میڈیا کے طُلبہ اور میڈیا بحران


کہا جا رہا ہے کہ آنے والا دور صحافت کے لئے آسان نہیں ہوگا، ویسے تو صحافیوں کو ہر دور میں ہر طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن حالیہ میڈیا بحران کے باعث مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ شعبہ صحافت اور ماس کمیونیکیشن سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے لئے بھی یہ دور پریشانی کا باعث بن رہا ہے، کیونکہ پچھلے الیکشن کے لئے جن طلبہ کو مختلف نیوز چینل میں الیکشن سِل کے لئے انٹرن شپ ملی اُنہیں عندیہ دیا گیا تھا کہ انٹرن شپ پیریڈ مکمل ہونے کے بعد وہ انہیں نوکری پر رکیں گے لیکن جیسے ہے الیکشن ختم ہوئے ایک ماہ بعد میڈیا بحران کی باتیں سامنے آنے لگی اور ان طلبہ سے کہا گیا کہ میڈیا بحران شروع ہونے والا ہے، سینیئر لوگوں کو نکالا جا رہا ہے اور آپ تو ابھی انٹرنی ہو تو فی الحال کوئی چانس نہیں بن رہا، اس طرح میڈیا کے طلبہ کے لئے بھی یہ پریشانی کا باعث بن رہا ہے۔
پچھلی دو حکومتوں کا دور میڈیا کے لئے اشتہارات کے حوالے سے سُنہرا دور تھا۔ یوں کہا جائے کہ میڈیا مالکان کی پانچوں اُنگلیاں گھی میں تھیں۔ جہاں دس افراد کی ضرورت تھی وہاں پندرہ اور بیس بھرتی کیے گئے۔ میڈیا نے بہت ترقی کی، نئے چینلز قائم ہوئے، جو پُرانے نیوز چینلز تھے ان کا دائرہ کار بڑھایا گیا، ہر بڑے نیوز چینل کے دو اور تین ذیلی چینلز بنے یعنی انٹرٹینمنٹ، اسپورٹس، میوزک، فیشن اور پکوان وغیرہ کے چینلز بنے او ر اس طرح ایک ادارہ تین سے چار ذرائع سے اشہارات نشر کرنے لگا۔
نئی حکومت کے بعد اس طرح اچانک میڈیا بحران کی باتیں سامنے آنا جو پچھلے دس بارہ سالوں میں کبھی نہیں آئیں تو ذہن میں یہی سوال پیداہوتا ہے کہ کیا موجودہ میڈیا بحران میں کہیں نہ کہیں حکومت کا عمل دخل تو نہیں؟ لیکن اس حوالے سے وزیر اطلاعات فواد چودری کہا ہے کہ میڈیا کو اس بحران سے نکالنے کے لئے حکومت مدد کر رہی ہے لیکن میڈیا کے وہ طلبہ جو آخری سمسٹر کے بعد اپنے کیریئرکے اچھے آغاز کی خواہش رکھتے ہیں وہ ایسے ماحول میں کیسے ممکن ہوگا؟

وفاقی اردو یونیورسٹی میں تفتیشی رپورٹنگ کے حوالے سے ایک سمینارمنعقد کیا گیا جس کے مہمان ملک کے مشہور کالم نگار وسعت اﷲ خان اور سینئر اینکر پرسن و تجزیہ نگار مبشر زیدی تھے، مہمانوں نے پاکستان میں صحافیوں کو درپیش مسائل پر بات کی اور تفتیشی رپورٹنگ کے حوالے سے میڈیا کے طلبہ کو اپنے تجربات سے آگاہ کیا اور قیمتی مشورے دئیے، حالیہ میڈیا بحران پر بات کرتے ہوئے مبشر زیدی نے کہا کہ ضروری نہیں کہ آپ روایتی میڈیا چینل سے اپنے مستقبل کا آغاز کریں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اب Digital Avenue میں اتنی وسعت آ گئی ہے کہ اس سے پیسے کمایا جا سکتا ہے، جیسا کہ ہمارے پڑوس بھارت اور بنگلہ دیش میں کام ہو رہا ہے جہاں ایک گروپ آف اسٹوڈنٹس یہ کام کررہے ہیں اگر چہ اس میں محنت زیادہ ہے لیکن بجائے اس کے کہ آپ چھ مہینے بغیر تنخواہ کے کام کریں اس سے بہترہے اپنا ویب چینل کھولیں اور سوشل میڈیا کے ذریعہ آغاز کر یں۔ اس حوالے سے وسعت اﷲ خان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی بحران دائمی نہیں ہوتا، عروج اور زوال آتے ہیں طلبہ کو گھبرانا نہیں چاہئے۔ اس بحران کا مقابلہ کر کے اپنا راستہ خود بنائیں، اور آج یہ بحران ہے کل کو کوئی اور بحران ہوگا ہر طرح کے حالات کے لئے تیار رہنا چاہئے، ہم نے اپنے اُستادوں سے یہی سیکھا او ر طلبہ کے لئے بھی ہمارا یہی مشورہ ہے۔

لہٰذا نئے آنے والے طلبہ حالیہ میڈیا بحران سے مایوس نہیں ہوں بلکہ ان حالات میں اپنے آپ کو منوائیں۔ ضروری نہیں کہ آپ کسی میڈیا چینل میں ہی کام کریں بلکہ اپنا کچھ تخلیقی کا م کریں جس سے ایک الگ پہچان بنے۔ جیسا کہ جن کو اچھا لکھنا آتا ہے، وہ اپنی تحریر سے آغاز کرسکتے ہیں مثلاً اخبارات میں کالم لکھیں۔ اس کے علاوہ مختلف سوشل میڈیا کے ویب سائٹز پر بھی اپنے کالم کو شائع کروا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ آپ ویب چینل بنا کر اپنی ویڈیوز اپ لوڈ کر کے بھی پیسے کما سکتے ہیں، جو کہ آپ کی تخلیقی صلاحیت کو مزید ابھارنے ہیں معاون ثابت ہوگا اور بلاشبہ آپ کامیاب مستقبل کی طرف گامزن ہوں گے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

محمد ذیشان کی دیگر تحریریں
محمد ذیشان کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں