کیا ہم معذور افراد کے لئے مہذب زبان استعمال کرتے ہیں؟


تین دسمبر معذور افراد کے حقوق کا عالمی دن ہے۔ اس وقت پوری دنیا میں معذور افراد کے حقوق کے لئے چلائی جانے والی تمام تحریکوں میں یہ بات زیر بحث ہے کہ اُنہیں معاشرے میں برابری کا درجہ کیسے حاصل ہو۔

معذور افراد اور میرا چولی دامن کا ساتھ ہے، میں نہ صرف پچھلے 12 سال سے کینیڈا میں اسکول بورڈ اور کمیونیٹی سرویس ایجنسیوں میں معذور بچوں اور ان کے والدین کے ساتھ کام کرہی ہوں بلکہ اپنی رشتے داروں اور دوستوں میں موجود معذور افراد کی مدد کرنا میری زندگی کا سب سے بڑا اعزاز ہے۔

شاید یہ ہی وجہ ہے کے میرے نزدیک ”لوگ صرف لوگ ہیں“ وہ معذورہیں اورہم نارمل کے خانوں میں بٹے ہوئے نہیں ہیں۔

دسمبر 2017 میں جب میں دس سال بعد کینیڈا سے پاکستان گئی توچند ایک چیزوں کو چھوڑ کر جو سماجی، معاشی اور سیاسی حالات دیکھے اُس سے دل کافی اداس ہوا، البتہ ان چند اچھی چیزوں میں سے جو چیزسر فہرست تھی وہ تھا شیل پٹرول پمپ پر کام کرتا ایک نوجوان۔ جس کی سروس جیکٹ پر لکھا تھا ”قوت سماعت سے محروم مگر آپ کی خدمت کے جذبے سے سرشار“۔

اس جُملے کو پڑھ کراچانک سے سڑک کے کنارے کھڑے معذور بھکاری کی حالت پرمیرے دُکھ میں تھوڑی سی کمی آگئی اور اُمید کی چھوٹی سی کرن نظر آنے لگی کہ پاکستان میں بھی معذوری کوصرف مجبوری اور کمزوری نہ سمجھنے کا آغازہوچکا ہے۔

اکثرفلموں اور ڈراموں میں ویلن یا پھرمضحکہ خیز کردار نبھانے والے شخص کو بھی کسی نہ کسی معذوری کا شکاردکھایا جاتا ہے۔ جب کے ہیرو کا کردار نبھانے والے افراد کو کبھی کوئی معذوری نہیں ہوتی۔ اس سے معاشرے میں معذور افراد کی منفی تصویرکشی کوسمجھنے میں بہت مدد ملتی ہے۔

چونکے معذور افراد نے میرے دل پر بہت مضبوطی سے قبضہ جما رکھا ہے لہٰذا مرتا کیا نہ کرتا۔ اپنے دل کو تکلیف سے بچانے کے لیے ان کے حقوق کی علم برداری کرنی پڑتی ہے، ان کے حقوق کی جنگ لڑتے ہوئے پہلی چیزجس سے میرا سامنا تقریبا ہر روزہوتا ہے وہ ہے معذورافراد کے لیے استعمال ہونے والے غیر مہذب الفاظ یا زبان۔

کسی گروہ کے لئے استمال کئیے جانے والے الفاظ کے پیچھے نا صرف تاریخ بلکہ یہ بات بھی چھپی ہوتی ہے کہ سوسائٹی اُسے اب کس نظر سے دیکھتی ہے، یقین نہ آئے تو واٹس اپ پر کثرت سے فارورڈ ہونے والے بیویوں پر بنے لطیفے پڑھیں۔ پاکستان میں ازواجی رشتے کی بدلتی ہوئی شکل اور اس پر ردعمل کے طور پر عورتوں کے خلاف سیکسیزم کے استمال کا اندازہ باخوبی ہوجائے گا۔

اسی طرح معذور افراد کے ساتھ سماجی اور معاشی نا انصافی کے بارے میں جاننا ہو تو سوچیں کہ ہم اُن کے بارے میں کس طرح کی زبان استمال کرتے ہیں۔

مثال کے طور پر نابینا افراد کو نام سے بُلانے کے بجائے صوفی صاحب کہنا۔ یا کسی صاحب کا غائبانہ تعارف یہ کہہ کر کروانا کہ فلاں صاحب جو لنگڑا کر چلتے ہیں یا ہکلا کر بولتے ہیں، فلاں صاحب جو ویل چیراستعمال کرتے ہیں۔

اور پھرذہنی معذوری کے ساتھ توہمارا سلوک سوتیلے بچوں کا سا ہے۔ اُسکے تو نہ صرف وجود سے انکار ہے۔ بلکہ اُس کے لیے تو ہمارے پاس غیر مہذ ب الفاظ بھی نہیں ہیں۔ ہمیں خود یا گھر میں اگر کسی کو کوئی نفسیاتی بیماری یا ذہنی معذوری ہو تو اس بات کو خفیہ رکھا جاتا ہے کیونکہ لوگ نفسیاتی مریض اورذہنی معذور افراد کا مذاق اُڑاتے ہیں اور اُنہیں پاگل کے نام سے مشہور کردیتے ہیں۔

ذہن نشین کر لیجیے کہ معذور افراد کے تعارف کے لیے بھی صرف اُنکے نام کا استعمال کرنا ہی کافی ہے۔ جسے باقی تمام افراد کے لیے کیا جاتا ہے۔

اکثر یہ بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ محفل میں پہلی بار ملنے پر کسی ماں سے اُن کے معذور بچے کے متعلق بہت آرام سے پوچھ لیا جاتا ہے کہ آپ کے بچے کو کیا پرابلم ہے۔ معذور افراد یا اُن کے والدین سے اُن کی معذوری سے متعلق صرف اس وقت ہی بات کرنا چاہیے جب آپ کی اُن سے اتنی بے تکلفی ہوچکی ہو کے ذاتی سوالات پوچھنا برا محسوس نہ ہو۔ بالکل اسی ہی طرح جسے پہلی بار ملنے پر کسی سے اس کے مذہبی اور سیاسی خیالت کے بارے سوالت کرنا کوئی مہذب بات نہیں۔

اسکے علاوہ رحم دلی کے جذبے سے سرشار ہوکر معذور افراد کے لئے بُرا محسوس نہ کریں، اور انہیں بیچارے معذور افراد، بدقسمتی سے معذوری کا شکارافراد نہ کہیں، handicapped جسے الفاظ تو بالکل استعمال نہ کریں۔ ہم سب جانتے ہیں کہ ان الفاظ کا استعمال معذور افراد کے لیے بنائے گئے برابری کے قوانین سے پہلے رائج تھا جب معذور افراد کو نہ تو تعلیم کی سہولیات میسر تھیں نہ وہ کوی باعزت پیشہ اختیار کرسکتے تھے۔ لہٰذاوہ اپنی ٹوپی ہاتھ میں لے کربھیک مانگتے تھے اوراسی لئے اُن کو handicap کہا جاتا تھا۔

یاد رکھیں کہ جب معذور افراد کے لیے فراہم کردہ جگہوں اور سہولیات کے بارے میں بات کریں تو لفظ ہینڈی کیپ استمال نہ کریں۔ بلکہ معذوریا ڈس ایبل افراد کے لیے سہولیات کہیں۔

دوسری طرف ایک طبقہ ایسا بھی ہے جوہمدردی میں معذور افراد کو اسپیشل، یا ڈیفرینٹ لی ایبل، باہمت، بہادر، خاص یا بہت بڑا انسان کہنے لگتے ہیں۔ معذور افرد ُسُپرہیومن نہیں ہیں آپ کے اور میرے جسے انسان ہیں اور ہر انسان کی طرح ان میں بھی کچھ ٹیلنٹ ہوتے ہیں اور وہ بھی کچھ کاموں میں ماہرہوتے ہیں۔ سوسائٹی ان کو سپرہیومن یا اللہ کے نیک بندے سمجھنے کے بجاے ان کے ٹیلنٹ اور مہارت کو فروغ دینے میں مدد دے تووہ ان کے لیے زیادہ اچھا ہوگا۔

کسسی بڑے آدمی نے کہا کہ
” درست الفاظ اور تقریباً درست الفاظ استمال کرنے میں اتنا ہی فرق ہے جتنا کے بجلی کے گرنے اور جگنو کے چمکنے میں ہے“

اگر آپ یا آپ کے اطراف میں دوست، رشتے دار کوی بھی معذور نہیں بھی ہے تب بھی مستقبل میں ایسا نہیں ہوگا اس بات کی کوئی ضمانت نہیں ہے۔ اگرآپ اپنی پوری زندگی میں کبھی جسمانی یا ذہنی معذوری کے حامل ہوجائیں توآپ کیا چاہیں گے کہ آپ کا تعارف کیسے کرایا جائے؟ یا اگر گھرکا کوئی فرد یا دوست معذور ہوجاے تو اُس سے کس طرح پیش آیا جائے۔ معذوری سب پرکبھی نہ کبھی اثر انداز ہوسکتی ہے اس لیے خود بھی معذوری سے متعلق قابل احترام زبان سیکھیں اور دوسروں کو بھی سکھائیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

ثمر اشتیاق کی دیگر تحریریں
ثمر اشتیاق کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں