ہاکی ورلڈ کپ: جب پاکستانی ہاکی ٹیم کے لیے انڈیا میں دکانیں کھول دی گئیں

ہرپریت کور لامبا - سپورٹس جرنلسٹ، بھونیشور


انڈیا اور پاکستان جب کھیل کے میدان میں ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہوتے ہیں تو اس دوران جذبات میں شدت اور جارحانہ پن دیکھنے کو ملتا ہے۔ میدان کے اندر موجود کھلاڑیوں کے علاوہ تماشائیوں کا جوش بھی اپنے عروج پر ہوتا ہے۔

لیکن جب کھیل کے میدان سے باہر میزبانی اور میل جول کی بات آتی ہے تو یہ جوش اور جنون مزید بڑھ جاتا ہے، جو اپنی مثال آپ ہے۔

پاکستان کی ہاکی ٹیم ان دنوں ورلڈ کپ میں حصہ لینے کے لیے انڈین ریاست اوڑیشہ کے دارالحکومت بھونیشور آئی ہوئی ہے۔ ٹیم کے ساتھ اس کے مینیجر حسن سردار بھی آئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

انڈیا میں ہاکی ورلڈ کپ، پاکستانی ٹیم کی کارکردگی کیسی؟

ہاکی کی آخری چیمپیئنز ٹرافی

انڈیا کی سرزمین پر قدم رکھتے ساتھ ہی حسن سردار سنہ 1982 کی یادوں میں کھو جاتے ہیں جب انھوں نے اسی زمین پر پاکستان کے لیے ہاکی ورلڈ کپ جیتا تھا۔

پیر کو ریاستی پولیس کی جانب سے منعقد کی گئی تقریب میں حسن سردار سمیت پاکستان کی پوری ٹیم کا استقبال کیا گیا تھا۔

اس تقریب میں حسن سردار نے پرانے دنوں کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ’میں 1981 سے ہی انڈیا آرہا ہوں اور ہر بار انڈیا کی جانب سے ہمیں بہت زیادہ پیار اور عزت ملتی ہے۔ جب ہم واپس وطن لوٹتے ہیں تو انڈیا کے لوگوں کے بارے میں بتاتے ہیں۔‘

’بالکل اسی طرح کا پیار اور عزت انڈین کھلاڑیوں کو بھی ملتی ہے جب وہ ہمارے یہاں آتے ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیں!

انڈیا میں ہاکی ورلڈ کپ، پاکستانی ٹیم کی کارکردگی کیسی؟

پاکستان اور انڈیا ایشیئن ہاکی چیمپئن شپ کے مشترکہ فاتح

یادوں میں جھانکتے ہوئے حسن دار نے بتایا کہ ممبئی کے دکانداروں نے ان کی درخواست پر صبح نو بجے اپنی دکانیں کھول دی تھیں۔

انھوں نے بتایا کہ ’سال 1982 میں بمبے میں ورلڈ کپ جیتنے کے بعد، ہماری دوپہر کی فلائٹ تھی۔ اس سے پہلے ہم کچھ خریداری کرنا چاہتے تھے۔ عام طور پر دکانیں صبح 11 بجے کھلتی تھیں لیکن جب دکانداروں کو پتا چلا کہ ہم کپڑے اور جوتے خریدنا چاہتے ہیں تو انھوں نے اپنی دکانیں صبح نو بجے ہی کھول دیں۔ یہ ایسی یادیں ہیں جو آج بھی ہمارے ذہن میں تازہ ہیں۔‘

’نازیبا الفاظ کا استعمال نہیں‘

انڈیا نے دو دوسمبر کو اپنے پول میچ میں عالمی نمبر تین بیلجیئم کے خلاف بہترین کھیل دکھایا، تاہم یہ میچ ڈرا ہی ہو سکا۔

انڈیا نے شروع کے دو کوارٹرز میں بیلجیئم کے کھلاڑیوں کو خوب تھکایا جس کا فائدہ یہ ہوا کہ باقی کے دو کوارٹرز میں بھی انڈیا نے اپنا دبدبہ قائم رکھا۔

انڈین ٹیم کے ہیڈ کوچ ہریندر سنگھ سے جب یہ پوچھا گیا کہ کیا ٹیم کے کھلاڑیوں کو ہاف ٹائم بریک میں کچھ سخت الفاظ کی ضرورت بھی ہوتی ہے، تو ہریندر سنگھ نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ’میں اپنے لڑکوں کے لیے اب زیادہ نازیبا الفاظ کا استعمال نہیں کرتا، مجھے تھوڑا سخت ہونا پڑتا ہے چونکہ میں کوچ ہوں۔ لیکن میں نے بہت برے یا سخت الفاظ کا استعمال چھوڑ دیا ہے، اور آپ کو اس کی وجہ بھی معلوم ہے۔‘

یہ بھی پڑھیں!

انڈیا کی شکست کے بعد ہم ریلیکس ہو گئے تھے‘

ہاکی کی آخری چیمپیئنز ٹرافی

ہریندر سنگھ جس وجہ کا ذکر کر رہے تھے وہ یہ ہے کہ پچھلے سال انھیں خواتین ٹیم کا کوچ تعینات کیا گیا تھا۔

ہریندر سنگھ اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ خواتین ٹیم کے ساتھ کوچنگ کرنے کے دوران وہ لڑکیوں کے سامنے ہندی کے نازیبا الفاظ کا استعمال نہیں کر سکتے تھے۔

ہریندر سنگھ کہتے ہیں کہ ’وہ سبھی لڑکیاں بہت حساس تھیں۔ ان کے سامنے ویسے سخت الفاظ کا استعمال نہیں کیا جا سکتا جیسے ہم مردوں کے سامنے کر لیتے ہیں۔ اس لیے میں نے خواتین ٹیم کے لیے ان الٍفاظ کو چھوڑ دیا اور اب تو میں مردوں کے سامنے بھی ان الفاظ کا استعمال نہیں کرتا۔‘

جرمنی کا ورلڈ کپ کے انداز میں کرسمس کا جشن

یورپ میں کرسمس کا جشن شروع ہو چکا ہے اور یہی وجہ ہے کہ بھونیشور میں موجود جرمنی کی ہاکی ٹیم نے بھی اپنا کرسمس کا جشن شروع کر دیا ہے۔

جرمن ٹیم نے ورلڈ کپ میں اپنا آغاز پاکستان کے خلاف 1-0 کی جیت کے ساتھ کیا۔ جرمنی کی ٹیم کو زیادہ تر چھٹیاں اتوار کو ہیں جس میں کھلاڑی بسکٹ بیک کرتے ہیں۔

ٹیم نے اپنے اس کام میں بھی ورلڈ کپ کو شامل کرنے کی کوشش کی ہے اور بسکٹ کو ورلڈ کپ ٹرافی کی شکل میں بنانے کی کوشش کی ہے۔

جرمنی کے کپتان مارٹن ہینر نے اپنے فیس بک پیج پر لکھا ہے کہ ’آپ اپنے چھٹی والے دن کیا کر رہے ہیں؟ کُوکیز بنائیں کیونکہ کرسمس آنے والا ہے۔

کھیل اور تفریح کا تہوار

دنیا بھر میں ہونے والی کھیلوں کی تقریبات میں میدان کے اندر اور باہر طرح طرح کی سرگرمیاں ہوتی رہتی ہیں۔ جیسے ویسٹ انڈیز میں ہونے والے کرکٹ میچز کے لیے یہ بات مشہور ہے کہ وہاں بیئر اور سامبا ڈانس کا مزا ہوتا ہے۔

اولمپکس یا مختلف کھیلوں کے مقابلوں میں کئی میوزک فیسٹیول منعقد ہوتے رہتے ہیں۔

اسی بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے اوڈیشہ کی حکومت نے بھی کلیگا سٹیڈیم کے پاس گرینڈ فین ویلج کھولا ہے۔ سٹیڈیم میں میچ دیکھنے کے لیے آنے والے تماشائیوں کے لیے یہ ویلج بھی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔

انڈین ٹیم کے کوچ ہریندر سنگھ پیر کو اس ویلج میں میچ کے بعد سارا دن چہل قدمی کرتے دیکھے گئے جبکہ ملائشیا کے ہائی پرفارمنس ڈائریکٹر اور انڈین ٹیم کے سابق کوچ ٹوری والش نے بھی یہاں سے کچھ خریداری کی۔

ہاکی کے مداحوں کے لیے یہاں روز لائیو میوزک کا انعقاد ہوتا ہے، اس کے علاوہ سٹیڈیم میں کھیلے جانے والے میچ کو بھی بڑی سکرین پر دکھایا جاتا ہے۔ جادوگروں اور مسخروں کے تماشے بھی ہیں اور اچھل کود کا سامان بھی یہاں موجود ہے۔

اس کے علاوہ اگر کسی کو اپنی ہاکی کھیلنے کی صلاحیت کو پرکھنا ہو تو ان کے لیے دو چھوٹی پچز بھی بنائی گئی ہیں جہاں وہ ہاکی کھیل سکتے ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 6312 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp