نیا پاکستان: کامیابی کے شاندار سفر کی عالی شان شروعات


پہلے سو دن میں تحریک انصاف نے آئی ایم ایف سے قرضہ نہیں لیا۔ یہ ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔ ورنہ ہر نئی حکومت آتے ہی آئی ایم ایف کے در پر سوالی بن کر پہنچ جاتی ہے۔ اب سو دن سے زیادہ ہو گئے ہیں لیکن حکومت نے آئی ایم ایف سے قرضہ لیے بغیر ہی کام چلایا ہے۔ بلکہ آئی ایم ایف کے اصرار کے باوجود اسے ٹالا ہے کہ پہلے ہم اپنے برادر ممالک سے قرضہ یا پیکیج لیں گے اور اگر آپ سے لیا بھی تو بس آپ کا دل رکھنے کو بات کریں گے۔ حکومت کے علاوہ ہم آئی ایم ایف کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں جس نے قرضہ دینے میں بہانے کر کر کے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔

بعض افراد یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ مرشد خادم رضوی کے خلاف کارروائی کیوں کی گئی جبکہ چند ماہ قبل ہی جناب وزیراعظم ان کے مداح تھے۔ مرشد کے خلاف کارروائی ہرگز نہیں کی گئی۔ حکومت واضح طور پر بتا چکی ہے کہ مرشد کو گرفتار نہیں کیا گیا بلکہ ان کو حفاظتی تحویل میں لیا گیا ہے۔

اب آپ پوچھِیں گے کہ مرشد کو کس سے خطرہ تھا جو انہیں حفاظتی تحویل میں لینا پڑا؟ اگر آپ پچھلے کچھ عرصے سے مرشد کے بیانات سن رہے ہوں تو آپ نے نوٹ کیا ہو گا کہ انہوں نے پاکستان کو قرضوں سے نجات دلانے کا ایک قابل عمل منصوبہ پیش کیا تھا۔

ہماری رائے میں حکومت نے اس منصوبے کو سنجیدگی سے لیا ہے۔ اسے یہ احساس ہو گیا کہ اسرائیل اور امریکہ کہیں مرشد کے اس منصوبے سے خوفزدہ ہو کر مرشد کو اغوا نہ کروا لیں تاکہ ان کے بے پناہ ٹیلنٹ سے فائدہ اٹھا کر ہماری بجائے وہ خود ترقی کر جائیں۔ انہی سے بچانے کی خاطر مرشد کو حفاظتی تحویل میں لے کر صلاح مشورے کے لیے اپنے پاس بلایا گیا ہے۔ جبکہ ان مکار دشمنوں کو دھوکہ دینے کی خاطر وزیر اطلاعات نے مرشد کے خلاف غداری کا مقدمہ بنانے کا ارادہ بھی ظاہر کیا ہے تاکہ دشمنوں کے دل میں یہ خیال بیٹھ جائے کہ پاکستان قرض اتارنے کے لیے مرشد کی سکیم کو اپنے ہاتھوں ہی تباہ کر رہا ہے۔

گزشتہ دنوں ڈالر اچانک 142 روپے سے بھی مہنگا ہو گیا تو ناسمجھ اپوزیشن نے اسے حکومت کی ناکامی بتایا۔ حالانکہ یہ ایک نہایت اعلی درجے کا منصوبہ تھا۔ ڈالر کا ریٹ اس لیے چڑھنے دیا گیا تاکہ امپورٹڈ مال اتنا زیادہ مہنگا ہو جائے کہ لوگ درآمد شدہ مال کی بجائے ملکی سامان کی خریداری کو ترجیح دیں۔ ملکی مال کی زیادہ ڈیمانڈ ہو گی تو اس کے نتیجے میں ملک میں نہ صرف صنعتوں کا جال بچھ جائے گا بلکہ لاکھوں نئی ملازمتیں پیدا ہوں گی اور کاروبار شروع ہوں گے۔ اور ہمارا تیار کردہ مال جب ایکسپورٹ ہو گا تو اس کی ڈالروں میں قیمت کم ہو گی اور اس کی ویلیو چائنا کے مال جیسی ہو جائے گی۔

دوسری طرف ڈالر کا ریٹ چڑھنے کا فائدہ کپتان کی اصل سپورٹ بیس یعنی بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو پہنچے گا۔ ابھی جنوری میں جب وہ ایک ہزار ڈالر پاکستان بھیجتے تھے تو ان کو بری طرح لوٹا جاتا تھا اور انہیں ہزار ڈالر کے بدلے ایک لاکھ روپیہ بھی نہیں ملتا تھا۔ اب ان کو اتنے ہی ڈالروں کے بدلے ایک لاکھ پینتیس چالیس ہزار تک مل سکتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس کے نتیجے میں اب بیرون ملک سے دھڑا دھڑ ڈالر آنے لگیں گے اور ہمیں آئی ایم ایف سے وہ قرضہ لینے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی جو ہم لینے سے پہلے ہی انکاری ہیں۔

سٹاک مارکیٹ کے نیچے جانے اور شیئروں کی قیمت مٹی ہو جانے میں بھی یہ حکمت ہے کہ اب غریب آدمی بھی آسانی سے شیئر خرید سکتا ہے۔ حتی کہ خط غربت سے نیچے موجود شخص بھی اپنی مرغی کے چند درجن انڈے فروخت کر کے نیشنل بینک کے کئی شیئر خرید سکے گا اور اس کا مالک بن جائے گا۔

اپوزیشن کے کچھ حلقے یہ اعتراض کر رہے ہیں گورنر ہاؤس کی دیواریں گرا کر جنگلہ لگانا کروڑوں روپے کی فضول خرچی ہے۔ گورنر ہاوس کی دیوار گرا کر جنگلہ لگانے میں وہی حکمت ہے جس کی وجہ سے شاہجہاں نے لال قلعہ، تاج محل اور شالیمار بنوایا تھا۔ شاہ جہاں کے زمانے میں کسی غیر ملکی حملہ آور کے ہاتھوں قومی خزانہ لٹے ہوئے ایک ڈیڑھ صدی ہو چکی تھی۔ خزانہ پیسے سے لبالب بھرا ہوا تھا۔ بادشاہ نے یہ بڑے تعمیراتی منصوبے اس لیے شروع کروائے تاکہ غریب آدمی کو روزگار ملے۔ اب گزشتہ سو دن میں ملکی خزانہ نہیں لٹا تو اس میں بہت سا پیسہ جمع ہو گیا ہے۔ یوں گورنر ہاوس کی دیوار گرانے پر پہلے غریبوں کو روزگار ملے گا اور اس کے بعد پانچ کروڑ میں نئی دیوار بنانے پر انہیں مزید پیسے ملیں گے۔

تحریک انصاف نے پانچ سال میں ایک کروڑ جابز نکالنے کا اعلان کیا۔ اس عظیم منصوبے پر کام شروع کر دیا گیا ہے۔ پہلے مرحلے میں میڈیا ورکرز کو نکالا جا رہا ہے۔ اس سے وہ حکومت کے اشتہاروں پر پلنے کی بجائے اپنا کام دھندا شروع کریں گے۔ بعض نے تو سمال انڈسٹریز لگا بھی لی ہیں اور پکوڑے تلتے دکھائی دے رہے ہیں۔ حکومت پہلے ہی بتا چکی ہے کہ کوئی ملک اسی وقت ترقی کر سکتا ہے جب اس کی کاٹیج انڈسٹری ترقی کرے۔

اسی سلسلے میں مرغی، انڈے اور کٹوں کا کاروبار بھی شروع کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ یہ غذائی خود انحصاری کی طرف ایک اہم قدم ہے۔ بعض ناقدین کے مطابق اگر بہت بڑی تعداد میں لوگ مرغیاں پالنے لگیں تو مرغیوں اور انڈوں کی قیمت گر جائے گی۔ وہ بھول رہے ہیں کہ انڈیا اور افغانستان سے تعلقات بہتر کرنے پر زور دیا جا رہا ہے اور اس کے نتیجے میں یہ انڈے انہیں دے دیے جائیں گے۔

اسی طرح یاد دلایا جا رہا ہے کہ شہباز شریف نے بھی یہ سکیم شروع کی تھی جو اس وجہ سے ناکام ہو گئی کہ لوگوں نے مرغیوں کے انڈے دینے کا انتظار کرنے کی بجائے مفت کی مرغی پکا کر کھا لی۔ یہ یاد رکھنا چاہیے کہ شہباز شریف کی حکومت کی نیت نیک نہیں تھی اس لیے چوروں کو مور پڑ گئے اور وہ ناکام ہو گئی۔ اب کپتان کی نیت میں کوئی کھوٹ نہیں ہے اور اس کے تمام منصوبے کامیاب ہوں گے۔ بفرض محال کوئی دقت پیش بھی آئی تو کپتان ایک بڑا لیڈر ہے، وہ یوٹرن لے کر اس سے بھی بہتر منصوبہ سوچ لے گا۔ مثلاً بطخوں کی سکیم شروع کر دے گا جو چیف جسٹس کے ڈیم منصوبے کے ساتھ مل کر یقینی طور پر کامیاب ہو گی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1037 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar