں۔ اس کا آغاز بہر حال ریاست کو کرنا پڑے گا ۔ وقت کے ساتھ ساتھ معاشرہ بھی اس حوالے سے تبدیل ہونے لگے گا۔ ابھی تو سڑک کنارے کھڑی ایک خاتون پر اگر کوئی مرد آوازے کستا ہے تو دیکھنے والے خاموشی سے گزر جاتے ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ یہ معاملہ ریاست کی ترجیحات میں شامل نہیں ہے ۔ وہ اگر کوئی قدم اٹھائیں گے تو کوئی ادارہ ان کا ساتھ نہیں دے گا۔

ہمارا سماج اور ریاست، دونوں بنیادی طور پر اسی مائنڈ سیٹ کے تحت کام کر رہے ہیں جو گھر سے باہر نکلنے والی خاتون کے بارے میں شبہات کا اظہار کرتا ہے۔ ہمارے لئے آج بھی وہ عورت قابل احترام ہے جو گھر میں بیٹھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ریاست اگر خواتین کی حفاظت کے حوالے سے جو بھی قانون بناتی ہے اس پر مذہبی لیڈر شپ کا دعوے دار طبقہ مختلف حیلے بہانے سے اعتراض اٹھاتا ہے حالانکہ اس کے اعتراضات کی اصل وجہ مردانہ برتری کا احساس ہے۔ وہ آج بھی تمام مسائل کی جڑ عورت کے وجود کو سمجھتے ہیں اسی لئے تمام ممکنہ حل بھی اسی کی ذات میں تلاش کرتے ہیں۔ میں خود اسی طرز فکر کا برس ہا برس شکار رہا ہوں اور اس کی تمام جزیات کو خوب سمجھتا ہوں۔ اس حوالے سے ہمارے مذہبی طبقے کو اپنا رویہ بدلنا ہو گا ورنہ آنے والی نسل اسلام سے ہی دور ہو جائے گی۔ یہ واحد رستہ ہے جس کے ذریعے ہم نہ صرف اپنی تہذیبی اقدار کو محفوظ رکھ سکتے ہیں بلکہ دنیا میں ایک باوقار اسلامی مملکت کی صورت میں بھی سامنے آ سکتے ہیں۔

البتہ مغرب کے برعکس ہم نے ایک اضافی کام اور کرنا ہے۔ ہماری ریاست اور معاشرے کو مل کر اس بات کو یقینی بنانا ہو گا کہ مرد اور عورت کا تعلق نکاح کے بغیر کسی طور قائم نہ ہو سکے۔ اس حوالے سے معاشرے کے ضمیر کو زندہ رکھنا بے حد ضروری ہے تاکہ خاندان کا ادارہ محفوظ رہ سکے۔ ریاست کے پاس بے پناہ طاقت موجود ہوتی ہے۔ اگر وہ اس بارے میں حتمی اور مصمم فیصلہ کر لے تو کوئی وجہ نہیں کہ مغربی معاشرے کی طرح یہاں بھی خواتین بغیر کسی خوف کے گھوم پھر سکیں اور ملکی ترقی میں اپنا کردار پوری توانائی سے ادا کر سکیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔