جمہوریت یاترا


اقبال نے رومی کا ہاتھ پکڑا اورروحانیت کی منازل طے کرنے کے لیے قرۃ العین طاہرہ کے حضور حاضر ہوِئے، طاہرہ نے مقطع میں نچوڑ رکھ دیا:

در دل خویش طاہرہ گشت و ندید جز ترا
صفحہ بہ صفحہ لا بہ لا پردہ بہ پردہ تو بہ تو

قرۃ العین۔ زریں تاج۔ طاہرہ۔ انیسویں صدی کے وسط میں ”بابی“ عقائد کی پاداش میں ناصردین قاچارکے دربار میں تہران میں پیش ہوئی، بابی عقائد کی پاداش میں سزائے موت کی حقدار ٹہری۔

فلک مشتری پر اقبال نے ارواح جلیلہ میں ”حلاج“ اور ”غالب“ کے ساتھ ”نواِئے طاہرہ“ سے بھی کیا فیض حاصل کیا۔ اس کے لیے قاری کو ”جاوید نامہ“ سے رجوع کرنا چاہیے، ہمارے لیے سبق یہی ہے کہ ان ”شوریدہ سروں“ اور ”سرپھروں“ کی حیات جاوداں میں بڑے نگینے ہیں۔

اقبال کی تتبع میں میں نے بھی ”درویش بے نشاں“ کی طرف امید سے دیکھا اور جمہوریت یاتراکے لیے نکل کھڑا ہوا۔ جمہوریت کے اسباق کے لیے وہ مجھے فلاچی کے دربار لے آیے۔

اوریانا فلاچی 1929 کو اٹلی میں پیدا ہوئیں، ساٹھ اور ستر کی دہائی میں انہوں نے دینا کے مشہور شخصیات سے جنگ، آزادی، انقلاب اور جمہوریت جیسے افکارپر تبادلہ خیال کیا۔ ”انٹرویو ود ہسٹرِی“ میں عقل والوں کے لیے بہت نشانیاں ہیں، لیکن مجھ جیسے طالبعلم کے لیے دو پڑاؤ بہت اہم ہیں :
پہلا پڑاؤ ”گولڈا مائر“ کی کہانی میں وہان آتا ہے جہان وہ اپنے بچپن کے دو واقعات کا موازنہ کرتی ہیں جب وہ پانچ یا چھ سال کی تھیں

فلاچی کے ایک سوال کے جواب میں کہ روس میں ان کے قیام کے دوران کوئی یادیں ہیں، مائر کہتی ہیں میرے اولین یاداشت یہ ہے کہ میرے والد کیل، ہتوڑے سے کھڑکیوں اور دروازوں کو بند کر ریے ہیں اس ڈر سے کہ ”کوسکس“ گھروں میں نہ گھس جائیں اور ہمیں مار نہ دیں، وہ ہتھوڑے کی دھمک اور گھوڑے کے سموں کا شوراور خوف میری یادیں ہیں۔ پھر 1903 میں ہم ”پنسک“ چلے گئے یہ وہ وقت تھا جب زار روس کا جبر اپنے عروج پر تھا۔ 1905 کا قانون ایک جھوٹ تھا، سوشلسٹوں کو جمع کرنا اور ان کو مار دینا، میری بہن بھی سوشلسٹ تھی اور رات دیر گئے باہر رہتی تھی، ہمارا گھر تھانے کے ساتھ تھا جہاں پولیس سوشلسٹوں کو مارتی تھی اور ہم ان کا شور سن سکتے تھے، میری ماں ان کی چیخوں میں میری بہن کی آواز سنتی تھی۔

پھر ہم 1905 میں امریکہ چلے آئے میں آٹھ سال کی تھی اور میری بہن 17 سال کی اور چھوٹی بہن 3 سال کی، ایک دن میرے والد نے جو کہ مزدور تھے اوراپنی یونین سے بڑی وابستگی رکھتے تھے میرِ والدہ سے کہنے لگے کہ ”لیبر ڈے“ پر اگر تم نے میری پریڈ دیکھنی ہے تو بچوں کو لے کر آنا، میری والدہ ہم سب کو لے کر گِئیں، ہم والد کا انتظار کر رہے تھے کہ پولیس کے دستے گھوڑوں پر پریڈ کا راستہ صاف کرنے آئے، میری چھوٹی بہن ان کو دیکھتے ہی کانپنے لگی اور چلانے لگی ”کوسک آگئے، کوسک آگئے“، ہم والد کو دیکھے بغیر گھر آگئے، وہ کئی دنوں تک بخار میں رہی اور بستر سے نہ اٹھ سکی۔

غور کیجیے۔ ۔ ۔ ۔
ایک طرف ریاست جبر، اظہار رائے کی مخالف اور ظلم کی علامت ہے، دوسری طرف وہ حقوق کی خاطر آواز اٹھانے والوں کا خیرمقدم کررہی ہے۔
ایک طرف اقلیت دروازے، کھڑکیاں بند کر رہی ہے کہ اکثریت کی پشت پناہی پر ایک گروہ ان کی جان کے در پہ ہے، دوسری طرف ریاست کمزور طبقے کی احتجاجی آواز کی حفاظت کر رہی ہے۔

میں نے ”درویش بے نشاں“ کی طرف دیکھا، انہوں نی جمہوریت کا بنیادی سبق دہرایا:

جمہوریت اکثریت کی باندی نہیں، اقلیت کے حقوق، ان کے رسم و رواج، مذہبی افکار، ان کی نشونما کے تحفظ کی دستاویز ہے، ان کو یہ یقین فراہم کرتا ہے کہ ریاست ”ماں“ کا کردار ادا کرے گی، اپنے بچوں میں رنگ، نسل اور مذہب کی بنیاد پر تمیز نہ کرے گی۔ کسی کے مذہبی خیالات، افکار، جھکاؤ اسے کسی ترقی کا زینہ چڑھنے سے نہ روکے گیں۔ ”اہلیت“ کے معیار کو ماپنے کے لیے فرقے کا فیتہ استعمال نہ ہوگا۔

فلاچی کی نگری میں اور ”درویش بے نشاں“ کے سایہ میں اگلا پڑاؤ 1979 کی دو قدآور شخصیات کے دربار میں ہوا، دونوں میں کئی مماثلتیں ہیں :

دونوں بادشاہتوں کے خاتمے پر ظہور میں آئیں، دونوں کو ”مغرب مخالفت“ میں ایک دوسرے سے سبقت کا دعوی تھا، دونوں کے نزدیک دستور اور قانون ”نیلی کتاب“ یا ”سبز کتاب“ تھا، دونوں سے جب بین الاقوامی دہشت گردی کے بارے سوال کیا تو انہوں نے مغربی استعماریت کے دور کے جبر اور ظلم کو جواز بنایا، دوونوں کی جدوجہد ”کرپٹ“ بادشاہت کے خلاف اور ”بدعنوانی“ کے خاتمے کا عنوان لیے ہوئے تھی۔

ایک فوجی ایک ملا، ایک مسیحا اور ایک انقلابی۔

شاہ ادریس کی حکومت مشکلات کا شکار تھی، 1967 کی عرب۔ اسرائیل جنگ میں مصر کی شکست اور ادریس کا مغرب حامی ہونے کا تاثرپھیلا ہوا تھا، 1969 میں شاہ گرمیوں کے لیے ترکی اور یونان کے دورے پر تھا، ”آپریشن یروشلم“ کے ذریعے معمر قذافی برسراقتدار آئے، ”لیبیا کے لوگو آپ کے ارادوں کو پورا کرنے کے لیے، آپ کی خواہشات کے عین مطابق، آپ کے ’تبدیلی‘ کے پرزور اصرار پر ہم نے ایک ہی جھٹکے میں اس اندھیری رات کو جو ترکوں اور بعد ازاں اطالوی اور پھر کرپٹ اور ’غدار‘ بادشاہوں کی تھی روشن کردیا ہے۔ ۔ “

10 سال بعد۔

شاہ ایران نے 16 جنوری کو ملک چھوڑا، یکم فروری 1979 کو امام خمینی تہران اترے، بی بی سی کے مطابق 5 ملین لوگوں نے استقبال کیا، 11 فروری کو امام نے مہدی برزگان کی حکومت قائم کی اور اعلان کیا، ”چونکہ میں نے اسے قائم کیا ہے اس لیے اس کی اتباع کی جائے۔ یہ خدا کی قائم کردہ حکومت ہے، اس کی نافرمانی خدا سے بغاوت ہے“۔

فلاچی نے 1979 کے اواخر میں پہلے ”قم“ پھر ”طرابلس“ کا سفر کیا۔
شاہ ایران تک پہنچنے کے لیے کون کون سے دریا عبور کرنے پڑے یہ الگ کہانی ہے، امام خمینی اور فلاچی کی گفتگو میں کئی نازک موڑ آئے۔

اس نے امام سے پوچھا کہ آپ آزاد ئی اظہار کے قائل ہیں پھر بھی آپ نے کمیونسٹوں کو ”شیطان کے بچے“ اور کرد اقلیتوں کو ”زمین پر برائی“ کا نشان بتایا، امام نے جواب دیا کہ ”آزادی“ کے معنی ”سازشوں“ اور ”کرپشن“ کی آزادی نہیں، ہم نے پانچ مہینے انہیں ”برداشت“ کیا لیکن وہ بین الاقوامی سازشوں کا آلہ کاربنتے رہے تو ہاں پھر ہم نے انہیں ”خاموش“ کرا دیا۔

ایک سوال کے جواب میں کہ آپ جمہوریت کو کس معنی میں لیتے ہیں آپ نے ”جمہوری اسلامی ریاست“ میں سے ”جمہوریت“ کا لاحقہ ہٹانے کا حکم دیا، امام نے فرمایا اسلام کسی لاحقوں کا محتاج نہیں، یہ بڑے افسوس کا مقام ہے کہ ہم اسلام کے ساتھ اورکسی صفت کا اضافہ کریں جو اپنے اندر کاملیت رکھتا ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں