شنگھائی تعاون تنظیم میں پاکستان اور بھارت کی رکنیت: سچ کیا ہے؟


\"mujahidجب گذشتہ برس روس کی ری پبلک بشکورتوستان کے درالحکومت اوفا میں شنگھائی تنظیم تعاون کے رکن ممالک کے سربراہوں کی سمٹ ہوئی تھی، تب بھی پاکستان میں سرکاری طور پر یہی کہا گیا تھا کہ پاکستان کو اس تنظیم میں بطور مکمل رکن کے لے لیا گیا ہے، حالانکہ سچ یہ تھا کہ نہ صرف پاکستان بلکہ ہندوستان کو بھی اس تنظیم میں بطور رکن لیے جانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ کسی بھی بڑی بین الاقامی یا علاقائی تنظیم میں کسی ملک کو مکمل رکن لیے جانے کا ایک باقاعدہ مراحل وار عمل ہوا کرتا ہے لیکن چونکہ ہمارے ملک میں وہ جسے کہتے ہیں \”قوم کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگانے کا رواج ہے\” چنانچہ وہی کہا گیا جو حکومت اس ضمن میں لوگوں سے کہنا چاہ رہی تھی اگرچہ اس تنظیم سے متعلق معلومات کا یہ عالم ہے کہ دوبرس پیشتر جب میں نے ایک بین الاقوامی اطلاعاتی ایجنسی کے لیے چند معتبر حضرات کا انٹرویو کیا تو ان میں سے ایک شخصیت جو براہ ریاست سیاسی شخصیت نہیں ہیں اگرچہ سماجی مسائل پر ان کے فرمودات بہت جامع اور قابل غور ہوتے ہیں، سے جب شنگھائی تنظیم تعاون سے متعلق سوال کیا تو انہوں نے صاف گوئی سے کام لیتے ہوئے کہہ دیا تھا کہ انہیں اس کے بارے میں کوئی علم نہیں یہاں تک کہ بقول ان کے انہوں نے اس نام کی تنظیم کے بارے میں سنا تک نہیں ہوا تھا۔ میں بہت جز بز ہوا تھا۔ کہنے کا مطلب یہ کہ اگر ایک معروف دانشور اس کے بارے میں لاعلم تھے تو عام لوگوں کی تو بات ہی کیا کرنی۔

اس بار یہ سمٹ چند روز پہلے ازبکستان کے دارالحکومت تاشقند میں ہوئی، جس میں پاکستان کی طرف سے صدر پاکستان ممنوں حسین نے شرکت کی۔ پاکستان کے موقر اخبارات نے یہی سرخی لگائی \” پاکستان کو شنگھائی تنظیم تعاون میں مکمل رکن لے لیا گیا\”۔ اس خبر میں ہندوستان کا ذکر نہیں تھا البتہ خبر کے آخر میں ہندوستان کو نیوکلیر سپلائی گروپ میں نہ لیے جانے کا بھرپور تذکرہ ضرور تھا۔ یہ بھلا کونسی صحافت ہے۔

تنظیم مذکورہ میں دونوں ملکوں کا کیس ساتھ ساتھ چل رہا ہے۔ جب کوئی ملک دوسرے ملک کے ساتھ ایک تنظیم میں لیا جاتا ہے تو ان دونوں پر یکساں قسم کی ذمہ داریاں عائد کی جاتی ہوں گی اور ان سے غیر رسمی طور پر اچھے تعلقات رکھنے کو بھی یقیناً کہا جاتا ہوگا۔

 پاکستان کے سرکاری ویب سائٹس جیسے کہ ریڈیو اور وزارت خارجہ کی سائٹس پر یہ خبر بذبان انگلیسی اسی طرح ہے کہ \”پاکستان کو شنگھائی تنظیم تعاون میں مکمل رکن کے طور پر لے لیا گیا\”۔ یہ خبر اگر غلط نہیں ہے تو درست بھی نہیں ۔ اصل خبر کچھ یوں ہے:

اسی بارے میں: ۔  حقیقی سیاست اور عام کارکن

شنگھائی تنظیم تعاون کے رکن ممالک پاکستان اور ہندوستان کی ذمہ داریوں پر متفق

 ازبکستان کے دارالحکومت تاشقند میں منعقدہ شنگھائی تنظیم تعاون کی سمٹ میں پاکستان اور ہندوستان کی ذمہ داریوں سے متعلق تنظیم کے اراکین کے طور پر یادداشتوں پر دستخط کئے گئے ہیں۔ صدر روس کے معاون یوری اشاکوو نے بتایا کہ پاکستان اور ہندوستان کو تنظیم کی رکنیت دئے جانے کا عمل اگلے سال قزاقستان میں ہونے والی سمٹ میں مکمل کیا جائے گا۔

 مزید برآں تاشقند سمٹ میں منظور کردہ قرارداد میں شنگھائی تنظیم کے رکن ملکوں نے عالمی مسائل کے پرامن حل کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ اقوام متحدہ کو بین الاقوامی معاملات میں کلیدی کردار ادا کرنا چاہئے۔

 روس کے سربراہ ولادی میر پوتین نے کہا کہ شنگھائی تنظیم کا اولین مقصد تنظیم میں شامل ممالک میں سلامتی و استحکام کو یقینی بنانا، دہشت گردی کا مقابلہ کرنا اور دیگر بین الاقوامی اتحادوں کے ساتھ تعاون بڑھانا ہے۔

 یہ خبر \”ریانووستی\” یعنی رشین انٹرنیشنل ایجنسی آف نیوز کی جانب سے ہے، اس لیے اس میں پوتن کا ذکر ہے، جیسا کہ پاکستان کی خبر میں ممنون حسین کا ذکر ہوگا مگر خبر کا اصل متعلقہ حصہ صرف پاکستان کے متعلق نہیں بلکہ دو ملکوں یعنی پاکستان اور ہندوستان سے متعلق ہے۔

 یہ تنظیم جو کوئی ایک عشرہ پیشتر وجود میں آئی تھی اور جس کے رکن ملکوں میں چین، روس، ازبکستان، تاجکستان، قزاقستان اور کرغیزستان شامل ہیں بہت کم وقت میں ایک باوقار تنظیم کی شکل اختیار کر چکی ہے جس میں افغانستان، منگولیا، ایران، بیلاروس اور اسی طرح آرمینیا، آذر بائیجان،کمبوڈیا، نیپال، سری لنکا اور ترکی بھی کسی نہ کسی حیثیت سے شریک ہوتے ہیں۔ تنظیم آسیان، تنظیم سی آئی ایس اور ملک ترکمانستان بطور مہمان شامل ہوتے ہیں۔

 تین ملکوں پاکستان، ہندوستان اور ایران نے اس تنظیم میں بطور مکمل رکن لیے جانے کی درخواستیں بہت پہلے سے دی ہوئی تھیں۔ ایران پر چونکہ اقوام متحدہ اور مغرب کی جانب سے پابندیاں عائد تھیں، اس لیے اس کی درخواست پر غور کیے جانے کو موخر کر دیا گیا تھا۔ دوسری اہم بات یہ تھی کہ اس تنظیم میں کسی اور ملک کو بطور مکمل رکن لیے جانے پر عارضی پابندی عائد تھی۔ افغانستان سے اتحادی فوجوں کے انخلاء کے تناظر کے پیش نظر تین سال پیشتر اس پابندی سے صرف نظر کر کے پاکستان اور ہندوستان کی درخواستوں پر غور کیا گیا۔

اگرچہ یہ تنظیم ایک علاقائی اقتصادی تنظیم ہے مگر لامحالہ اقتصادی تعاون کا تعلق تنظیم سے متعلقہ ملکوں کے سیاسی حالات اور باہمی تعلقات میں موجود اختلافات سے بھی ہوا کرتا ہے یوں پاکستان اور ہندوستان کو ایک علاقائی تنظیم میں لیا جانا خاصا قابل فکر معاملہ تھا۔ چین کی ہندوستان سے پرخاش ہے جبکہ روس ہندوستان کا دوست ہے، چین پاکستان کا دوست ملک ہے جبکہ پاکستان سے ہندوستان کی معاندت ہے، افغانستان جس کے حالات کے خوب و بد ہونے کا تعلق اس تنظیم میں شامل کئی ملکوں کی اقتصادیات کے ساتھ بنتا ہے یا بنے گا کے تعلقات روس اور چین سے چاہے اچھے ہوں لیکن پاکستان کے ساتھ مشکوک ہیں۔ افغانستان سے امریکہ مکمل طور پر نکلنے کا ارادہ نہیں رکھتا، اسی امریکہ کو شنگھائی تنظیم تعاون میں کسی بھی حیثیت سے لیے جانے سے انکار کیا گیا تھا۔ چین اور امریکہ کی آویزش کسی سے چھپی ہوئی نہیں ہے۔ ہندوستان اور امریکہ کے بڑھتے ہوئے تعلقات چین کے لیے بھی باعث تشویش ہیں۔ چین کی بحر ہند میں اپنی حیثیت اوراثر و رسوخ بڑھانے کی کوششوں کو امریکہ اور ہندوستان دونوں اچھا خیال نہیں کرتے۔ غرض ان دونوں ملکوں کو ایک ہی جگہ بٹھانا بہت ٹیڑھی کھیر ہے چنانچہ ان دونوں ملکوں کو تنظیم مذکورہ میں لیے جانے سے پہلے ان کے کے ارادے بھانپنے کی خاطر انہیں مختلف آزمائشوں سے گذارا جا رہا ہے۔ اب ان دونوں ملکوں کو رکن تو لے لیا گیا ہے لیکن حتمی طور پر نہیں بلکہ ان کے سر ذمہ داریاں عائد کی گئی ہیں، جن کی تفصیل تکنیکی نکات طے ہوجانے کے بعد سامنے لائی جائے گی۔ ان ذمہ داریوں سے عہدہ برآء ہونے کے بعد جیسا کہ ریا نووستی کی خبر میں صدر روس کے معاون یوری اشاکوو کے حوالے سے بتایا گیا ہے، ان دونوں ملکوں کو آئندہ برس قزاقستان میں ہونے والی سربراہی سمٹ کے موقع پر حتمی طور پر مکمل رکن لے لیا جائے لیکن ذمہ داریاں نبھانے کی توثیق ہونے کے بعد۔

اسی بارے میں: ۔  ملحد کا کفر اور میری توبہ توبہ

یوں جس طرح ان دونوں ملکوں کو مکمل رکن کی حیثیت سے لیا گیا ہے وہ ایک عارضی عمل ہے جو آئندہ سال بھر اس ضمن میں کی گئی ان کی سرگرمیوں سے مشروط ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ یہ دونوں ملک اور خاص طور پر پاکستان اپنی ذمہ داریوں کو نبھائے گا اور سرخرو ہو کر اس تنظیم کا حتمی طور پر مکمل رکن لے لیا جائے گا۔ یقیناً ہندوستان بھی اس موقع سے ہاتھ دھونا نہیں چاہے گا۔

 یوں اگلے سال کے بعد لگتا ہے کہ خطے کے ملکوں کی عدم مفاہمت کا صفحہ گلنا شروع ہو جائے گا اور جلد ہی ایسا عہد ضرور آئے گا جب اپنے بارے میں ہی نہیں بلکہ سب کے بارے میں لوگوں کو سچ بتایا جایا کرے گا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔