رات، سفر اور لڑکی


سپر مارکیٹ میں پیٹرول کی ٹینکی فل کرائی اور کار دھیرے سے آگے بڑھا دی۔ رات کے گیارہ بج رہے تھے۔ ایک سٹور کے سامنے کار روک کر باہر نکلا تو ٹھنڈی ہوا نے استقبال کیا۔ دسمبر کے مہینے میں اور کیا توقع کی جاسکتی ہے۔ بہر حال کھانے پینے کی چند اشیا خرید کر کار میں بیٹھا ہی تھا کہ لیفٹ ہینڈ سائیڈ پر کسی کی موجودگی کا احساس ہوا۔ نگاہ ڈالی تو ایک حسین چہرہ نظر آیا۔ شاید وہ کچھ کہنا چاہتی تھی۔ شیشہ نیچے کیا تو تھوڑا جھک کر بولی۔ ”اکیلے ہو؟“

” اب کہاں رہا، کہاں جاؤ گی؟“ میں نے مسکرا کر کہا۔ ”یہ تو تم پر منحصر ہے۔“ اس نے دلفریب مسکراہٹ کا جال پھینکا۔

” بیٹھو“ میں نے اشارہ کیا۔ وہ فوراً ساتھ والی سیٹ پر بیٹھ گئی۔ ”تمہیں کہاں ڈراپ کروں؟“ میں نے کار آگے بڑھاتے ہوئے کہا۔ ”کمال ہے، ایسے انجان بن رہے ہو جیسے جانتے نہیں۔“ لڑکی نے معنی خیز لہجے میں کہا۔ اس کا انداز اور گفتگو مجھے متاثر کر رہے تھے۔ میں نے اس کے سراپے پر ایک نظر ڈالی۔ عمر بیس اکیس سے زیادہ نہیں تھی۔ بلیک جینز، ریڈ شرٹ اور شانوں پر لہراتے براؤن بال، کمال کا کمبی نیشن تھا۔ سرخ و سپید رنگت، تیکھے نقوش مگر سب سے نمایاں بھرے بھرے تراشیدہ ہونٹ جن میں بلا کی کشش تھی۔

”تم سمجھی نہیں ہو، میری شرائط ذرا سخت ہیں۔“ میں نے ذرا توقف کے بعد کہا۔ اس نے ایک ہلکی سی ”ہوں“ کی۔ میں چند لمحے خاموش رہا۔ وہ بھی خاموش تھی۔ میں نے اسے دیکھا وہ سڑک کو گھور رہی تھی۔ ”بتاؤں کیا؟“ میں نے یوں ہی پر اسرار لہجے میں سوال کیا۔ ”اب بتاؤ گے یا یوں ہی تڑپاتے رہو گے؟“ اس نے بھی فوراً سوال کے جواب میں سوال کیا۔

” اچھا سنو! سوال صرف میں کروں گا تم کوئی سوال مت کرنا، مجھے تمہارا ساتھ صبح سات بجے تک چاہیے اور تمہیں مجھ سے ڈھیروں باتیں کرنی ہوں گی۔“ میں نے کہا۔ ”ڈھیروں باتیں۔ لیکن مجھے تو اتنی باتیں نہیں آتیں۔“ اس نے چونک کر حیرت سے کہا۔ ”اس کی تم فکر مت کرو، تم فقط وعدہ کرو۔“ میں نے سر جھٹکا۔

” وعدہ کروں یا سودا کروں، چلو ٹھیک ہے شرطیں تمہاری مرضی کی اور پیمنٹ میری مرضی کی۔“ وہ بڑے دلکش انداز میں مسکرائی۔ ”مجھے منظور ہے۔“ میں نے کار کی رفتار بڑھا دی۔ کار اب کشمیر ہائی وے پر تھی۔ ”تمہیں میوزک پسند ہے؟“ میں نے پوچھا۔ ”موسیقی ہی تو میری روح کو سکون دیتی ہے۔ میں جب تنہا ہوتی ہوں تو لتا جی کو سنتی ہوں، جگجیت سنگھ اور عابدہ پروین بھی میرے فیورٹ ہیں۔“

یہ سنتے ہیں میں نے میوزک آن کر دیا۔ ”نہ کوئی امنگ ہے، نہ کوئی ترنگ ہے، میری زندگی ہے کیا اک کٹی پتنگ ہے۔“ لتا کی آواز گونجنے لگی۔ ”تمہارا نام کیا ہے؟“

” کچھ بھی کہہ لو، اچھا سپنا سمجھ لو۔“ وہ بولی۔ میں مسکرا اٹھا۔ واقعی ایسی لڑکیوں کا کوئی ایک نام تو نہیں ہوتا۔ یہ میری خوش قسمتی تھی کہ وہ مجھے مل گئی تھی۔ میں اس سے باتیں کرتا رہا اور گاڑی آگے بڑھتی رہی۔ جب گاڑی نے موٹر وے ٹول پلازہ عبور کیا تو وہ چونک اٹھی۔ ”ہم جا کہاں رہے ہیں؟“

”شرائط بھول گئی ہو کیا؟ سوال میں کر سکتا ہوں تم نہیں، جب مناسب ہو گا تمہیں تمہارے ہر سوال کا جواب مل جائے گا۔“

” اوہ“ اس نے ناک سکیڑی اور میں مسکرا اٹھا۔ ”اچھا یہ تمہارے لہجے میں جنوبی پنجاب کی جو خوشبو ہے اس کی وجہ کیا ہے؟“
” واہ کیا سوال ہے جس کا جواب بھی تمہیں معلوم ہے، صاف ظاہر ہے میرا تعلق جس علاقے سے ہو گا اس کی مٹی کی خوشبو تو آئے گی۔“ اس نے بے تکلفی سے کیا۔

” میں در اصل یہ پوچھنا چاہتا تھا کہ تم اس شہر میں کیسے آئیں؟“
”نہ جانے کیوں گھما پھرا کر بات کر رہے ہو، اصل سوال یہ ہے کہ میں اس کاروبار میں کیسے آئی۔ براہِ کرم اس سوال کا جواب طلب نہ کرو، یہ میں نہیں بتاؤں گی۔“

”اچھا کافی پیو گی“ میں نے سوال بدلا۔ ”ضرور“ اس نے بھی مزاج بدلا۔ میں نے کار کا رخ چکری قیام و طعام کی طرف موڑ دیا۔ ریسٹورانٹ میں بیٹھ کر کافی کا آرڈر کیا۔ فضا میں ٹھنڈک تھی مگر اس پر سردی کا کوئی خاص اثر دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ میری نگاہ اس کی سرخ شرٹ پر تھی اور اس کی میرے چہرے پر۔ کافی نے تازہ دم کیا تو میں نے پھر سفر شروع کیا۔ اس نے گہری نگاہ سے مجھے دیکھا کچھ کہنا چاہا مگر خاموش رہی۔

” کیا ہوا بولو ناں؟“ میں نے کہا۔ ”پھر تم کہو گے ’سوال نہیں‘ بہتر ہے خاموش رہوں۔ معاہدہ کیا ہے نبھانا تو پڑے گا۔“ میں اس کی بات سن کر ہنس پڑا۔ واقعی تم دلچسپ لڑکی ہو۔

” اور تم بے حد عجیب ہو۔ شاید تم گاڑی میں ہی سب کچھ چاہتے ہو۔“ وہ بولی۔
”بڑی چالاک ہو، سب کچھ ابھی جان لینا چاہتی ہو، تھوڑا صبر کرو۔ بتا دوں گا۔“ میں نے کہا۔

” میں چالاک ہوتی تو میرا یہ حال نہ ہوتا، یہی تو مسئلہ ہے۔ میں بھی کتنی سادہ تھی جو لُٹ گئی اور یہ دنیا بڑی سیانی ہے۔“ سپنا نے عجیب سے انداز میں کہا۔ میں متوجہ ہوا، اب وہ اپنے بارے میں بتانے والی تھی۔ ”اس کا مطلب تو یہی ہے کہ قصور تمہارا ہی تھا۔“ میں نے کہا۔

” ہاں میرا ہی قصور تھا، اسی لئے تو اپنی سزا بھی میں نے خود تجویز کی۔ بی اے کر رہی تھی مگر خرم کے پیار میں پڑ کر نہ کر سکی۔ اس نے بڑے سبز باغ دکھائے تھے اور میں کتنی بے وقوف تھی۔ اس کی خاطر سب کو دھوکا دے کر اس کے ساتھ چلی آئی۔ ہم مری میں تین دن رہے۔ اس نے ان دنوں کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔ اور پھر مجھے ہوٹل کے کمرے میں چھوڑ کر بھاگ گیا۔ کمرے کا دو دن کا رینٹ بھی باقی تھا۔ میری سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ اس بے وفا کے دھوکے پر ماتم کروں یا اپنے پاگل پن پر قہقہے لگاؤں۔ وہ کامیاب ہو گیا تھا۔ شاید اب بھی دوستوں کو اپنی کامیابی کا قصہ سناتا ہو گا۔ لیکن میرے پاس کیا بچا تھا۔ متاع عزیز لٹ چکی تھی۔ لوٹ نہیں سکتی تھی ورنہ جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتی، میں تو گھر سے آنسوؤں کی طرح نکلی تھی واپسی کا تو سوال ہی نہیں تھا۔ پھر میں نے انتقام لینے کا سوچا، یہ میرا انتقام بھی ہے اور میری سزا بھی۔ مجھے کسی نے مجبور نہیں کیا۔ میں نے اپنی مرضی سے یہ کام شروع کیا ہے۔“

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں