اوریا۔۔۔ نیت


\"usmanعریانیت تو ٹھہری نری برہنگی مگر اوریانیت کے معانی خود اس لفظ میں پوشیدہ ہیں، یہ دراصل اوریا کی نیت کو کہتے ہیں، اس نیت کے ساتھ عورت کے وجود کو ان زاویوں سے دیکھا جاتا ہے کہ خود عورت ان سے لاعلم رہتی ہے

اوریانیت ان دنوں کافی مقبول ہے اور ایک بہت بڑے طبقے کی گویا جان ہے، کسی عورت کو اوریانیت کی نگاہ سے دیکھنے کا لطف ہی کچھ اور ہے

عورت کے جسم میں سینے کا ابھار ایک فطری اظہار ہے، اس کو لاکھ پردوں میں چھپایا جائے،اوریانیت کے ماہر کی نگاہ سے وہ نہیں بچ سکتا، یہ نگاہ تیر کی طرح عورت کے جسم میں پیوست ہوجاتی ہےاور پھر اس کے جسم کو گوشت کا لوتھڑا سمجھ کر چیل کی نگاہوں سے بوٹی بوٹی تولتی ہے

اوریانیت کے فن کا مظاہرہ کرنے کےلیے تصور کا مضبوط ہونا بہت ضروری ہے، آپ کسی ملبوس عورت کو دیکھ کر اگر اس کے سینے کی پیمائش کررہے ہیں تو مبارک ہو کہ آپ اوریانیت زدہ ہیں مگریہ فن کس درجے میں ہے، اس کا تعین تصور سے ہو گا کہ آپ کتنا دور تک سوچ سکتے ہیں

ایک ماہر اوریانیت کے لیے عورت کے جسم کے دو مرکزی حصے ہوتے ہیں، ایک ناف سے نیچے اور دوسرا عورت کا سینہ ۔۔

دنیا بھر کی خواتین عموما ان دونوں منطقوں کو اپنی اپنی ثقافت کے اعتبار سے سات پردوں میں لپیٹ کررکھتی ہیں مگر ان نگاہوں سے کچھ نہیں بچ سکتا جن کو اوریانیت سے آگہی ودیعت ہوئی ہو، چناچہ وہ تصور ہی تصور میں پہلا، دوسرا ، تیسرا اور پھر ہر پردہ گردیتے ہیں، گویا عورت کو حاصل کئے بنا وہ اپنے تصور میں ہی عورت کو پا لیتے ہیں

مرد کی لذت کے حصول کا اتنا سستا نسخہ شاید ہی کبھی دریافت ہوا ہو، دنیا بھر کے مرد عورت کو متاثر کرنے کی کوشش کرتے ہیں، عشق کرنے والے اپنے جذبات کی سچائی ثابت کرنے کے لیے خود کو تباہ کرلیتے ہیں، عام طور پر عورت کی قربت کا ایک ذریعہ اس کا اعتبار جیتنا ہوتا ہے مگر اوریانیت کا فن کار اس سارے جھنجھٹ میں نہیں پڑتا، اس کی نگاہوں میں وہ ٹیلی اسکوپ نصب ہوتی ہے ، جس سے چیونٹی کے بدن کو بھی سینکڑوں زاویوں سے ماپا جا سکے اور عور ت کو دیکھتے ہی اس کی آنکھوں کی پتلیاں سکڑتی ہیں، ہزاروں بلب روشن ہوتے ہیں اور ابھی عورت کو متاثر کرنے والے آداب ہی کر رہے ہوتے ہیں کہ ماہر اوریانیت اپنے تصور میں عورت کے کپڑے اتار چکا ہوتا ہے

اگر آپ اوریانیت زدہ مرد کی رفتار دیکھ کر خوش ہو رہے ہیں تو ذرا ٹھہریئے ۔۔!!

اوریانیت کے ساتھ ایک مسئلہ یہ ہے کہ چونکہ یہ عورت کو صرف تصور میں حاصل کرنے کا ذریعہ ہے چناچہ جیسے ہی یہ لوگ حقیقت کی دنیا میں آتے ہیں، یہ اس عورت کے دشمن ہو جاتے ہیں، ایسے لوگ عورت کو تو متاثر کر نہیں سکتے تو یہ اس کو بدنام کرنے لگتے ہیں

اوریانیت زدہ لوگوں کو لگتا ہے کہ عورت تمام مسائل کی جڑ ہے، یہ ہر گناہ کی وجہ ہے، یہ کیفیت دراصل ان لوگوں کی بے بسی کا اظہار ہوتی ہے، اس لیے اوریانیت کو آپ ایک ذہنی مرض بھی کہہ سکتے ہیں

اوریانیت زدہ مریض کبھی بھی اپنے عارضے کو تسلیم نہیں کرتے بلکہ اخلاقیات، مذہب اور روایات کی آڑ لے کر اوریانیت کو عریانیت ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ عریانیت تو ٹھہری نری برہنگی۔

اوریانیت کی ایک بہت طویل تاریخ ہے، ماضی میں اس کی جڑیں بہت گہری ہیں، جب سے عورت کا وجود ہے، اس وقت سے اوریانیت موجود ہے، اس لیے اسے کسی خاص شخصیت سے منسوب کرنا تنگ نظری ہوگی اور ایسا کرنے والا جہنم کی آگ میں جلے گا، اس کی قبر میں کیڑے پڑیں گے،ایسے کسی بھی شخص کو دوزخ کے دو منہ والے سانپوں سے واسطہ پڑے گا جن کی ہر پھنکار کے ساتھ شرارے نکلتے ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

2 thoughts on “اوریا۔۔۔ نیت

  • 27-06-2016 at 3:15 am
    Permalink

    تحریر خاصی مبالغہ پر مبنی،احترام اور شائستگی کی حدوں کو عبور کرتی، کسی حد تک بد تمیزی کا تاثر لیے ہوئے ہے۔ اسے کہتے ہیں پیالی میں طوفان اُٹھانا۔ اوریا مقبول جان — جو کہ رائٹ ونگ سے تعلق رکھنے والے، مذہبی سوچ کے حامل ایک بزرگ کالم نگار ہیں — نے اپنے مشاہدات کچھ حوالوں کے ہمراہ پیش کرتے ہوئے عورت کا دفاع ہی تو کیا ہے۔ بجا کہ ان کا لب و لہجہ گاہے تلخ ہو جاتا ہے، لیکن وہ اپنی طرز کے خلوص کا ایک رنگ ہی تو ہے۔ مذہب کا حوالہ نہ بھی ہوتو آجکل کے اشتہارات کے معیار پر، ان کے مواد اور ویژوولز پر کون ذی روح ہے جو مضطرب نہیں۔ خود لبرل سوچ کے حامل افراد میں بھی سخت تشویش پائی جاتی ہے جو انہیں اخلاق باختہ قرار دینے میں کوئی جھجک محسوس نہیں کرتے کہ اس نوع کا مواد ہماری مشرقی تہذیب کے شایان شان نہیں۔ یاسر پیر زادہ صاحب کا وہ کالم تو سب کو یاد ہی ہو گا جو بیکن ہاؤس یونیورسٹی کی لڑکیوں کی اُس بدنامِ زمانہ حرکت پر سرزنش کرنے کے ضمن میں لکھا گیا۔

  • 03-07-2016 at 6:06 am
    Permalink

    شائستگی کی حدوں سے پار تحریر، جو عورت کے جسم کے گرد گھوم رہی ہے۔ انکی اپنی نگاہوں کا سرٹیفیکیٹ کون دیگا۔

Comments are closed.