یہ لوگ بیٹی جیسی نعمت کے مستحق نہیں


“اللہ آپ کو چاند سا بیٹا دے”، وہ ہر کسی کو یہی دعا دیتی تھی۔ شاھین گائنی وارڈ میں کام کرتی تھی۔ اس کی عمر کوئی چوبیس سال ہو گی۔ اس کا قد چھوٹا اور جسم دبلا تھا مگر چہرہ بالکل گول مٹول، شاید اسی لیے وہ دیکھنے میں بہت معصوم لگتی تھی۔ اس میں روایتی آیا جیسا کوئی بھی نخرہ نہیں تھا وہ اپنے فرائض بڑی خوشدلی سے انجام دیتی تھی، ہر کسی کا کام پوری توجہ اور محنت سے کرتی تھی شاید یہی وجہ تھی کہ آنے والی ہر عورت خوشی سے اسے کافی کچھ دے جاتی تھی۔ وہ کبھی کسی سے پیسے نہیں مانگتی تھی پھر بھی اس کو ملنے والی ٹپ تمام آیاؤں سے زیادہ ہی ہوتی تھی۔ شاھین کے ساتھ کام کرنے والی دوسری آیا اسے بہت چالاک سمجھتی تھیں، کئی مرتبہ تو اسے یہ بھی سنا دیتیں کہ وہ چکنی چپڑی باتیں کر کے پیسے بٹورنا خوب جانتی ہے، جواباً وہ خاموش رہتی۔ وہ ویسے بھی خاموش ہی رہتی تھی، اسے کسی سے کوئی سروکار نہ تھا اپنی ڈیوٹی پوری کرتی اور چلی جاتی۔

فارغ اوقات میں جب سب اکٹھی ہو کر باتیں کرتیں وہ الگ تھلگ بیٹھی رہتی، اسپتال کی باتیں ہوں یا گھروں کے مسائل اسے کوئی دلچسپی نہ تھی۔ بڑا غرور ہے بھئی اس کو تو ڈاکٹر ہونا چاہیے تھا وہ سب ہنستیں ۔ ہنسی، طنز اور اس میں چھپی جلن شاہین بڑی خندہ پیشانی سے برداشت کر لیا کرتی اور کسی سے کچھ نہ کہتی۔ مگر ایک روز حد ہی ہوگئی۔ مریضہ نےآیا کو یہ کہہ کر واپس بھجوا دیا کہ وہ شاھین سے ہی مدد لے گی۔ وہ آیا شاہین سے الجھنے لگی، مریضوں کی تعریفیں کرتی ہوں ان کے سامنے بیٹا بیٹا کی رٹ لگائے رکھتی ہو یہ سب ڈرامے بازی اس لیئے کرتی ہو ناں تاکہ تمہیں زیادہ پیسے ملیں؟ ڈرامہ بازی نہیں ہے یہ، شاھین کرب سے بولی میں تو دل سے دعا کرتی ہوں جو سلوک یہاں بیٹیوں کے ساتھ ہوتا ہے اچھا ہے ناں بیٹیاں پیدا ہی نہ ہوں۔

آیا حیرت سے منہ کھولے اس کی طرف دیکھ رہی تھی۔شاہین دکھ بھرے لہجے میں کہنے لگی،” پانچ سال پہلے میری شادی ہوئی شوہر مستری کا کام کرتا تھا، ساس سخت تھی مگر مجھے کون سا میری ماں نے لاڈ پیار میں پالا تھا وہ تو میرے بچپن میں ہی فوت ہوگئی تھی، اس لئے سوتیلی ماں اور ساس میں کوئی خاص فرق نہیں تھا۔ اچھا وقت گزر رہا تھا، امید سے ہوئی تو شوہر اور ساس نے کہنا شروع کردیا کہ بیٹا ہی چاہیے بیٹی کو تو ہم دیکھیں گے بھی نہیں۔ وقت نزدیک آیا تو جیسے کہ دستور ہے مجھے ماں کے گھر بھیج دیا گیا۔ سوتیلی ماں تھی، خیال تو کیا رکھتی ہر وقت خرچے کی باتیں سناتی رہتی۔ میں بس یہ دعا کرتی کہ یہ وقت جلدی گزر جائے تو اپنے گھر واپس چلی جاؤں۔ ڈلیوری گھر پر ہی ہونا تھی، اس لیے ساس اور شوہر گھر آگئے، میں اندر کمرے میں تھی اور برآمدے میں میری ساس، شوہر اور سوتیلی ماں انتظار میں بیٹھے تھے۔ بیٹی پیدا ہوئی۔

دائی نے باہر جا کےخبر دی تو پہلی آواز ساس کی سنائی دی ہم نے تو پہلے ہی بتا دیا تھا بیٹا چاہیے۔انہوں نے اپنا کہا سچ کیا واقعی بیٹی کو دیکھا تک نہیں وہیں سے واپس لوٹ گئے اور دوسری آواز میری سوتیلی ماں کی تھی اسی کو پالنا مشکل تھا اب اس کے ساتھ ایک اور مصیبت سر پڑ گئی۔ مگر میں ان پر بوجھ نہیں بنی، محنت کر کے اپنا اور بچی کا پیٹ پال رہی ہوں۔ شوہر نے جلد ہی شادی کر لی تھی قسمت اچھی تھی اس کی بیوی کی کہ اس کے ہاں بیٹا پیدا ہوا ورنہ شاید وہ بھی اس گھر میں نہ رہ رہی ہوتی۔ اپنا، اپنی بیٹی اور آس پاس کی کئی اور بیٹیوں کا حال دیکھ کر ہی میں ہر کسی کو بیٹا پیدا ہونے کی دعا دیتی ہوں، کیونکہ بیٹی انمول ہوتی ہے جو اس کی قدر نہ کر سکے وہ اس کا حقدار بھی نہیں”۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں