آسٹریلیا کے کرکٹر عثمان خواجہ کے بھائی پر دہشت گردی کے جھوٹے منصوبے میں پھنسانے کا الزام


آسٹریلیا نے تصدیق کی ہے کہ عثمان خواجہ جمعرات کو انڈیا کے خلاف شروع ہونے والے پہلے ٹیسٹ میچ میں آسٹریلیا کی ٹیم میں شامل ہوں گے۔

عثمان خواجہ کی پہلے ٹیسٹ میں شرکت ان کے بھائی کی گرفتاری کی وجہ سے مشکوک ہو گئی تھی۔

آسٹریلیا کے کرکٹر عثمان خواجہ کے بھائی کو ایک دوسرے شخص کو شدت پسندی کے حملے کے جھوٹے منصوبے کے الزام میں پھنسانے پر گرفتار کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

آسٹریلیا: بنا فردِ جرم 14 دن تک حراست میں رکھنے کا منصوبہ

پولیس نے ارسلان خواجہ کے خلاف جعل سازی اور انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کا مقدمہ قائم کیا ہے۔

اگست میں سری لنکا سے تعلق رکھنے والے ایک طالب علم کو سڈنی میں اس الزام پر گرفتار کیا گیا تھا کہ انھوں نے اپنی نوٹ بک میں آسٹریلین سیاستدانوں کو قتل کرنے کا منصوبہ تحریر کر رکھا تھا۔

محمد قمر نظام دین کو ایک ماہ تک حراست میں رکھنے کے بعد چھوڑ دیا گیا تھا۔

پچیس سالہ پی ایچ ڈی کے طالب علم کا دعویٰ تھا کہ یونیوسٹی آف نیو ساؤتھ ویلز میں ان کے ایک حریف نے انھیں اسے اس معاملے میں پھنسایا تھا۔

منگل کو پولیس کا کہنا تپا کہ ’ارسلان خواجہ نے یہ منصوبہ بہت سوچ سمجھ کر بنایا اور نظام دین کو پھنسایا‘۔

ارسلان خواجہ اور نظام دین یونیورسٹی کے ایک ہی شعبے میں کام کرتے تھے اور پولیس کے مطابق ایک خاتون کی وجہ سے ’ذاتی رنجش‘ اس معاملے کی وجہ بنی۔

نظام دین پر جس مبینہ حملے کی منصوبہ بندی کا الزام تھا اس میں سابق آسٹریلین وزیرِ اعظم میلکوم ٹرنبل اور سڈنی کے مشہور مقام سڈنی اوپرا ہاؤس شامل تھے۔

تاہم جب پولیس اس نوٹ بک میں موجود لکھائی کو نظام دین کی لکھائی سے ملانے میں ناکام رہی تو انھیں ایک ماہ حراست میں رکھنے کے بعد رہا کر دیا گیا۔

نظام دین اب واپس سری لنکا چلے گئے ہیں اور ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی ناجائز قید پر آسٹریلین حکام پر ہرجانے کا دعویٰ کریں گے۔

پولیس نے نظام دین کی حراست پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

اسسٹنٹ کمشنر مک ویلنگ کا کہنا تھا ’ہمیں ان کے لیے اور جو کچھ ہوا اس پر بہت افسوس ہے۔‘

پولیس نے ارسلان خواجہ سے گذشتہ ماہ اس نوٹ بک کے حوالے سے پوچھ گچھ کی تھی اور انہیں منگل کو سڈنی کے نواحی علاقے سے گرفتار کیا گیا۔

ان کے بھائی عثمان خواجہ آسٹریلیا کے صف اول کے بلے باز ہیں۔ وہ جمعرات کو انڈیا کے خلاف ٹیسٹ سیریز بھی کھیلنے والے ہیں۔

اس گرفتاری کے بعد انھوں نے اپیل کی ہے کہ ان کے خاندان کی پرائیویسی کا احترام کیا جائے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 6404 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp