آئیں جنت تعمیر کریں!


\"1-yasir-pirzada\"امجد صابری کے خاندان کے لئے وزیر اعظم نے ایک کروڑ کی امداد کا علان بھی کر دیا ہے ، ان کے بچوں کی تعلیم بھی حکومت کی ذمہ داری ہوگی ، ان کے جنازے میں ہزاروں افراد نے شرکت بھی کی ، ہر آنکھ ان کے لئے نم ہوئی ، ٹویٹر پر ان کے نام کا ٹرینڈ بھی دو دن تک سر فہرست رہا، ان کے قاتلوں بھی کو بالآخر گرفتار کر لیا جائے گا ۔۔۔۔۔لیکن ایک کام کبھی نہیں ہو سکے گا ، امجد صابری اب اس دنیا میں واپس نہیں آ سکیں گے ، چار معصوم بچے اب کبھی اپنے باپ کا چہر ہ نہیں دیکھ سکیں گے ، ان کی بیوہ اپنے شوہر کی تصویر سرہانے رکھ کر رویا کرے گی ، ماں مرتے دم تک اپنے جوان بیٹے کی اندوہناک موت کا غم سہتی رہے گی ،بھائی کے لئے امجد صابری اب فقط ایک نام رہ جائے گااور پھر ساری دنیا اپنے اپنے کامو ں میں مشغول ہو جائے گی !امجد صابری فقط ایک قوال کا نام نہیں تھا ، یہ پاکستان کا نام تھا ، جوان رعنا ، حس مزاح سے بھرپور ، کرکٹ کا شوقین ، عاشق رسول ﷺ، بچوں سے محبت کرنے والا شفیق باپ ، لوگوں کے دکھ درد بانٹنے والا، ماں کا فرمانبردار ، بھائی کا دوست اور بیوی کا محبوب۔۔۔۔ایک پاکستانی کی اس سے اچھی تعبیر اور کیا ہو سکتی ہے !سو قاتلوں نے امجد صابری پر نہیں پاکستان پر حملہ کیا اور اسی لئے پوری قوم نے اس غم کو اپنا غم سمجھ کر ماتم کیا۔صابری برادران اور ان کی قوالی کی اس ملک میں ایک روایت ہے ، ہم بچپن سے انہی کی قوالیاں سنتے آئے ہیں،رمضان المبارک کا موقع ہوتا یا ربیع الاول کا ، پی ٹی وی کی محفل سماع غلام فرید صابری اور مقبول احمد صابر ی کے بغیر مکمل نہ ہوتی ، امجد صابری کا تعلق اس خاندان کی دوسری نسل تھا، شائد اب یہ روایت قائم نہیں رہ سکے گی ۔

کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ یہ تمام منحوس سانحات ہمارے مقدر میں ہی کیوں لکھ دئیے گئے ہیں ، آرمی پبلک سکول میں بچوں کا قتل عام ہو یا باچا خان یونیورسٹی میں حملہ، گلشن اقبال پارک لاہور میں خود کش دھماکہ ہو یا کرنل شجاع خانزادہ کی شہادت ، ایک طویل سلسلہ ہے بربریت کے ان واقعات کا جن کی نحوست کی درجہ بندی کرنا ممکن نہیں کہ جس کے پیارے ان میں مارے جاتے ہیں اس کے لئے وہی واقعہ دنیا کا بد ترین واقعہ ہے۔ مگر کیا یہ صرف ہمارے مقدر ہیں ؟ یا ہماری اپنی بھی کچھ غلطیاں ہیں ؟ انسانوں کی طرح قوموں سے بھی غلطیاں ہوتی ہیں مگر دانش مند لوگ ان غلطیوں کو دہرانے کی بجائے ان سے سیکھ کر آگے بڑھتے ہیں۔ قوموں کا وطیرہ بھی یہی ہونا چاہیے مگر بد قسمتی سے ہم اب بھی ایسا نہیں کر رہے ۔ ایک مثال پیش خدمت ہے ۔ دنیا کی ہر حکومت ہر سال اپنا ایک بجٹ بناتی ہے ، یہ اخراجات اور آمدن کا ایک تخمینہ ہوتا ہے ، آمدن کے حصول کے لئے ہر حکومت عوام سے ٹیکس وصول کرتی ہے ، اس کے بعد یہ پیسہ عوامی فلاح کے کاموں ، حکومتی امور اور ملک کے دفاع پر خرچ کیا جاتا ہے ۔ مگر کیا کبھی آپ نے سنا ہے کہ ایک ملک کی وفاقی حکومت تو ملک کے دفاع کی خاطر اپنی فوج کے لئے بجٹ میں رقم مختص کرے اور اسی ملک کی ایک صوبائی حکومت اپنی ہی فوج کے خلاف لڑنے والے ایک گروہ کے لئے بجٹ میں رقم مختص کر دے !!!جی ہاں ، یہ اپنے ہی ملک میں ہو سکتا تھا اور بد قسمتی سے ہو چکا ہے ۔گویا ایک صوبائی حکومت ببانگ دہل اپنی حکومت میں اُن کے لئے بجٹ مختص کئے بیٹھی ہے جو پاک فوج کے خلاف ہتھیار اٹھانے کو جائز  سمجھتے ہیں ، کیا اس بات کا اعتراف ہی جرم نہیں ؟ایک دوسری صوبائی حکومت میں تو ایک شخص کو محض اس الزام پر ہی گرفتار کیا جا چکا ہے کہ اس کے ہسپتال کے ذریعے دہشت گردوں کو مدد فراہم کی جاتی تھی جبکہ یہاں تو صوبائی حکومت باقاعدہ فنانسنگ کرنے کا اعتراف کئے بیٹھی ہے اور ہم امجد صابری کو رو رہے ہیں کہ نہ جانے کون لوگ ہیں جنہوں نے اسے قتل کیا!

اسی بارے میں: ۔  اللہ بھٹو سائیں کا بھلا کرے

کبھی کبھی مجھے لگتا ہے جیسے ہم خود اپنے قاتل ہیں ۔ایک طویل عرصے تک ہم نے اس حقیقت سے منہ موڑے رکھاکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہماری نہیں ، اب جب پوری قوم فوج اور حکومت کے شانہ بشانہ یہ جنگ لڑ رہی ہے اور اسے ”اون “ بھی کر رہی ہے تو کہاں گئے وہ راپ الاپنے والے جو بھیرویں سناتے تھے کہ یہ امریکہ کی جنگ ہے ، ہماری نہیں ! اس کے بعد ہم نے ہزاروں بے گناہوں کی لاشیں اٹھائیں اور اب بھی اٹھا رہے ہیں مگر یہ نہیں مانا کہ دراصل یہ ”ہمارے اپنے لوگ ‘ ‘ ہیں جو بازاروں ، مزاروں، درگاہوں ، مارکیٹوں اور سکولوں میں معصوموں کے چیتھڑے اڑاتے پھرتے ہیں ، اب جا کر کچھ عقل آئی ہے مگر اس سامنے کی بات کو سمجھنے میں ہم نے کئی برس لگا دئیے ۔ افسوس اس بات کا تو ہے ہی کہ ہم نے یہ تمام وقت ضائع کر کے کئی بے گناہوں کا خون گنوا دیا مگر زیادہ دکھ اس بات کا ہے کہ اب بھی اس جنگ میں ہم یکسو نہیں ہیں ، ہم میں سے کچھ لوگ یہ بات نہیں سمجھ پا رہے کہ سرحد کے اُس پار اگر کوئی دہشت گردی کا حملہ ہوتا ہے تو اُس کا مجرم بھی اتنا ہی سفاک ہے جتنا ہماری سرحد میں گھس کر ہمارے فوجی جوانوں ، سیکورٹی اور پولیس اہلکاروں اور بے گناہ شہریوں کی بوٹیاں اڑانے والا۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ ان دونوں میں تخصیص کی جائے ، ایک ڈرون حملے میں مارا جائے تو خوشی منائی جائے ، دوسرا مارا جائے تو ماتم کیا جائے ، یہ متضاد باتیں بیک وقت نہیں چل سکتیں ۔

اسی بارے میں: ۔  مذہبی بلوغت یا محیضی بلوغت؟

امجد صابری اور اس جیسے ہزاروں پاکستانی تو اب واپس نہیں آ سکتے مگر میں نے پہلے بھی تجویز دی تھی ، اب دوبارہ پیش کر رہا ہوں کہ ایسے تمام واقعات میں شہید ہونے والوں کے پسماندگان کے لئے دنیا میں ہی جنت بنا دی جائے تو نہ صرف اُن کے غم کا کچھ مداوا ہو جائے گا بلکہ یہ جنگ جیتنے میں بھی مدد ملے گی۔ جو سپاہی، فوجی ، خاصہ دار ، رینجرز کا اہلکار یا کوئی بھی جوان جو ہماری خاطر اپنی جان کی قربانی دے کر ہماری حفاظت کرتا ہے اسے یہ یقین ہونا چاہیے کہ اس کی شہادت کی صورت میں اُس کے بیوی بچو ںکے پاس ایک خوبصورت گھر ہوگا ، اس کے بچے اعلی تعلیم حاصل کریں گے اور اس کی بیوہ کو اخراجات کے لئے ماہانہ ایک معقول رقم بھی ملے گی ۔ اس سے ملتا جلتا کچھ انتظام پاک فوج نے کر رکھا ہے اور غالبا پولیس کے شہدا کو بھی کچھ نہ کچھ ملتا ہے مگر یہ ”کچھ نہ کچھ “ نہیں ہونا چاہیے ، ان لوگوں کو دنیا میں جنت ملنی چاہیے ۔ اس کام کے لئے چند ارب روپے درکار ہیں ، کسی بھی میٹرو لائن پر اٹھنے والے خرچ سے نصف سے بھی کم اور اگر حکومت یہ کام نہیں کر سکتی تو اس پاکستان کے دس امیر ترین افراد یہ کام کر سکتے ہیں ، اٹھارہ کروڑ پاکستانیوں میں سے چند سو یہ کام کر سکتے ، بیرون ملک پاکستانیوں کے لئے تو یہ پیسے نکالنا ایسے ہی ہے جیسے نمک کی کان سے ایک ڈلی نکالنا ۔ ہمیں چاہیے کہ اب ہم ماتم کرنا چھوڑیں اور اپنے شہیدوں کے بچوں کے لئے دنیا میں جنت تعمیر کریں !


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

یاسر پیرزادہ

بشکریہ: روز نامہ جنگ

yasir-pirzada has 149 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada