اپنا بویا کاٹنے کی مثال اور اردو کی بگڑتی ہوئی شکل


پچھلے چند مہینوں کے دوران، انہی صفحات پر اردو کی بگڑتی ہوئی شکل کے کئی نوحے چھپ چکے ہیں جن میں سے تازہ ترین محترم رضا علی عابدی کی تحریر تھا۔ ان سارے نوحوں کا لب لباب یہ ہے کہ اردو میں علاقائی اور بین الاقوامی زبانوں کے الفاظ شامل ہوتے جا رہے ہیں، ٹی وی اور اخبارات میں شائع ہونے والی اردو کی گرامر درست نہیں، اور یہ کہ اردو کی جو نئی شکل وجود میں آ رہی ہے وہ اُس تہذیب کی نمائندہ نہیں ہے جو کہ روایتی اردو سے منسوب رہی ہے۔

اردو کے نوحے لکھنے والے ان تمام دوستوں سے دست بستہ عرض ہے کہ اس ساری خرابی کی وجہ سمجھنے کے لئے صرف ایک مصرع کافی ہے، اور وہ یہ کہ ”میری تعمیر میں مضمر ہے اک صورت خرابی کی“۔ اور خرابی کی اس صورت کو سمجھنے کے لئے ہمیں اُردو زبان کی تاریخ پر نظر ڈال کر اُسے ہمہ گیر لسانیاتی اصولوں پر پرکھنا ہو گا۔

ہمیں جتنا معلوم ہے، اُس کے مطابق یہ زبان عربی اور فارسی بولنے والے غیر ملکی حکمرانوں کے مقامی زبان بولنے والے فوجی اور دیگر ملازمیں کی زبانوں کے اختلاط سے پیدا ہوئی۔ یعنی مقامی لوگ اُس وقت جو زبان بھی بولتے تھے، (برج بھاشا، یا موجودہ ہندی کی کوئی قدیم شکل)، وہ اُس میں حکمرانوں کے الفاظ شامل کرتے چلے گئے، تاکہ حکمران اشرافیہ اگر اُن کی پوری زبان نہ بھی سمجھ پائے، تو کُچھ الفاظ سمجھ کر اُنکا مدعا جاننے میں کامیاب ہو جائے۔ اس طرح مقامی زبان میں اشرافیہ کے الفاظ (فارسی، عربی اور ترکی) شامل ہوتے چلے گئے۔

جب مختلف زبانیں بولنے والے افراد ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں، تو اُن کی زبانوں میں اختلاط اور امتزاج لازمی بات ہے۔ یہ روز ازل سے جاری ہے، اور تا بد قائم رہے گا، کیونکہ یہ ایک ہمہ گیر حقیقت ہے۔ لیکن اس اختلاط و امتزاج کے کُچھ ہمہ گیر لسانیاتی اصول ہیں، جو انسانوں نے نہیں بنائے بلکہ قدرتی طور پر انسانوں کے رہن سہن سے پھوٹے ہیں، اور پوری دُنیا کی زبانوں میں یکساں پائے جاتے ہیں۔ اردو کے لئے مسئلہ یہ ہے کہ اس زبان کے اصول انسانوں کے رہن سہن سے پیدا نہیں ہوئے بلکہ کچھ انسانوں (علما و فضلا ) نے خود طے کیے ہیں جو قدرتی لسانیاتی اصولوں کے خلاف ہیں۔

لیکن خلق خدا جب بولتی ہے تو وہ آپ کے بنائے ہوئے اصول پڑھ کر نہیں بولتی، وہ قدرتی اصولوں کے مطابق چلتی ہے۔ یہی کُچھ اردو کے ساتھ ہو رہا ہے۔ اردو میں جو تبدیلیاں اس وقت آ رہی ہیں، وہ قدرتی لسانیاتی اصولوں کے عین مطابق ہیں۔ یہ مسئلہ زبانوں کے اختلاط کی لسانیاتی حرکیات کا ہے۔ آئیے اس معاملے کا ایک طائرانہ جائزہ لیتے ہیں۔

ہر زبان کی اپنی ایک گرامر ہوتی ہے جو یہ اصول طے کرتی ہے، کہ کس قسم کے جملے کی ساخت کیسی ہو گی، کسی لفظ سے مزید الفاظ کیسے اخذکیے جائیں گے (مُشتقات)، جیسا کہ حفظ سے حفاظت، حافظ، محافظ وغیرہ۔ اور یہ بھی کہ ان الفاظ کی واحد جمع اور تذکیروتانیث کیسے کی جائے گی، اور مصادر کی گردانیں کس طرح بنیں گی۔ ان میں کُچھ استثنیات بھی ہوتی ہیں، لیکن عموماً یہ اصول پوری زبان کا احاطہ کرتے ہیں، اور بولنے والا جب ان اصولوں کو ایک بار سمجھ لیتا ہے تو وہ لاشعوری طور پر ہی انہیں ٹھیک سے استعمال کرنے لگتا ہے۔

لیکن اردو کی اپنی ایسی کوئی گرامر نہیں ہے۔ جو لفظ عربی سے آیا ہے، اُس پر عربی کی قواعد لگے گی، جو فارسی سے آیا ہے اُس پر فارسی کی اور جو ہندی سے آیا ہے اُس پر ہندی کی۔ اس لئے جو شخص اہل زبان نہیں ہے، وہ جب تک اردو کے ساتھ عربی اور فارسی کا عالم نہ ہو، وہ اردو صحیح طور سے لکھ اور بول ہی نہیں سکتا، اور نہ ہی زندگی بھر کبھی سیکھ سکتا ہے۔

اس کے بر عکس اگر لسانیاتی اصولوں کو دیکھیں، تو جب ایک زبان دوسری کسی زبان کا لفظ قبول کرتی ہے، تو اُس پر قبول کرنے والی زبان ہی کی گرامر لاگو ہوتی ہے نہ کہ اُس زبان کی جہاں سے وہ لفظ لیا گیا۔ مثال کے طور پر ”حافظوں کو کھانا کھلا دیں“ درست ہو گا اور ”حفاظ کو کھانا کھلا دیں“ غلط! ۔ محفل کی جمع ”محفلیں“ درست ہو گا اور ”محافل“ غلط! ۔ اس طرح فارسی سے آئے لفظ دوا کی جمع دوائیں درست اور ادویات غلط ہو گا۔ اس کی مثال آپ انگریزی میں دیکھ لیجیے۔ کہا جاتا ہے کہ انگریزی میں ایڈمرل عربی کے امیرالبحر سے ماخوذ ہے، لیکن اس کی جمع ایڈمرلز ہو گی امراءالبحر نہیں ہو گی۔ فارسی کا خاکی انگریزی میں عام استعمال ہوتا ہے، لیکن اس کی جمع خاکیز ہے خاکیان نہیں۔

اس سارے معاملے کو اگر اردو کے تاریخی پس منظر میں رکھ کر دیکھا جائے تو بات کو سمجھنا مزید آسان ہو جاتا ہے۔ اردو کی تشکیل سماجی مرتبے کے لحاظ سے ہم پلہ لوگوں کے باہمی اختلاط کی وجہ سے نہیں بلکہ حکمرانوں اور ادنیٰ مقامی ملازمیں کے اختلاط کے باعث ہوئی۔ اس کے پیچھے مقصد اشرافیہ کے ساتھ گفتگو میں سہولت پیدا کرنے کا تھا۔ اس لئے اشرافیہ کے الفاظ کو اشرافیہ کی گرامر میں استمعال کرنے کا مقصد یہ تھا کہ اُنہیں بات سمجھائی جا سکے۔

اسی طرح جب کسی نئے لفظ کی ضرورت محسوس ہو، تو اُسے اشرافیہ کی زبان سے لے کر اپنانے کا رواج قائم ہوا، کیونکہ مقامی زبانوں کے الفاظ لینے سے حاکموں کے ساتھ راہ و رسم میں کوئی سہولت پیدا نہیں ہو سکتی تھی۔ اس بنیاد پر اردو کو مقامی زبانوں کے ساتھ اختلاط سے بچا کر رکھنے کی روایت بھی رائج۔ اس کی ایک دلچسپ مثال یہ ہے کہ عربی اور فارسی کے الفاظ کو اضافت لگا کر مرکب بنایا جا سکتا ہے، جیسا کہ رختِ سفر، حرزِ جاں، خاکِ پا، لیکن خاکِ پیر غلط ہے۔

یعنی مجبوراً آپ نے حاکم زبان کے الفاظ کو ناپاک اور ملیچھ زبان کے الفاظ کے ساتھ بٹھا تو دیا، لیکن دونوں کا نکاح تو جائز نہیں ہو سکتا۔ بلکہ آپ اردو کی کسی بھی عام تحریر کو دیکھیں، تو اُس میں سب سے زیادہ الفاظ ہندی کے ہوں گے، لیکن بنیادی رویہ یہی ہے کہ ہندی اور اسی لحاظ سے مقامی زبانوں کو ناپاک اور کمتر سمجھ کر اُن سے حتی الوسع پرہیز کیا جائے۔ بہت عرصے تک اردو کی کسی تحریر کو خوبصورت سمجھا ہی تب جاتا تھاجب اُس میں بلا وجہ عربی اور فارسی الفاظ کی بھرمار ہو۔ نفس مضمون کی اہمیت ثانوی تھی۔ یہی وہ وجوہات تھیں جنہوں نے اردو کو عوام کی زبان بننے نہیں دیا۔ دلی اور لکھنؤ کے ارد گرد یو پی سی پی کے دیہات میں بھی جو زبان بولی جاتی تھی وہ ٹیکسالی اردو کی نسبت کہیں زیادہ مقامی رنگ میں رنگی ہوئی تھی۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں