’بابا! کیا یہ دشمن کے بچے ہیں‘


Bilal Ghauriطالبان کہتے ہیں باچا یونیورسٹی پر حملہ ہم نے کیا ،ہم کہتے ہیں نہیں نہیں یہ تو ”را“ کی کارستانی ہے۔آپ نے بھارتی وزیر دفاع کی دھمکی والی خبر نہیں پڑھی تھی۔اب تو ثابت ہو گیا ہے کہ حملہ آوروں کے پاس افغان سم کارڈ تھے اور انہوں نے افغانستان کے بھارتی قونصلیٹ سے رقم حاصل کی ۔حضور ! جان کی ا مان پاﺅں اور غداری کی تہمت سے بچ جاﺅں تو چند سوالات کی گستاخی کر لوں ؟
اگر یہ دہشتگردی ’را‘ کی کارستانی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ طالبان بھارتی ایجنٹ ہیں ؟

آپ فرماتے ہیں حملہ آوروں کے پاس افغان کنکشن تھے مگر پاکستان ٹیلی کیمونیکیشن اتھارٹی کے مطابق چارسدہ میں افغان سم کارڈ کام ہی نہیں کرتے؟
جب یہ بھارتی ایجنٹ افغان قونصلیٹ سے نقد رقم وصول کر رہے تھے اور ہمارا کوئی جاسوس اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر یہ رپورٹ دے رہا تھا (کیونکہ اگر ایزی پیسہ ،آن لائن ٹرانسفر یا کسی اور ذریعے سے رقم فراہم کرنے کی بات ہو گی تو ثبوت بھی دینا پڑے گا) تو اس نے یہ بھی بتایا ہو گا کہ اس رقم کے عوض کب ،کہاں اور کیسے دہشت گردی کی جائے گی؟

چارسدہ میں باچا خان یونیورسٹی کے اردگرد تو گنے کے کھیت تھے مگر کیا ڈیورنڈ لائن سے باچا خان یونیورسٹی تک قطار اندر قطار گنے کے کھیت ہیں جن کی اوٹ لیتے ہوئے دہشت گرد کسی کی نظروں میں آئے بغیر یہاں تک پہنچ گئے ؟
ہاں یہ عذر بھی معقول ہے کہ یونیورسٹی چونکہ شہر سے باہر ویران اور سنسان علاقے میں تھی لہٰذا سکیورٹی فول پروف نہیں بنائی جا سکتی۔ جس ملک میں فوجی چھاﺅنیاں شہر کے گنجان آباد علاقوں میں ہوں اور یونیورسٹیاں شہری علاقوں سے باہر ویرانوں میں بنائی جاتی ہوں ، وہاں دہشت گردی کیسے ختم کی جا سکتی ہے۔

کیا کہا ،آپ اس حملے کا بھرپور جواب دیں گے ؟

جی جی !’ بڑا دشمن بنا پھرتا ہے‘ اور ’ہمیں دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے‘ کی بھرپور پذیرائی کے بعد ہم نئی ویڈیو کی صورت میں بھرپور جواب کے منتظر رہیں گے۔ جب میں بلاگ لکھ رہا تھا اور باچا یونیورسٹی کے شہداء کے لاشے اٹھانے کے منظر سامنے تھے تو میری پانچ سالہ بچی کمرے میں داخل ہوئی اور یہ مناظر دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی ’بابا! یہ دشمن کے بچے ہیں ،یہ لوگ انہیں پڑھا رہے ہیں ‘

مگر نئی ویڈیو تیار کرتے وقت یہ بات دھیان میں رہے کہ دشمن کے بچوں میں سیکھنے کی صلاحیت بہت ہے ،ایک سال میں وہ اسکول سے یونیورسٹی پہنچ گئے ۔

(محمد بلال غوری سے www.facebook.com/b.ghauri پر رابطہ کیا جا سکتا ہے )


Comments

FB Login Required - comments

6 thoughts on “’بابا! کیا یہ دشمن کے بچے ہیں‘

  • 22-01-2016 at 12:41 pm
    Permalink

    بہت اچھا لکھا ہے بلال بھائی

  • 22-01-2016 at 2:47 pm
    Permalink

    Bilal gori sab ap na gazab ka swal otya ha ka jis mulaq ma fuji chownya sharon ma bnyi jahen or universities wiron ma odar pir dasht gardon sa kia larha gaha ga ?

  • 22-01-2016 at 3:35 pm
    Permalink

    اس قدر کڑوا سچ نہ لکھا کریں تھوڑی سی جھوٹ کی آمیزش کر لیا کریں ہماری قوم کا معدہ کمزور ہے ،ایسا سچ ہضم نہیں ہوتا

  • 22-01-2016 at 5:34 pm
    Permalink

    آپ کی تحریر متعصبانہ او ر بلوغت فکر سے عاری ہے. چهاونیاں شہر سے باہر ہی بنتی ہیں پهر غلام عباس کے افسانے آنندی کی طرح شہری آبادی ان تک جا پہنچتی ہے…طالبان اور فضل اللہ را ہی کے بغل بچے ہیں …

    • 23-01-2016 at 1:25 pm
      Permalink

      ایسا ہی ہے

  • 23-01-2016 at 1:26 pm
    Permalink

    یہ ایک گنجلک ہے… اس دہشتگردی بھی طالبان کی مدد را نے کی… لیکن… اس کے باوجود میں سمجھتا ہوں کہ طالبان را کے ایجنٹ ہرگز نہیں
    بلکہ را اپنے ایک دشمن کو ہی اپنے دوسرے دشمن کے خلاف استعمال کر رہی ہے
    طالبان کو پتہ بھی نہیں چلتا ہوگا اور را ان کی مدد کرتی ہوگی… یہ پراکسی واررَ کا سسٹم اسی طرح کام کرتا ہے

Comments are closed.