اپنی ہی ماں کا لگایا گہرا زخم


پاؤلا ڈمیٹری نام تھا اس کا۔ اس دن اسے میں نے پہلی دفعہ دیکھا۔ وہ ہمارے سٹنگ روم میں سرجھکائے میری بیوی کے سامنے بیٹھی ہوئی تھی۔ بچّے باہر کھیل رہے تھے۔ وہ میری بیوی کی ماں تھی۔ کارلا نے مجھے دیکھ کر بڑی سختی سے اپنی ماں سے کہا تھا ”کبھی نہیں، کبھی بھی نہیں آنا میرے پاس، اس گھر اور میرے بچوں پر تمہارا سایہ بھی نہیں پڑنا چاہیے۔ کبھی نہیں کبھی بھی نہیں۔ یو آر نومور مائی مدر۔ تم میری ماں نہیں ہو اور ہوگی بھی نہیں۔ “

وہ کارلا کی ہی طرح خوبصورت تھی۔ ساٹھ سال کے لگ بھگ عمر ہوگی اس کی مگر اس عمر میں بھی وہ بلا کی خوبصورت لگ رہی تھی۔ وہ دھیرے سے اُٹھی مجھے دیکھ کر مسکرائی اور خاموشی سے دروازہ کھول کر اپنی گاڑی میں بیٹھی، بھرپور نظروں سے اس نے لان میں کھیلتے ہوئے بچوں کو دیکھا اور خاموش گاڑی کا انجن چلا کر رخصت ہوگئی۔

کارلا سے میری ملاقات کلیولینڈ میں ہوئی۔ اوہائیو کے اس شہر میں وہ مجھے ہسپتال میں ملی۔ میں پاکستان سے ایم بی بی ایس کا امتحان پاس کرتے ہی نکل کھڑا ہوا اور نیویارک میں جا کر بسیرا ڈال دیا تھا۔ پیسوں کی کمی نہیں تھی اور ڈیڈی کے تعلقات بھی تھے۔ ڈیڈی سرکاری ملازم تھے۔ تنخواہ کے ساتھ دوسرے وسائل بھی تھے جن کی وجہ سے کبھی بھی روپے پیسوں کی کمی کا سامنا نہیں ہوا۔ دوسرے وسائل کا مجھے کوئی خاص اندازہ پاکستان میں رہ کر نہیں ہوا۔

خاص طور پر اس عمر میں جب میں اسکول اور کالج میں پڑھتا رہا تھا بلکہ میڈیکل کالج کے شروع کے برسوں میں تومیں یہی سمجھتا رہا کہ زندگی میں ہر ایک کے پاس اسی قسم کے وسائل ہوتے ہیں۔ لیکن جلد ہی مجھے اندازہ ہوگیا کہ ڈیڈی کے زیادہ تر وسائل غیر قانونی بلکہ اسلامی نقطہ نظر سے حرام بھی ہیں۔ لیکن ہمارے گھر میں اور ہمارے ملنے جلنے والوں کے گھر میں حرام حلال کا اپنا ایک خاص مفہوم ہوتا ہے۔ ڈیڈی بھٹو کے زمانے میں شراب پیتے تھے اور عید کی نماز گورنر ہاؤس میں پڑھتے تھے۔

ضیاء الحق کے زمانے میں بھی شراب تو نہیں چھوڑی مگر آفس میں پابند نماز ہوگئے۔ باقی رہا سہولتوں کا ناجائز استعمال اور سرکاری منصوبہ جات میں ہیرا پھیری، کمیشن میں خاطر خواہ حصہ، یہ کام کم یا زیادہ تو ہوتے رہے مگر ختم نہ ہوئے تھے نہ ہوں گے۔ اب میں سوچتا ہوں کہ اگر وہ یہ سب کچھ نہ کرتے توشاید ہم سب بھائی بہن کبھی بھی اچھے اسکول کالج میں نہ پڑھ سکتے اور نہ ہی پیشہ ورانہ کالجوں میں تعلیم حاصل کرسکتے۔ آج ہم سب لوگ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں، پروفیشنل ہیں اور ایسی جگہوں پر کام کررہے ہیں جہاں کوئی بے ایمانی کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

میں نیویارک میں کوئنز کے علاقے میں ایک اپارٹمنٹ میں اپنے دوسرے دوستوں کے ساتھ رہا، وہاں ہی رہ کر یو ایس ایم ایل ای کے امتحان کی تیاری کی۔ ہم چار دوست تھے اور ہم چاروں نے ہی کاپلان کے ادارے میں داخلہ لے لیا تھا۔ کاپلان سینٹر کی برانچیں پورے امریکہ میں موجود ہیں جہاں یو ایس ایم ایل ای کے امتحان کی تیاری کرائی جاتی ہے۔ ان کی بھاری فیس ہوتی ہے لیکن اگر دیکھا جائے تو یہ بھاری فیس، امتحان میں پاس ہوکر ڈاکٹر بن جانے کے بعد ملنے والی تنخواہ کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہے۔

ہم چاروں نے دل لگا کر یہ کورس کیا پھر بہت ہی اچھے نمبروں سے پاس بھی ہوگئے۔ اس زمانے میں امریکہ کے حالات ڈاکٹروں کے لیے بہت ہی سازگار تھے اور ہمارے نمبر بھی اچھے تھے۔ نمبر اگر اچھے ہوں تو رنگ نسل مذہب اعتقادات کچھ بھی راہ میں حائل نہیں ہوتے ہیں۔

امتحان پاس ہونے کے بعد ہم لوگوں نے میچنگ پروگرام میں درخواستیں ڈال دی تھیں۔ مجھے شروع دن سے ہی شوق تھا کہ سرجری میں ٹریننگ لوں گا اور خدا کا کرنا یہ ہوا بھی کہ سرجری میں ہی مجھے کام بھی مل گیا تھا۔ نہ جانے کیوں شروع میں ڈینور کے نام سے پریشان ہوگیا تھا کہ کون پہاڑوں پر کام کرے گا۔ آدھے دل کے ساتھ میں وہاں انٹرویو دینے گیا مگر ڈینور آتے ہی مجھے اس کی خوبصورتی نے اپنا گرویدہ بنالیا تھا۔ ڈینور اور اس کے اِرد گرد کا سارا علاقہ مجھے دل سے بھاگیا۔ ہرے بھرے اونچے نیچے پہاڑ، بارش، سردی، بہار کا موسم، خزاں کی ویرانگی سب کچھ تھا اس شہر میں۔

مجھے ہیوسٹن میں بھی نوکری ملی مگر میں نے فیصلہ کیا کہ ڈینور میں رہوں گا۔

ڈینور کا پہلا سال تو اتنی تیزی سے گزرگیا کہ کچھ پتہ ہی نہیں لگا کہ سال کب شروع ہوا اور کب ختم ہوا۔ ایک تو ہسپتال کا پورا نیا نظام پھر کام کے اوقات کار ایسے کہ آدمی کو ہوش ہی نہیں رہتا ہے۔ پاکستان میں پروفیسر صاحب 9 بجے بھی آجائیں تو بڑی بات ہے اور اکثر و بیشتر تو ایسا ہوتا ہے کہ پوری ہاؤس جاب کے دوران پروفیسر صاحب کو پتہ بھی نہیں ہوتا ہے کہ کون کون سے ڈاکٹر ان کے پاس کام کرکے چلے گئے ہیں۔ امریکہ میں سرجری میں روزانہ صبح ساڑھے چار پانچ بجے کام شروع کرنا پڑتا ہے اور تقریباً روز ہی شام کے سات اور کبھی آٹھ بج جاتے ہیں۔ اور جس روز رات کی بھی ڈیوٹی ہو اس دن نہ دن کا پتہ لگتا ہے اور نہ ہی رات کا اندازہ ہوتا ہے۔

چار سال اسی طرح سے گزرگئے۔ بیچ میں میں دس، دس دن کے لیے تین دفعہ پاکستان بھی ہو آیا تھا۔ شروع میں میں نے کبھی سوچا بھی نہیں کہ میں پاکستان کے علاوہ کہیں اور بھی کام کروں گا۔ کیونکہ بنیادی طور پر پر مجھے پاکستان اور یہاں کے لوگوں سے محبت تھی اور یہ بھی احساس کہ کتنے کم پیسے خرچ کرکے میں ڈاکٹر بن گیا تھا۔ میں آج حساب لگاتا ہوں کہ پورے پانچ سال میڈیکل کالج میں مشکل سے پانچ ہزار روپے کالج اور امتحان کی فیسوں کی مد میں خرچ ہوئے ہوں گے۔

امریکہ میں صرف کالج کے پانچ سال کی فیس کم از کم تین لاکھ ڈالر ہوجاتی ہے پھر اوپرکا خرچ تو ہے ہی۔ ایک عام امریکی گھرانہ اپنے بچوں کو میڈیکل کالج یا دوسرے اداروں میں اپنے خرچ سے پڑھا ہی نہیں سکتا ہے کیونکہ اتنے پیسے خرچ کرنے کی سکت کسی بھی خاندان میں نہیں ہوتی ہے۔ وہ تو بھلا ہو امریکن بینکنگ کے سسٹم کا جس میں تعلیم حاصل کرنے والوں کو کم سود پر تعلیمی قرضہ مل جاتا ہے اور اس قرض کی بنیاد پر بچّے تعلیم حاصل کرتے ہیں۔

ماں باپ روزمرہ کا خرچ برداشت کرتے ہیں اور یونیورسٹیوں کالجوں کی فیس بینک کے قرضوں سے ادا کی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب ایک امریکی ڈاکٹر، انجینئر بنتا ہے یا پی ایچ ڈی کرتا ہے تو زندگی کا آغاز ایک بڑے قرض کے بوجھ سے کرتا ہے۔ پہلی نوکری کے ساتھ ہی اس قرض کو اتارنا شروع کرتا ہے پھر جب چند سالوں میں اس کی آمدنی ایک خاص حد تک پہنچ جاتی ہے تو قرض کا پرانا بوجھ بھی اُترجاتا ہے۔

پاکستان میں تو میں ڈاکٹر ایسے ہی بن گیا۔ ایک یہ وجہ تھی پھر پاکستان اپنا گھر بھی تھا، اس کے پہاڑوں، دریاؤں، سمندروں، وادیوں کی اپنی خوبصورتی بھی تھی لیکن اپنے ریذیڈنسی کے آخری سال میں پاکستان جانے کے بعد میں نے فیصلہ کرلیا کہ کبھی بھی پاکستان واپس نہیں جانا ہے۔ مجھے احساس ہوا تھا کہ پاکستان جاتے ہی ڈیڈی اور ان کے دوست میرے لیے کسی بہترین نوکری کا انتظام کردیں گے۔ شاید نہ سی وی مانگا جائے گا نہ ہی انٹرویو ہوگا۔

میں اپنی تمام تر قابلیت کے باوجود زندگی بھر ایک سورس کی گالی سنتا رہوں گا، لوگ میرے پیٹھ پیچھے یہی کہیں گے، ارے یہ فلاں کا بیٹا ہے وہ خود زندگی بھر رشوت لیتے رہے پھر بیٹے کو بھی فٹ کردیا۔ رشوت شاید ڈیڈی کی مجبوری تھی، اچھے طریقے سے رہنے کے لیے ہماری ماں اور ہم سب کو اچھا رکھنے کے لیے مگر میری کیا مجبوری ہوگی۔ فیلو شپ کے بعد مجھے امریکہ میں جہاں چاہوں گا کام مل جائے گا، گوروں، یہودیوں اور ہندوؤں کے مقابلے پر بھی میرے ساتھ نا انصافی نہیں ہوگی۔ میں نے سوچا کہ پاکستان کے قرض کا بوجھ اتنا زیادہ نہیں ہوگا جتنا تکلیف دہ بوجھ ڈیڈی اور ان کے دوستوں کا ہوجائے گا۔

میں نے فیصلہ کرلیا کہ پاکستان واپس نہیں جاؤں گا۔ ڈینور میں چار سال خوب گزرے پھر مجھے بہت ہی اچھی فیلوشپ سرجری میں ہی کلیولینڈ کے مشہور ہسپتال میں مل گئی تھی۔ یہ ایک چنیدہ ہسپتال تھا۔ شاید یہودیوں کو یہاں زیادہ نوکری ملتی ہوگی مگر یہودیوں کے لیے قابل ہونا ضروری تھا۔ میرا سی وی ایسا تھا کہ اس کے مقابلے میں کوئی بھی نہیں ٹھہرا۔

کلیولینڈ کے پہلے ہی سال میری ملاقات کارلا گنوچی سے ہوگئی وہ بھی اسی ہسپتال میں فیلوشپ کرنے نیویارک سے آئی تھی۔ بچوں کے وارڈ میں کام کررہی تھی۔ وہ روم میں ایستادہ کسی پرانے مجسمہ کی طرح حسین تھی۔ نام سے ہی مجھے اندازہ ہوگیا کہ اس کا تعلق اٹالین گھرانے سے ہوگا۔ امریکہ بھی کیا خوب ملک ہے، ساری دنیا کے مہاجرین امریکہ میں آکر بس گئے ہیں اور بستے چلے آرہے ہیں اور آنے کے بعد یہ دھرتی کسی کو مایوس بھی نہیں کرتی ہے۔ یورپ، افریقہ، ایشیا، براعظموں کے ہر ملک کے لوگوں کے لیے راستے کھلے ہوئے ہیں وہ آتے ہیں اور آکر یہاں رچ بس جاتے ہیں۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں