یہ میں کہاں نکل آئی ہوں؟


\"noorulhudaکئی دنوں سے ایسا لگ رہا ہے جیسے اصحابِ کہف کی طرح اچانک آنکھ کھلی ہے۔ اُٹھی ہوں۔ شہر کی طرف گئی ہوں تو حیرت زدہ رہ گئی ہوں۔ یا خدا! زمانہ تو قیامت کی چال چل چکا ! یہ میں کہاں آ کھڑی ہوئی ہوں! انسانوں کا ہجوم تو ہے مگر انسان کہاں ہیں! ایک ہنگامہ سا برپا ہے چاروں طرف کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی، مگر یہ کیسی زباں ہے کہ جس میں شور تو ہے مگر الفاظ نہیں ! کون ہیں یہ لوگ! کیا کہہ رہے ہیں! اور وہ لوگ کہاں چلے گئے، میں جن کی ہم زباں تھی؟ وہ جو کہا کرتے تھے کہ اللہ رحیم و کریم ہے۔ وہ بڑا معاف کرنے والا ہے۔ ستّر ماؤں سے بڑھ کر وہ اپنے بندے سے پیار کرتا ہے اور اسے اس کی شہ رگ سے بھی قریب ہے۔ ہماری نیتوں کو وہ ہم سے زیادہ جانتا ہے۔ وہ رب العالمین ہے۔ صرف مسلمان کا نہیں ہے، سب کا پالنہار ہے۔ سب کا خالق ہے۔ ہاں وہ قہار بھی ہے اور جبّار بھی ہے۔ اس کی لاٹھی بے آواز ہے۔ یتیموں، بیواؤں، مسکینوں اور مظلوموں پر ظلم کرنے والے پر اس کی پکڑ بہت مضبوط ہے۔ حقوق العباد پر اس کا معاملہ بڑا ہی سخت ہے۔ اس لیے اس کی محبت میں اس کے بندوں سے محبت کرو اور اس کے قہر سے ڈرو۔

وہ جو کہا کرتے تھے کہ خبردار نبیِ کریم ﷺ کا ذکر دھیمی آواز میں کرو کہ اللہ کا حکم ہے کہ ان کی آواز سے اونچی آواز مت کرو۔ وہ جو کہتے تھے کہ اسلام کی ابتدا ہی بیٹیوں کے حقوق سے ہوئی ہے۔ یہی بیٹیاں جب مائیں بن جائیں تو اُن کے پیروں تلے بہشت بچھ جاتا ہے اور بیٹیوں کی شادی کے معاملات میں بیٹی کو ہی تمام حق عطا کیا گیا ہے۔ وہ قبولیت دے گی تو نکاح آگے بڑھے گا۔ وہ جو کہا کرتے تھے کہ ایک عورت نے آکر نبی ﷺ کے حضور فریاد کی کہ مجھے اپنے شوہر کی شکل پسند نہیں، مجھے خلع دلوا دیجیے اور اس عورت کے روتے ہوئے شوہر کی جب آپﷺ نے سفارش کی تو عورت نے سوال کیا کہ کیا آپ مجھے حکم دے رہے ہیں اس کے ساتھ زندگی بسر کرنے کا ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا \” نہیں\” میں صرف مشورہ دے رہا ہوں (کیونکہ حکم تو حکم بن جاتا عمر بھر کی غلامی کا) اور عورت کو خلع دلوادی، جس کے شوہر میں کوئی عیب بھی نہیں تھا۔ وہ لوگ کہاں اُٹھ گئے جو قرآن پاک کا حوالہ دے کر کہا کرتے تھے کہ اس میں بیوہ عورت کے لیے لکھا ہے کہ جب اس کی عدت کی میعاد مکمل ہو جائے تو وہ آزاد ہے۔ وہ جو چاہے اپنی زندگی کا فیصلہ کرے۔ اُن لوگوں کو زمیں کھا گئی یا آسمان نگل گیا جو کہا کرتے تھے کہ آلِ رسول ﷺ سے محبت کیے بغیر عشقِ رسول ﷺ ممکن نہیں اور رسولﷺ سے محبت کیے بغیر ذاتِ باری تعالیٰ تک رسائی ممکن نہیں۔ جو لوگ صوفیاء اکرام اور صوفی شعراء سے اس سلسلہِ عشق میں محبت کرتے تھے کہ وہ اللہ اور اس کے رسولﷺ کے چاہنے والے تھے۔ وہ خود عاشق ہونے کے دعویدار نہیں ہوتے تھے۔ بس سر جھکا کر کہتے کہ ہم تو عاشقوں کے غلام ہیں۔

وہ جو عشقِ الہٰی کی تشریح کرتے ہوئے رابعہ بصری کا حوالہ دیا کرتے تھے کہ۔۔یا اللہ اگر میں بہشت کے لالچ میں تیری عبادت کروں تو مجھ پر بہشت حرام کردے اور اگر دوزخ کے خوف سے تیری عبادت کروں تو مجھ پر دوزخ لازم کردے۔ جو عشق رسول ﷺ میں انسان کے دل کی کیفیت بیان کرتے ہوئے رو دیتے تھے۔ اپنے آپ میں سُکڑ جاتے تھے کہ یہ وہ عشق ہے جو انسان کی اپنی ذات کی نفی کر دیتا ہے۔ جو یہ بھی کہا کرتے تھے کہ اصل جہاد حاکمِ وقت کے سامنے کلمہِ حق کہنا ہے اور اپنے نفس کے سرکش گھوڑے کو قابو میں رکھنا ہے۔ جو کہا کرتے تھے کہ دو ہزار دو سو دس احادیث اُمّ المومنین سیّدہ عائشہ سے مروی ہیں۔ صرف ایک معتبر خاتون کے بیان سے، جن کی معتبری کی گواہی اس بیان سے بھی پہلے قرآن میں سورۃ نور کے ذریعے دی گئی۔ وہ لوگ تو غزوات میں اُمّہات المومنین کی موجودگی بیان کرتے تھے اور اُمّہات المومنین سے نبیﷺ کے خوبصورت برتاؤ کا حولہ دیتے ہوئے، شوہر پر بیوی کے حقوق بیان کرتے تھے۔ وہ لوگ جب سُنّتِ نبیﷺ کے مطابق داڑھیاں رکھ لیتے تھے تو ریشمی اور رنگین لباس نہیں پہنتے تھے اور نہ ہی سعودی عرب کا لباس پہنتے تھے۔ فقیرانہ لباس ہوتا تھا اُن کا کہ اُن کے نبیﷺ کا لباس سادہ تھا، جس میں جا بجا پیوند لگے ہوتے تھے۔

مگر یہ میں کہاں آ گئی ؟ کون لوگ ہیں یہ ؟ یہ لمبی داڑھیوں والے! یہ شوخ رنگ جبے اور بھڑکیلے عمامے پہنے ہوئے۔ یہ چیختے ہوئے، چنگھاڑتے ہوئے! یہ اپنے گرد اپنی ستائش کرنے والوں کا مجمع لگائے ہوئے! یہ اپنے ہاتھوں کے بوسے دلواتے ہوئے اور اپنے چرن چھونے کی ترغیب دیتے ہوئے اور اپنے نفس اور خود ستائشی کا سرکس لگائے ہوئے! یہ ٹیلی ویژن اسکرین پر عورتوں کے ساتھ بیٹھ کر ان کی شلواریں اُتارنے کی دھمکیاں دینے والے۔ عورت اینکر پرسن کی دعوت پر خوشی خوشی دوڑے چلے آنے والے اور اسکرین پر بچیوں کے اعضا  ڈھونڈ نکالنے والے! اور عورت کو گھروں میں مقید کرنے کے فتوے دینے والے کہ وہ صرف بچوں کو دودھ پلائیں اور اگر شادی شدہ نہ ہوں تو گھر میں بیٹھ کر شادی کے لیے خود کو تیار کریں! یہ کیوں اس وقت نہیں چیختے ہیں جب بچیاں زندہ جلائی جا رہی ہوتی ہیں؟ جب خونِ ناحق بہہ رہا ہوتا ہے۔ یہ کیسے عاشقِ رسول ﷺ ہیں جو جوق در جوق یتیم ہوتے بچّوں اور بیواؤں کے لیے چُپ سادھے ہوئے ہیں ؟ کیا انہیں روزِ قیامت نبیِ کریم ﷺ کے شانہ بہ شانہ کھڑے ہونے کا شوق نہیں ہوتا ؟ یہ کیسے عاشقِ رسول ﷺ ہیں جو منبر پر بیٹھ کر،آپ ﷺ کے اُٹھنے بیٹھنے، بات کرنے کے انداز اور اُمّہات المومنین کے ساتھ ان کی تنہائی کی گفتگو کو اداکاری اور صداکاری کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں! یہ کیسی تبلیغِ عبادت ہے جس میں منبر پر بیٹھ کر حوران بہشت کا سراپا اداکاری کے ساتھ بیان کرتے ہوئے مرد کی اشتہا کو ہوا دی جاتی ہے۔

وہ خوفِ خدا کا احساس دلا کر بندے کو جھنجوڑ کر رکھ دینے جیسا بیان کیوں نامکمل رہ گیا جسے سُن کربندہ شدّتِ خوفِ ربِّ کائنات سے زمین پر قدم اُٹھاتے ہوئے بھی ڈرے کہ کہیں کوئی جاندار میرے پیروں تلے نہ کُچلا جائے اور مجھے روز حشر اپنے رب کے سامنے شرمندہ نہ ہونا پڑ جائے کہ اتنا تکبّر تھا تجھ میں کہ تجھے اپنے اُٹھتے قدموں کی خبر تک نہ ہوئی؟ وہ حقوق العباد کی بات کس مُلّا کے مٹکے میں پڑی رہ گئی جس میں عورتیں، بّچے، یتیم، مساکین، قیدی، بیمار، رشتہ دار، پڑوسی، نوکر، مزدور، غلام، ماں، باپ، بیٹیاں، بیوائیں، بیویاں، رعایا۔۔ اور وہ غیر مسلم، ان کی عورتیں اور بچے، جو مسلم اکثریتی ریاست میں پناہ کے طلب گار ہوں یا فتح کی صورت میں جنگی قیدی بنا کر لائے جائیں اور ان کی عبات گاہیں۔۔ وہ طویل فہرست حقوق العباد کی کس کے عمامے تلے دبی رہ گئی؟ یہ کون لوگ ہیں جو نہیں بتا رہے کہ بہشت و حورانِ بہشت سے بھی بہت بہت پہلے ایک بڑا ہی کٹھن معاملہ ابھی منتظر ہے ہمارا۔ ظلم پر خاموشی کا حساب ہوگا اُن زبانوں سے جو چیخ چیخ کر بولنا جانتی ہیں۔ پھر ایک ایک ظلم پر ایک ایک خاموشی کا علیحدہ اور گرہ بہ گرہ حساب ہوگا ! اس حساب کی گہرائی بھی کوئی ذرا سوچ کر دیکھے کہ جب حساب لینے والا ہماری نیت کو ہم سے زیادہ جانتا ہو اور اگر اس نے فیصلہِ سزا و جزا کے دوران کہہ دیا کہ جو تم بیان کررہے ہو اُس میں مجھ سے چاہ کم تمہاری خود پرستی کا معاملہ زیادہ تھا۔۔تو کیا ہوگا ؟


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

نورالہدیٰ شاہ

نور الہدی شاہ سندھی اور اردو زبان کی ایک مقبول مصنفہ اور ڈرامہ نگار ہیں۔ انسانی جذبوں کو زبان دیتی ان کی تحریریں معاشرے کو سوچنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔

noor-ul-huda-shah has 47 posts and counting.See all posts by noor-ul-huda-shah

One thought on “یہ میں کہاں نکل آئی ہوں؟

  • 27-06-2016 at 12:21 am
    Permalink

    اس پوسٹ پہ کیا لکھا کیا کہا جائے…یہ سچ میں لاجواب ہے…عمدہ بہت عمدہ

Comments are closed.