ویٹ لفٹر ربیعہ شہزاد کو ’بچپن سے ہی مار دھاڑ والے کھیل پسند تھے‘

عبدالرشید شکور - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی


ربیعہ شہزاد ایک پاکستانی ویٹ لفٹر ہیں جنھوں نے حال ہی میں آسٹریلیا میں ہونے والی انٹرنیشنل ویٹ لفٹنگ چیمپیئن شپ میں طلائی تمغہ جیتا ہے اور اب ان کی خواہش ہے کہ اولمپکس جیسے بین الاقوامی مقابلے میں بھی اپنے ملک کی نمائندگی کریں۔

ربیعہ بی بی اے کی طالبہ ہیں جنھوں نے اپنے شوق کی خاطر ویٹ لفٹنگ کو اپنایا ہے۔ لیکن انھوں نے بھاری بھرکم وزن اٹھانے والے اس کھیل کا انتخاب ہی کیوں کیا؟

یہ بھی پڑھیے

لوہے سے کھیلنے والی لاہور کی چار بہنیں

کانسی کا تمغہ پہلا قدم لیکن منزل نہیں

غیر ملکی ہاکی لیگ کھیلنے والی پہلی پاکستانی خاتون

’مجھے شروع سے ہی مردوں کے مار دھاڑ والے کھیل کھیلنے کا شوق تھا۔ جب میں چھوٹی تھی تو اپنے والد کے ساتھ کشتی شروع کر دی، لیکن ملک میں خواتین ریسلرز کی فیڈریشن نہ ہونے کی وجہ سے مجھے اس میں کوئی مستقبل دکھائی نہیں دیا۔ ریسلنگ چھوڑنے کی ایک اور وجہ یہ بھی تھی کہ جب تک آپ حریف کی پٹائی کر رہے ہوتے ہیں تو آپ کو مزا آ رہا ہوتا ہے۔ لیکن خود کی پٹائی اچھی نہیں لگتی اور ایک لڑکی ہونے کے ناتے میں نہیں چاہتی تھی کہ میری ناک ٹوٹے یا چہرہ بگڑے۔‘

اپنی طاقت کا احساس رہتا ہوگا، تو کیا کبھی اس طاقت کا استعمال کیا؟

ʹجب میں چوتھی جماعت میں تھی تو سکول میں چار لڑکوں کی پٹائی کی تھی جنھوں نے میرے ساتھ بدتمیزی کی تھی۔ لیکن بڑے ہو کر بندہ ایسے موقعوں پر چپ ہو جاتا ہے اور کہتا ہے کہ دوسرے کو کیا مارنا۔‘

ویٹ لفٹر

BBC

کیا پہلوانوں کی طرح ویٹ لفٹرز بھی کوئی خاص خوراک استعمال کرتے ہیں؟

’پاکستان میں یہ سوچ موجود ہے۔ میں نے ایک پاکستانی ویٹ لفٹر سے جب ٹریننگ لی تھی تو انھوں نے بھی مجھے خاص ڈائٹ استعمال کے لیے کہا تھا جس سے میرا وزن تو بڑھ گیا لیکن میری لفٹ میں بہتری نہیں آئی، لہذا میں نے پھر اپنی نارمل خوراک شروع کردی اور اب میں نارمل خوراک استعمال کرتی ہوں البتہ اپنی ٹریننگ پر مکمل توجہ دیتی ہوں۔‘

ویٹ لفٹر

BBC

افسوس میں نے ویٹ لفٹنگ دیر سے شروع کی

’بین الاقوامی سطح پر لڑکیاں بارہ تیرہ سال کی عمر میں ویٹ لفٹنگ شروع کردیتی ہیں لیکن میں نے تاخیر سے یہ شروع کی۔ اس کے باوجود میں 60 کلوگرام کلین اینڈ جرک تک پہنچ چکی ہوں۔ بدقسمتی سے یہاں سہولتیں موجود نہیں ہیں میں نے اپنے ہی گھر کے ڈائننگ روم کو جم میں تبدیل کر رکھا ہے اور باقاعدگی سے ٹریننگ کرتی ہوں۔‘

ربیعہ کا کہنا ہے کہ وہ کسی سپانسر یا فیڈریشن کی مدد کے بغیر بین الاقوامی مقابلوں میں حصہ لیتی رہی ہیں۔

’میں نے آسٹریلیا میں ہونے والی جس چیمپیئن شپ میں گولڈ میڈل جیتا اس میں اپنے وسائل سے گئی تھی اس سے پہلے بھی دبئی میں ہونے والی چیمپیئن شپ میں اپنے خرچ پر حصہ لیا تھا۔ میں منگولیا میں ہونے والی ایشین پاور لفٹنگ چیمپیئن شپ میں خود اپنے وسائل سے شرکت کرنا چاہتی تھی لیکن فیڈریشن میری انٹری بھیجنے کے لیے تیار نہیں۔‘

نظریں اولمپکس پر

ʹمیں اپنا شوق جاری رکھے ہوئے ہوں اور میری خواہش ہے کہ میں آئندہ اولمپکس میں شرکت کروں۔ ویٹ لفٹنگ کرنے کی ایک عمر ہوتی ہے جس کے بعد آپ نیچے آنے لگتے ہیں لہذا اس وقت میں ویٹ لفٹنگ کو خیرباد کہہ دوں گی اور اپنے والد کا بزنس سنبھال لوں گی۔‘

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 6404 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp