خیبر ٹیچنگ ہسپتال پشاور میں سکیورٹی گارڈ کا مریضوں کا ’معائنہ‘، چھ اہلکار معطل

اظہار اللہ - بی بی سی پشتو


خیبر پختونخوا کے دوسرے بڑے سرکاری ہسپتال خیبر ٹیچنگ ہسپتال پشاور میں مبینہ طور پر ایک سکیورٹی گارڈ کے مریضوں کا معائنہ کرنے کا واقعہ پیش آنے کے بعد ہسپتال نے انکوائری کا حکم دیا ہے۔

ہسپتال کے ترجمان فرہاد خان نے بی بی سی کے نامہ نگار اظہاراللہ کو بتایا کہ یہ واقعہ پیر اور منگل کی درمیانی شب تقریباً دو سے تین بجے کے درمیان پیش آیا ہے جہاں ایک سکیورٹی گارڈ ڈاکٹر یا نرس کی کرسی پر بیٹھ کر مریضوں کا بلڈ پریشر چیک کر رہا ہے۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وردی میں ملبوس ایک سیکورٹی گارڈ مریض کا معائنہ کر رہا ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ ہسپتال کے ایمرجنسی روم کے ساتھ متصل ٹرائی ایج کمرہ ہے جہاں پر پہلے مریضوں کا بلڈ پریشر، بخار چیک کیا جاتا ہے اور پھر اس کو ڈاکٹر کے پاس ڈاکٹر روم میں بھیج دیا جاتا ہے۔

‘اسی کمرے میں نرس بیٹھے ہوتے ہیں جہاں وہ مریضوں کا بلڈ پریشر، بخار چیک کرتے ہیں اور پھر ان کو ڈاکٹر کے پاس بھیج دیتے ہیں۔’

ہسپتال کی طرف سے جاری کردہ ایک نوٹیفیکیشن کے مطابق اس واقع میں ملوث چھ میڈیکل اہلکاروں کو معطل کیا گیا ہے۔

ان چھ اہلکاروں میں نائٹ شفٹ کے ڈی ایم ایس ڈاکٹر عنایت اللہ، نائٹ شفٹ کے دو سروس لائن منیجر صدام حسین اور امیر بادشاہ، انچارج نرس سعید اللہ، شاہدہ شمس اور نورین فضل کو معطل کیا گیا جبکہ ہسپتال کے ترجمان کے مطابق سکیورٹی گارڈ کو نوکری سے برخاست کر دیا گیا ہے۔

ترجمان سے جب پوچھا گیا کہ کیا سکیورٹی گارڈ کو اس کمرے میں آنے کی اجازت ہے، تو ان کا کہنا تھا کہ ہسپتال کی انتظامیہ سکیورٹی گارڈ کو جہاں ضرورت ہو وہاں تعینات کرتی ہے۔

انھوں نے مزید بتایا کہ ہو سکتا ہے کہ یہ کسی نے شرارت کی ہو اور ایک سکیورٹی گارڈ کو نرس کی کرسی پر بٹھا کر اس کی تصاویر لے لی گئی ہوں لیکن یہ انکوائری رپورٹ آنے کے بعد پتہ لگ جائے گا۔

‘ایسا ممکن ہے کہ نرس اسی وقت کسی ضرورت کے پیش نظر باہر گئی ہوں اور سکیورٹی گارڈ ان کی کرسی پر آکر مریضوں کا بلڈ پریشر چیک کر رہا ہو۔’

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 6337 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp