فیصل آباد میں ادب کا جشن


کئی مہینوں پہلے کی بات ہے، لاہور سے شیبا عالم سیدکا فون آیا، وہ کنیرڈکالج میں پڑھاتی ہیں۔ ہمارے معروف ادیب اصغر ندیم سید ان کے نصف بہتر ہیں۔ وہ اور ان کی دوست، توشیبا سرور اور سارہ حیات فیصل آباد لٹریچر فیسٹیول کی کرتا دھرتا ہیں۔ شیبا اورتوشیبا کا کہنا تھا کہ 5ویں فیصل آباد فیسٹیول میں آپکو ضرور آنا ہے۔

فیصل آباد اب پاکستان کا تیسرا بڑا شہر ہے۔ وہاں ادب کا جو جشن منایا جاتا ہے، اس کا بہت شہرہ ہے۔ان ہی تاریخوں میں کراچی آرٹس کونسل کا بھی ادبی جشن تھا۔ میں شیبا اور توشیبا سے پہلے وعدہ کرچکی تھی، اس لیے میں نے کراچی آرٹس کونسل کی افتتاحی تقریب میں شرکت کرکے اور ہندوستان سے آنے والے دوستوں شمیم حنفی، نورظہیر اور نجمہ رحمانی سے معذرت کی اور فیصل آباد کا رخ کیا۔

پرانی بات ہے، ہمارا ایک شہر لائلپور ہوتا تھا جس کی مٹی سے ہمارے جی دار اور نام دار بیٹے بھگت سنگھ نے جنم لیا۔ وہ اور اس کے ساتھی مرا رنگ دے بسنتی چولا اور سرفروشی کی تمنا ہمارے دل میں ہے … دیکھنا ہے زورکتنا بازوئے قاتل میں ہے … گاتے گنگناتے ہوئے دار پر چڑھ گئے۔

پھر پاکستان بنا اور اس کے حکمرانوں نے ایک بادشاہ کی مرحمت خسروانہ کے سبب اس شہرکا نام اسے دان کر دیا۔ لائل پور راتوں رات فیصل آباد ہوگیا۔اس کے بہت سے رہنے والے آج بھی اسے پرانے نام سے یاد کرتے ہیں۔

’’خواب دیکھنے والا معاشرہ : ادب اور فنونِ لطیفہ میں ’’ایک ایسا موضوع ہے جو دل کو لبھاتا ہے، لیکن فلائٹوں کی تاخیرکے سبب میں پہلے دن نہ پہنچ پائی، اسی لیے جسٹس (ر) ناصرہ جاوید اقبال، غازی صلاح الدین اور نیر دادا کو نہ سن سکی۔ دوسرا دن ہنگامہ خیز تھا ۔ ہنگامہ خیز اس لیے کہ اس روز 13نشستیں ہوئیں جن میں اکیسویں صدی کے شعری مزاج، اردو فکشن: داستان سے میجک رئیلزم تک ، فیض اور فنون لطیفہ ، مدیحہ گوہرکی یادیں ۔

وراثتوں کے امین ایسے موضوعات پرگفتگو ہوئی ۔ کشور ناہیدکے تازہ مجموعۂ کلام ’’شیریں سخنی سے پرے‘‘ اور اصغر ندیم سید کا افسانوی مجموعہ ’’کہانی مجھے ملی‘‘ پر گہری اور دلچسپ باتیں رہیں۔اس جشن میں نجیب جمال، ارشد محمود ،آصف رضا میر، فاروق قیصر ،جمال شاہ ، یاسمین طاہر ، نعیم طاہر، عطا اللہ عیسیٰ خیلوی، انور مقصود ، حارث خلیق، عارفہ سیدہ ، عکسی مفتی، عارف نظامی اور اپنے اپنے شعبوں کے متعدد معروف افراد شریک تھے ۔

’’اردو فکشن کی جڑیں … داستان سے میجک رئیل ازم تک‘‘ کے موضوع پر مسعود اشعر ، ڈاکٹر ناصرعباس نیرکو اور مجھے گفتگو کرنی تھی ۔ حمید شاہد اس پروگرام کی کمپیئرنگ کر رہے تھے ۔ ناصر عباس تنقیدکے آدمی ہیں، انہوں نے اس موضوع پر علمی انداز میں نظر ڈالی۔ مسعود اشعرکالم اور افسانے لکھتے ہیں۔ انہوں نے ہندی اور انگریزی سے بعض اعلیٰ کتابیں ترجمہ کی ہیں وہ بھی اس موضوع پر خوب بولے۔

اس بارے میں میرا کہنا تھا کہ اردو فکشن کی جڑیں ہندوستانی ادب کے ماضی بعید میں اتری ہوئی ہیں۔ بیتال پچیسی، آرائش محفل، باغ و بہار، فسانۂ عجائب ،طلسم نور افشاں، طلسم ہوشربا ، بالا باختر،کوچک باختر، جاتک کہانیاں ،کتھا سرت ساگر۔ سب ہی اردو فکشن کی بنیاد ہیں ۔

حکیم لقمان کی حکایتیں، سعدی کی گلستان وبوستان،الف لیلہٰ اور حاتم طائی کے قصے بھی ہمارے شعور اور لاشعور میں پیوست ہیں۔ ان ہی کی سرسبزی اور شادابی سے ہمارا فکشن سیراب ہوا ہے اور تب ہی اس نے اتنی تیزی سے قدوقامت نکالا ہے۔ اردو فکشن کئی مرحلوں سے گزرا ہے، راشد الخیری، پریم چند، سدرشن ،خواجہ حسن نظامی اور عظیم بیگ چغتائی کے سادہ اور پُر اثر بیانیے سے گزرکر اس کی تاریخ میں عصمت، منٹو،کرشن چندر ، غلام عباس ، قرۃ العین حیدر اور متعدد اہم لکھنے والوں کے نام آتے ہیں ۔ یہ وہ لکھنے والے ہیں جن کی تحریروں میں مغرب کے متعدد ادبی تجربوں کی تہ داریاں آئیں ۔

ہمارے لکھنے والے صرف ہندی اور انگریزی ہی نہیں، روسی اور فرانسیسی ادبی رجحانات سے بھی متاثر ہوئے۔ اور اب معاملہ اٹھا ہے اردو میں میجک رئیل ازم کا ۔ یہ مغرب کے لیے بھی ایک نئی ادبی اصطلاح ہے کہ 1955ء میں اس کا ظہور ہوا ۔ مصوری کی دنیا میں یہ اصطلاح 1925ء میں وارد ہوئی تھی۔ارجنٹائن کے جورج لوئی بورخیس نے اس طرزِ بیاں کی بنیاد ڈالی۔اس کی بہت بڑی وجہ لاطینی امریکا کے ملکوں میں آمروں کی حکومتیں تھیں ۔

اردو ادب کی بات کرتے ہوئے میں نے صرف دو ادیبوں کا ذکرکیا، ان میں سے ایک کرشن چندر ہیں اور دوسری قرۃ العین حیدر ۔ ’’الٹا درخت‘‘ کہنے کو بچوں کے لیے لکھا جانے والا ناول ہے لیکن اسے پڑھتے ہوئے احساس ہوتا ہے کہ انسانوں اور جادوگروں کی کیسی داستان ہے کہ سانس نہیں لینے دیتی ۔

حقیقت میں جادونگری کا دخل ہے اور جادو ، انسانوں کی حقیقی دنیا سے گلے مل رہا ہے۔ 12برس کا یوسف بادشاہ کی فوج میں جبری بھرتی سے انکارکرتا ہے اور پھر اس کی دنیا ہی بدل جاتی ہے ۔ یہ وہ زمانہ ہے جب امریکی نوجوان ویتنام جانے سے انکارکر رہے تھے اور جبری لام بندی کے خلاف تھے ۔

اسی طرح قرۃ العین حیدر کا افسانہ ’’ ملفوظات حاجی گل بابا بیکتاشی ‘‘ ہے جس میں 600 برس پہلے کے بیکتاشی درویش اپنی خانقاہ میں اپنے شاگردوں کو حکایات قدیم وجدید کے ذریعے درس دیتے تھے ۔

وہ کہتے ہیں میرے پاس واپس  جانے کے لیے کوئی ٹھکانہ نہیں ہے ۔ استانبول کے 256 تکیے ، نصف صدی پہلے ایک صاحب الزماں (کمال اتا ترک) کے حکم سے بند کردیے گئے ۔ چند ایک کے ماڈل عجائب خانوں میں رکھے ہیں ۔ یہ فقیر حقیر بھی ایک گلاس کیس میں کھڑا ہے ۔ قرۃ العین کے اس افسانے میں حقیقت اور خیال  یوں باہم ہوئے ہیں کہ ایک کو دوسرے سے جدا کرنا ممکن نہیں رہتا ۔

ان کا دوسرا افسانہ ’’ سینٹ فلورا آف جارحیا کے اعترافات ‘‘کے عنوان سے سامنے آیا۔ سینٹ فلورا 19برس کی عمر میں باپ کے حکم سے راہبہ بناکر ایک خانقاہ میں داخل کر دی گئی تھی ۔ 45 برس کی عمر میں ختم ہوئی لیکن دل سے خواہش دنیا نہیں جاتی ۔ سال بھر ذی روح رہنے کی اجازت ملتی ہے ، تو وہ اپنی دوسراہت کے لیے کسی اور دلچسپ مردے کو زندہ کرنے کی ضد کرتی ہے اور پریشاں حال فرشتہ اس کی یہ دونوں خواہشیں پوری کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے ۔ اس کے ساتھ فادرگریگری اور بیلیانی آف جارجیا سال بھر کے لیے زندہ کردیا جاتا ہے ۔

وہ ساڑھے تیرہ سو برس موت کی نیند سوئی ہے،کچھ یہی عالم فادرگریگری کا ہے ۔ یہ افسانہ دو روحوں کی ایک برس کی سیرکا قصہ ہے جس میں یہ دونوں قیمتی لباس اور نادرکتابیں چراتے ہیں۔ پولیس ان کے تعاقب میں ہے اور جب انہیں پکڑتی ہے تو سال پورا ہوچکا ہے ۔ وہ اپنے ماسک اور قیمتی اوورکوٹ ، دستانے اور مفلر اتارتے ہیں اور اب جاسوسوں کے سامنے دوخستہ حال اور کھڑکھڑاتے ہوئے انسانی پنجر ہیں۔ اس کہانی کو پڑھتے چلے جائیں ذرا بھی گمان نہیں گزرتا کہ یہ دو دُنیاؤں کی کہانی ہے ۔

میجک رئیل ازم کی بات چلی تو مجھے اپنی کہانی ’’رقص مقابر‘‘ یاد آئی ۔ کابل جانے والے جہازکے پنکھ پر شہرکابل کا عاشق مغل بادشاہ بابر بیٹھا ہے ۔وہ از اول تا آخرکہانی میں سفر کرتا رہتا ہے ۔ اور پڑھنے والوں کو 450 برس پہلے ختم ہوجانے والے مغل بادشاہ بابر کا ذکر ذرا بھی عجیب محسوس نہیں ہوتا ۔

شیبا،توشیبا اور سارہ حیات نے میزبانی کا حق ادا کر دیا۔ مہمانوں کی خاطریں یوں کررہی تھیں کہ ہر مہمان اپنے آپ کو مہمان خاص سمجھ رہا تھا۔ ادیبوں اور لکھنے والوں کی ایسی قدر دانی میں نے برسوں پہلے جے پور لٹریچر فیسٹیول میں دیکھی تھی۔ ان کے تمام مہمان 23 نومبر کی رات کو رخصت ہوئے لیکن میرا معاملہ یہ تھا کہ دو دن بعد فیصل آباد یونیورسٹی کے انگلش ڈپارٹمنٹ میں ڈاکٹر مظہر حیات اور شاہدہ حیات کی میزبانی بھی راہ تکتی تھی۔

بشکریہ ایکسپریس

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں