کرتارپور کوریڈور: ہمسائیوں کے درمیان محبت کاراستہ


ملکوں کی تاریخ میں کئی ایسے موڑ بھی آ جاتے ہیں جب تاریخ ساز قدم بڑی خاموشی سے اٹھا لئے جاتے ہیں۔ بھارت اور پاکستان کی تقریبا آٹھ دہائی پر مبنی پڑوس داری میں زیادہ تر وقت تلخیوں کی نذر ہوا ہے، ایسے میں تعلقات بہتر بنانے کا کوئی معمولی سا قدم بھی بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ گذشتہ دنوں دونوں ملکوں نے جو کام کیا وہ کوئی معمولی قدم نہیں بلکہ بہت بڑا قدم ہے جس کے اثرات بہت دوررس ہوں گے۔ یہ بات دیگر ہے کہ کچھ مصلحتوں کے سبب اس قدم پر اتنی دھوم دھام نہیں ہوئی جیسی ہونی چاہئے تھی۔ دونوں ممالک کے درمیان کھڑی تلخیوں کی دیوار میں روحانیت کا ایک دروازہ کھولا جا رہا ہے، کرتارپور صاحب کاریڈور کے ذریعہ بھارت کے سکھ عقیدت مند سرحد پار واقع اس سکھ درگاہ میں حاضر ہو سکیں گے جہاں گرونانک جی نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ بسر کیا تھا۔ اس کے لئے زائرین کو کسی ویزے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ مجھے نہیں یاد پڑتا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات بہتر بنانے کے لئے کوئی اس سے بڑا مستقل قدم اٹھایا گیا ہو۔

کرتار پور صاحب کا کھلنا اور اس کا بھارت سے رابط ہونا نہ صرف سکھ برادری کادیرینہ خواب تھا بلکہ ہر اُس بھارتی کا خواب تھا جو گرونانک جی سے عقیدت رکھتا ہے۔ کرتار پورمیں لہلہاتے دھان کے کھیتوں میں کھڑی گرودوارہ کی سفید عمارت ،گرونانک دیو جی کی رہاش گاہ اور جائے وفات ہے،انھوں نے اپنی زندگی کے آخری 18 برس یہاں گزارے اور کرتار پور کا نام بھی خود انھوں نے تجویز کیا تھا۔ گزشتہ 71 برس سے لوگ کرتار پور گرودوارے کی زیارت سے محروم تھے، بھارت گزشتہ کئی برس سے پاکستان سے راہ داری کھولنے کا مطالبہ کررہا تھا لیکن پاکستان نے پہلی مرتبہ مثبت جواب دیا ہے۔ بھارت نے بھی اس مسئلہ پر بہت کھل کہ نہ سہی لیکن دبی آواز میں اس مسئلے کو حل کرنے کی سمت پیش رفت کی اور بھارت کے نائب صدر جمہوریہ ایم وینکیا نائیڈو نے 26 نومبر 2018 کوبھارت کی طرف سے کوریڈور کا سنگ بنیاد رکھا۔ پاکستان کے نئے وزیرِ اعظم عمران خان کے حلف اٹھانے کے بعد ہی سے اس حوالے سے باتیں ہو رہی تھیں،جس کے چند روز بعد پاکستان میں بھارت کے سفیر نے کرتارپور کا دورہ بھی کیا اور تبھی پاکستانی حکومت کے وزیرِ اطلاعات فواد چودھری نے بی بی سی سے ایک انٹرویو میں بھی اس بات کا عندیہ دیا کہ ان کی حکومت کرتارپور سرحد پر ایک ویزا فری کوریڈور تعمیرکرنے کے لیے آمادہ ہے۔ جس سے سکھ یاتری دربار صاحب تک بغیر ویزا آ جا سکیں گے یعنی دربار صاحب کی زیارت کے لیے ویزاکی ضرورت نہیں ہوگی اور نہ ہی طوالت بھرا سفر کرنا پڑے گا۔

دوسری جانب پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے28نومبر 2018 کرتار پور کوریڈور کا سنگ بنیاد رکھتے وقت اپنی تقریرمیں کہا کہ آپ کے چہروں کی مسکراہٹ سے مجھے بے حد خوشی ہو رہی ہے۔ انھوں نے وعدہ کیا کہ آئندہ سال گرونانک جی کے 550ویں یوم پیدائش پر اس علاقے کی نہ صرف تصویربدل جائے گی بلکہ یہاں ہرقسم کی سہولت ہوگی۔

یہ حقیقیت ہے کہ بھارت-پاک کے درمیان کشیدگی کے باوجود تین ماہ کی عمران حکومت کا یہ بڑا بین الاقوامی فیصلہ ہے۔ جسےبھارتی کرکٹ کے سابق کھلاڑی نوجوت سنگھ سدھو کی کاوشوں کا نتیجہ بھی بتایا جا رہا ہے کیونکہ خودعمران خان نے کرتارپور کاریڈور کے سنگ بنیاد کی تقریب میں اپنی تقریر کے آخر میں بھارت کے سابق کرکٹر، ٹی وی فن کار اور پنجاب حکومت کے صوبائی وزیر کا خصوصاً شکریہ اد اکرتے ہوئے کہا کہ سدھو جب تین ماہ قبل پاکستان آئے تھے تو ان پر اس وقت بہت تنقید ہوئی تھی اور پتہ نہیں ان پر تنقید کیوں ہو رہی ہے۔ عمران خان نے کہا کہ جو شخص دوستی اور پیار کا پیغام لے کر آرہا ہے وہ کون سا جرم کر رہا ہے،سدھو تو دو ہمسایہ ممالک کے درمیان رشتوں کواستوار کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ عمران خان نے پاکستان میں سدھو کی مقبولیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سدھو اگر یہاں سے انتخاب لڑیں تو وہ یقینی طور پر جیت جائیں گے۔ عمران خان نے جو سدھو کے پاکستان سے انتخاب لڑنے کی بات کہی وہ ایک سیاسی شخصیت کی حیثیت سے نہیں بلکہ سدھو کی بحیثیت فنکار اور سابق کھلاڑی مقبولیت اور حالیہ پیش قدمی کی وجہ سے کہی اور اگر سدھو کو اس کام کا سہر اجاتا ہے تو یہ اُن کا حق ہے اس لیے کہ ہر نیک کام کا سہرا اور ثواب کام کی ابتدا کرنے والے کو ہی ملنا چاہیے۔

یہاں یہ بات تو واضح ہو گئی کہ سدھو نے اپنی اور عمران خان کی دوستی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کم ازکم سکھ برادری کے دیرینہ مطالبہ کو پورا کرانے کی کوشش کی اور تمام بھارتی شہریوں کی نمائندگی کی کیونکہ گرونانک جی ہر بھارتی کی نظر میں محترم ہیں۔

اگر ہم یہاں تھوڑی دیر کے لیے سدھو پر ہو رہی تنقید کی بات کریں تو سدھو اصلاً تو بی جے پی کے ہی تھے بعد میں وہ کانگریس میں شامل ہوئے ۔ اگر کہا جائے کہ سیاسی حیثیت سے ان کی مخالفت ہورہی ہے ان کی تنقید ہو رہی ہے تو جہاں سدھو سے بی جے پی خوش نہیں ہے تو وہیں یہ بھی جان لیں کہ سدھو کے عمل اور پیش قدمی پرکانگریس نے بھی خوشی کااظہار نہیں کیا ہے خود ان کے وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندرسنگھ نے خوشی کا اظہار نہیں کیا بلکہ میڈیا کے سوال کے جواب میں کیپٹن نے کہا کہ سدھو ان کی رضامندی کے بغیر پاکستان گئے۔

اصل میں بھارت-پاکستان کے معاملات بین الاقوامی سطح کے ہیں اور اس بین الاقوامی معاملے میں اگر کوئی عام لیڈر خیرسگالی کی بات کرے تو ممکن ہے یہ بڑے لیڈروں کو اس وجہ سے ہضم نہ ہو کہ وہ خود اس کا حق دار سمجھتے ہوں۔ لیکن یہاں سدھو کی مقبولیت سے سیاسی لیڈروں کو گھبرانا نہیں چاہیے کیونکہ سدھو کی مقبولیت اس وجہ سے نہیں ہے کہ وہ سابق رکن پارلیمنٹ ہیں، اس وقت صوبائی وزیر بھی ہیں، بلکہ سدھوکی مقبولیت یا شہرت کی بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ کرکٹ کے سابق کھلاڑی ہونے کے ساتھ ساتھ ٹی وی کے بہت مقبول فن کاربھی ہیں اور وہ بھی مزاحیہ فن کار اس کے بعد وہ سیاست داں ہیں۔ سدھو کی پوری دنیا میں شناخت،شہرت یا مقبولیت ایک سیاست داں کی حیثیت سے نہیں ہے بلکہ ایک معروف فنکار کی حیثیت سے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مقبول عوام وخواص ہیں اور یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر وہ ایک مقبول فنکار نہ ہو کہ صرف سیاست داں ہوتے تو شاید وہ اس طرح کی کوشش میں اتنے کامیاب نہ ہوتے کیونکہ انھوں نے اپنی دوستی سے اپنی قوم کو زبردست فائدہ پہنچایا ہے۔

سدھو نے ہی پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ کرکٹ کے میدان کی دوستی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کرتار پو رکی راہداری کے سلسلے میں بات کی تھی اورماضی کے آئینے میں یہ بات بھی واضح ہے کہ اس سے پہلے جو بھی کوششیں ہوئیں وہ ناکام ہوئیں،اور سیاست کی نذر ہوگئیں۔ اگر یہ مسئلہ سیاست سے حل ہوتا تو جو مرکزی وزرا پاکستان گئے ان کے خانوادے کے لوگ تو کئی برس اقتدار میں رہے اور یقینی طور پر کوشش بھی کی گئی لیکن یہ سب کوششیں گرداس پورمیں گرودوارہ ڈیرہ بابا نانک، جہاں گرونانک جی چلے یا مراقبے کے لیے جایا کرتے تھے وہاں لگی دوربین سے آگے نہیں بڑھ سکیں۔ اب تک کرتار پور صاحب زیارت کیلئے زائرین کے پاس واگھہ بارڈر کے ذریعہ 400 کلومیٹر کے طویل زحمت بھرے سفرکےسوا کوئی راہ نہ تھی۔ آپ کے یہ بھی گوش گزار کردوں کہ عمران خان کی تقریبِ حلف برداری سے واپسی پر سابق انڈین کرکٹر اور وزیر نوجوت سنگھ سدھو کے تعلق سے یہ بات سامنے آئی تھی کہ سدھو کی پاکستانی فوج کے سربراہ سے کرتارپور سرحد کھولنے کے حوالے سے بات چیت ہوئی ہے۔ بہر حال اب کوئی سدھوکی مخالفت کرے یا تنقید یہ سب سیاسی جملے بازی سے زیادہ اور کچھ نہیں ہے۔ کیونکہ سیاسی جملے بازی کے ذریعہ سیاسی جماعتیں یا لیڈراپنے مفادات کی خاطر قومی یا ملکی مفادات کو یاتو کم تر سمجھتے ہیں یا پس پشت ڈال دیتی ہیں۔

عمران خان نے اپنی تقریر میں بھارت کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھاتے ہوئے اورہند-پاک کے تلخی بھرے رشتوں کو استوار کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ ماضی کی زنجیر کوتوڑنا بہت ضروری ہے جس کے لیے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا کہ ماضی الجھے رہنے کے لیے نہیں ہوتا بلکہ ماضی آگے بڑھنے کے لیے سبق آموز ہوتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں اچھے ہمسایوں کی طرح پیار اور محبت سے رہنا چاہیے۔ انھوں نے ماضی میں فرانس-جرمنی کے کشیدہ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ برسوں کی جنگ اور خون خرابے کے بعد آج وہ ایک ہیں صرف ایک ہی نہیں ہیں بلکہ اب وہ ایک دوسرے سے لڑائی کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے۔

پاکستان کے سربراہ کا یہ بیان، یہ موقف شاید قیادت کی تبدیلی کی بھی ایک اہم وجہ ہو سکتی ہے،ہوسکتا ہے پاکستان کی نئی قیادت حالات کو بہتر بنانے اور دونوں طرف کے فوجیوں کی جانوں کو محفوظ کرنا چاہتی ہو، کیونکہ اب تک کے خون خرابے سے کچھ حاصل نہیں ہوا، بلکہ دونوں جانب جانوں کا ہی نقصان ہوا ہے۔ اس لیے کچھ مضبوط ارادوں کےساتھ دونوں طرف کی قیادت کو مثبت انداز میں بات چیت شروع کرنے کی ضرورت ہے۔ بات چیت شرو ع ہوگئی تو ہم بھی امید کریں گے کہ گروجی کے 550 ویں یوم پیدائش سے قبل دونوں ممالک کی قیادت کوئی نہ کوئی مناسب حل نکال لے گی اور روحانی پیشوا گرونانک جی کے تصدق بھارت اور پاکستان کے لیے کشمیر مسئلہ حل کرنے کا یہ ایک اچھا موقع ہوگا جسے ہم گرو جی کی کرامت ہی سمجھیں گے۔ کیونکہ گروجی بھی خدائے واحد کے قائل تھے، وحدانیت پر یقین رکھتے تھے لہٰذا کرتارپور کوریڈور کے بن جانے سے دونوں ملکوں کے لوگوں میں میل جول بڑھے گا ،اور اس طرح مسئلہ کشمیر کے حل ہونے کے امکانات روشن ہو جائیں گے۔

اس طرح بھارت اور پاکستان دو الگ الگ نہیں بلکہ دو ملک ایک طاقت کی شکل میں ابھر کر سامنے ٗآئیں گے۔ گرونانک جی ایک خدائی طاقت پر یقین رکھتے تھے، سچ پر یقین رکھتے تھے اسی لیے آپ نے کہا ست سری اکال۔ اس بزرگ کی وہ شان تھی کہ جب آپ اپنے معبود حقیقی سے جاملے تو آپ کے جسد خاکی کی آخری رسومات پر اختلاف ہوا، مسلمان آپ کو دفن کرنا چاہتے تھے اور ایک طبقہ ایسا تھا جو آپ کے جسدخاکی کو نذرآتش کرنا چاہتا تھا، اختلاف بڑھتا دیکھ کچھ بافہم لوگوں نے کہا کہ گروجی کی چادر ہٹایئے،چادر ہٹائی تو آپ کا جنازہ غائب تھا اور جنازے کی جگہ گلاب کے تازہ پھول موجود تھے،اس کے بعد آدھے پھول اور آدھی چادرمسلمانوں کودی گئی تاکہ وہ اسے دفن کردیں اور آدھے پھول اور آدھی چادر دوسرے طبقے کو دی گئی، جسے انھوں نے نذر آتش کرنے کے بعد عمارت کے اندر سمادھی بنادی۔ اس طرح آپ کی قبر احاطے کے صحن میں ہے جہاں آج بھی مسلمان زائرین درگاہ صاحب پر فاتحہ خوانی کرتے ہیں،آج بھی تمام طبقوں کے لوگ گرودوارے کے لنگر سے فیض یاب ہوتے نظر آتے ہیں۔ گرونانک جی سماج میں رنگ ونسل یا مذہب کی بنیاد پر تفریق کے قائل نہیں تھے۔ گرونانک جی گرچہ مسلمان نہیں تھے تاہم ان کی تعلیمات مقامی مسلمانوں کے عقائد سے خاصی مطابقت رکھتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کے نزدیک گرونانک جی کی حیثیت ایک روحانی بزرگ کی ہے۔ امید ہے کرتار پور کوریڈور کی یہ نئی پیش رفت نئی صبح کی امید لیکر آئے گی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

سید خصال مہدی کی دیگر تحریریں
سید خصال مہدی کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

سید خصال مہدی

سید خصال مہدی نئی دہلی میں دور درشن نیوز پر کاپی ایڈیٹر کے طور پر پیشہ ورانہ فرائض انجام دے رہے ہیں

khisal-mehdi has 1 posts and counting.See all posts by khisal-mehdi