دارالعلوم حقانیہ، کچھ مشاہدات اور تاثرات


\"wajid-mahmood-khattak\"

رمضان سے دو دن پہلے ایک لیکچر کے سلسلے میں اکوڑہ خٹک جانا ہوا۔ لیکچر کا انعقاد اقبال ادارۂ تحقیق و مکالمہ نے کیا تھا۔ موضوع تھا اقبال کا فلسفہ مذہب۔ ملک کے ممتاز اسلامی سکالر اور اسلامی نظریاتی کونسل کے سابقہ چیئرمین جناب ڈاکٹر خالد امسعود صاحب نے موضوع پر بحث کرنی تھی۔ ابتدائی طور پر پروگرام کو دارالعلوم حقانیہ میں منعقد ہونا تھا۔ تاہم کچھ ناگزیر وجوہات کی بنا پر بعد میں اس کو ایک مقامی ریسٹورنٹ میں منعقد کیا گیا۔ سامعین تمام حضرات تھے اور مدرسہ کے شعبہ تخصیص کے طالب علم تھے۔

اقبال انسٹیٹیوٹ کے قائم مقام ڈاریکٹر جناب ڈاکٹر حسن الامین صاحب سے میرے استاد محترم جناب عبدالرؤف صاحب کے مراسم ہیں تو اس لئے ان کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ عبدالرؤف صاحب نے مجھے بھی ساتھ لے جانا مناسب سمجھا۔

مولانا سمیع الحق اگرچہ پروگرام میں دیر سے پہنچے تاہم ان کے فرزند ارجمند مولانا حامد الحق، شروع ہی سے مسند صدارت پر براجمان تھے۔ ڈاکٹر خالد مسعود نے اسلامی فقہ، اس کی تاریخ اور تدوین پر سیر حاصل گفتگو کی۔ اسلام میں تقلید، تحقیق اور تنقید کو بھی موضوع بحث بنایا۔ اور آخر میں اقبال اور ان کی  Reconstruction of Religious Thoughts in Islam پر سیر حاصل تبصرہ کیا۔ اسی پروگرام سے کچھ مشاہدات و تاثرات قارئین کے گوش گزار کرانا چاہتا ہوں۔

پہلی بات تو یہ کہ سامعین میں زیادہ تر طالب علم اقبالیات، عمرانیات اور سیاسیات پر وسیع تر مطالعہ رکھتے تھے۔ تاہم ان کا مطالعہ چند مخصوص نکات کے گرد گھوم رہا تھا۔ ان میں یہود، ہنود اور نصریٰ کا مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرنا، اسلام کا نام و نشان ختم کرنے کے لئے مختلف حیلے اور بہانے تلاش کرنا۔ اور اس کے مقابلے میں پاکستان کو صحیح معنوں میں اسلام کا قلعہ اور اور شریعت اسلامی کا منبع بنانا وغیرہ شامل تھے۔

دوسری بات جو میرے مشاہدے میں آئی وہ سوال نہ کرنے روش کی تھی۔ سوال و جواب کے مرحلے میں سامعین براہ راست سوالات پوچھنے میں جھجھک محسوس کر رہے تھے۔ اور اپنے سوالات لکھ کر ڈاکٹر صاحب کو بھیج رہے تھے۔ مجھے نہیں پتہ کہ ان کی جس انداز سے تربیت ہوتی ہے، اسی تربیت نے ان کے اندر یہ عجز و انکساری پیدا کی ہے یا یہ کسی ڈر کی کیفیت تھی؟ یا شاید یہ اس بات کا ثبوت تھا کہ مذہبی درسگاہوں میں سوال اٹھانے اور پوچھنے کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ جو کچھ شیخ صاحب فرمائے، آمناً و صدقناً کہنا پڑتا ہے۔

تیسری بات یہ کہ شروع میں مجھے ایسے لگا کہ ہمارے اور ان کے بیچ ایک بڑی دیوار حائل ہے، اور ہم کبھی گھل مل نہیں سکتے۔ ان کو شاید اپنی مذہبی علوم پر فخر تھا اور ہمیں عصری علوم پر۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ طرفین پر اپنی کج فہمی اور کم علمی واضح ہو گئی۔ اور درمیانی فاصلوں والی دیوار گرتی چلی گئی۔

آخری بات یہ کہ یار دوستوں سے سنا تھا کہ علماء حضرات کو اپنے بال بچوں سے رغبت اور محبت دوسرے لوگوں کی نسبت زیادہ ہوتی ہے، اس کو خود دیکھنے کا تجربہ ہوا۔ کھانے کے دوران وی آئی پی میز پر مولانا صاحب نے اپنے تین بیٹوں اور ایک پوتے کو ساتھ بٹھا لیا۔ مجھے اس کے اس دعوے کہ جو میرے مدرسے میں پڑھتا ہے وہ میرے بیٹوں جیسا ہے میں صداقت نظر نہیں آئی۔ کیونکہ وہ اپنے سارے بیٹوں سے ایک جیسا سلوک نہیں کر رہے تھے۔ دعائیہ کلمات میں حسب روایت مولانا صاحب نے مغرب کی اسلام دشمنی اور اسلام پر ان کے یلغار کا ذکر کیا، مجاہدین اسلام کے فتح کی دعا کی اور جہاد کے جاری رکھنے کا عزم کیا۔

مجھے بحیثیت سیاسیات کے ایک طالب علم کے اس پروگرام میں دو باتیں بہت اہمیت کی معلوم ہوئیں۔ ایک تو مولانا سمیع الحق کا ڈاکٹر صاحب کے لیکچر کی تعریف کرنا اور ان کو مزید ایسے لیکچرز کے لئے اپنے مدرسے بلانے کے عزم کا اظہار کرنا۔ دوسرے ڈاکٹر عبدالرؤف صاحب کی تجویزکہ مدرسہ کے تخصیص کے طلباء کے لئے پشاور یونیورسٹی کے شعبہ سیاسیات میں ایک کورس Islam and Contemporary Political Challenges میں حصہ لینا لازمی قرار دیا جائے، پر اتفاق تھا۔ اس کورس کے زریعے سکالرز جیسے کہ خالد ابوالفضل، عبداللہی النعیم، اولیور رائے، ٹی ایچ مدن، تحتاوی، غنوچی، خیرالدین تیونیسی، جمال الدین افغانی، محمد عبداللہ، حسن البنا، سید قطب، مولانامودودی، مولانا تقی عثمانی، جاوید غامدی اورمولانا وحید الدین وغیرہ کے افکار کے روشنی میں اسلام کو درپیش چیلنجز کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔

ڈاکٹر حسن الامین صاحب کا خیال تھا کہ گو کہ مدرسہ کے طلبہ کی اپنے مروجہ طریقہ کار سے ہٹ کر تربیت بہت مشکل ہے تا ہم اگر اس طریقے سے ہم کم از کم ان کے اندر ایک چنگاری بھی جلانے میں کامیاب ہوئے تو یہ ہماری بہت بڑی کامیابی ہو گی۔

صوبائی حکومت نے دارلعلوم حقانیہ کے لئے تین سو ملین کے گرانٹ کا اعلان کیا ہے جس پر مختلف حلقوں سے تنقید کی جارہی ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ حکومت کا ایک احسن قدم ہے کیونکہ اس طرح ان لوگوں کی محرومیا ں تھوڑی بہت ختم ہو گی۔ دوسری بات یہ کہ ان لوگوں کو حکومت اور عام لوگوں نے بالکل ہی نظر انداز کر دیا ہے اور نتیجتاً مذہبی لوگ عام معاشرے سے گھل مل نہیں سکتے۔ ان لوگوں کا خیال یہ ہے کہ پشتون معاشرہ پہلے سے مذہبی تھا لیکن اب اس معاشرے سے مذہب کا عنصر مفقود ہو تا جا رہا ہے۔

اس قسم کی سوچ رکھنے والے لوگ کیا یہ بتانا پسند کریں گے کہ صوبے میں دارلعلوم کے ساتھ ساتھ اور کن کن درسگاہوں کو فنڈز دیے جارہے ہیں؟ کیا یہی ایک مدرسہ ہی معاشرے کی کج رویوں کی زد میں ہے؟ کیا عام لوگوں نے صرف اسی درسگاہ کو ہی نظر اندازکیا ہے؟حالانکہ ایسا بالکل بھی نہیں ہے کتنے ایسے لوگ ہیں جوکتنی دلجمعی سے آج بھی ان کو چندے دیتی ہے۔ رہی گھل ملنے کی بات تو اس کے لئے ہمارے تبلیغی بھائیوں کی مثال ہی لے لیجئے۔ وہ کتنے عاجز منکسر اور ملنسار دیکھائی دیتے ہیں لیکن جب تک آپ پر تین د ن، چھلا، چار مہینے اور سال کا ٹھپہ نہیں لگا ہو گا آپ جنت کے حقدار نہیں ٹہرائے جائیں گے۔ یعنی اخروی زندگی پر ان کی ہی اجارہ داری ہیں۔ علماء کرام حضرات جو مسجدوں میں ہمیں نمازیں پڑھواتے ہیں وہ بھی مجموعی طور پر اخروی زندگی کے غرور اورتکبر میں پڑے رہتے ہیں ان کے مطابق سارے علوم کا منبع وہی ہوتے ہیں۔

اسی طرح پشتون معاشرے کے لیے ایک مذہبی معاشرے کا تصور رکھنے والے حضرات سے میں اختلاف رکھتا ہوں۔ پشتون معاشرہ ہمیشہ سے ایک روایتی معاشرہ تھا۔ جس میں اگر کبھی  مذہب اور روایات ایک دوسرے کے سامنے آجاتے تو روایت یہ کہہ کر اپنا لی جاتی تھی کہ پشتون روایت پانچ ہزار سال پرانی ہے اور ہمارے باپ دادا کی میراث ہے، ہم اپنے باپ دادا کی میراث اور روایات نہیں چھوڑ سکتے۔ یہی روایتی معاشرہ افغان جہاد کے آغاز تک برقرار رہا۔ اور صدیوں سے جو حجرہ اور جماعت (مسجد) اکٹھے بنے چلے آرہے تھے اب جدا ہونے والے تھے۔ حجرے سے ایک منصوبے کہ تحت پہلے جماعت کو علیحدہ کیا گیا پھر اس سے رباب کو بھی نکال دیا گیا اور اب کہا جارہا ہے (پشتو نیم کفر دے) پشتوآدھا کفر ہے۔

اب اگر کوئی شخص یہ چاہتا ہے کہ عام لوگوں اور ان علماء کے درمیان یہ گیپ ختم کرنے کے لئے یہ تین سو ملین روپے مدرسوں کو دیے جائیں تو ان حضرت سے استدعا ہے کہ پختون روایت کے مطابق اپنے مدرسوں کے ساتھ عام لوگوں کے لئے روایتی حجرے بنائیں ۔ جب تک یہ لوگ روایات کی خوبصورتی اور رباب کی الوہی سروں سے ناآشنا رہیں گے بات نہیں بن سکے گی۔

دارلعلوم حقانیہ ایک بین الاقوامی شہرت رکھنے والا ادارہ ہے اور پوری دنیا میں اس کے متعلق ایک خاص قسم کی سوچ رکھی جاتی ہے۔ اب جب حکومت اس کو اتنی رقم بڑی رقم دے رہی ہے تو کس حیثیت سے دے رہی ہے؟میرے خیا ل میں اس کے تین بڑے محرکات ہو سکتے ہیں۔

سب سے پہلے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ پہلا محرک علمی ہے جو حقیقتا ًدکھائی نہیں دے رہا۔ ٹھیک ہے کہ حکومت ایک علمی درسگاہ کے طور پر اس کو فنڈز دے رہے لیکن بدلے میں کیا لے رہی ہے؟ کیا ان فنڈز کے بدلے میں حکومت کو اس مدرسے کے انتظام میں کوئی کردار مل رہا ہے؟کیا حکومت اپنی مرضی کے کوئی کورسز اس مدرسے میں متعارف کروارہی ہے؟ کیا انہی فنڈز کے استعمال سے حکومت کوئی ایسا جامع پروگرام بنا رہی ہے جس کے رو سے مدرسے کے فارغ التحصیل طلبہ کو ایک باعزت روزگار کے مواقع مہیا کیے جائیں گے؟ کیا انہی پیسوں کے عیوض حکومت ان طلبہ اور علماء کو ملک میں بڑھتی ہوئی مذہبی انتہا پسندی اور منافرت کے تدارک اور کمی کے لئے استعمال کرنے کا سوچ رہی ہے؟ اگر نہیں تو کیا ہم یہ سمجھ لیں کہ یہ رقم جان کی امان کے لئے دی جا رہی ہے؟

دوسرا جو محرک ہو سکتا ہے وہ کہ جہادی ذہنیت رکھنے والے عناصر ہمیشہ سے ہمارے عسکری اداروں کے اثاثہ جات رہے ہیں۔ افغان جہاد سے لے کر اب تک ان اثاثہ جات میں اسی درس گاہ کی نمایاں حیثیت رہی ہے۔ حتٰی کہ مولانا صاحب ان کو اپنے بیٹے بلاتے رہے ہیں۔ افغانستا ن میں بڑھتے ہوئے بھارتی اثر و رسوخ کو تو ڈپلومیسی کے ذریعے حکومت پاکستان کم کرنے اور کنٹرول کرنے میں ناکام رہی ہے۔ کیا اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر افغانستان پاکستان کے حریف کوسہولت دے گا تو بدلے میں پاکستا ن بھی افغانستان کے حریف کو مضبوط رے گا۔

 صوبائی حکومت کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ان کا تعلق ایک سیاسی جماعت سے ہیں۔ عمران خان پہلے سے ہی طالبان خان مشہور ہیں، کی بین الاقوامی شبیہ کیا بنے گی۔ کیا آنے والے دنوں میں پاکستانی عوام کے ساتھ ساتھ انٹرنیشنل کمیونٹی اس پر اور اس کی پارٹی پر اعتبار کرے گی؟

تیسرا محرک سیاسی ہے۔ صوبے میں تحریک انصاف کا گراف، اس کی حکومت کی غیر سنجیدگی اور نااہلی کی وجہ سے روز بہ روز گرتا جارہا ہے اس پر مستزاد یہ کہ مولانا فضل الرحمن اور دوسرے اپوزیشن والے پی ٹی آئی کے خلاف یہودی لابی والا پروپیگنڈا زور و شور سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس درسگاہ سے فارغ ہونے والے اکثر علماء جے یو آئی (ف) سے وابستہ ہوتے ہیں تو اگر اسی تناظر سے اسی مسئلے کو دیکھیں تو ان علماء کے ان فنڈز کے اجراء سے رویو ں میں تبدیلی آسکتی ہے۔ اب اگر کوئی ملا مسجد کے منبر پر کھڑے ہو کر یہودی لابی یہودی لابی کے نعرے لگائے گا تو کوئی منچلا اٹھ کر کہے گا کہ ان یہودیوں کے تم لوگوں نے بھی تین سو ملین کھائے ہیں پھر شاید اس کے پاس کوئی جوا ب نہیں ہو گا۔

میرے خیال میں عمران خان نے پہلی مرتبہ سیاسی طوراپنا پتا ٹھیک جگہ پر پھینکا ہے۔ اب مولانا کی چال دیکھیں گے کیونکہ وہ تاش کے ساتھ ساتھ سیاسی شطرنج کے بھی منجھے ہوئے کھلاڑی ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔