یہ میرا آخری کالم ہے


میں آج سیاست پہ لکھنے سے ریٹائرمنٹ کا باضابطہ اعلان کرتا ہوں۔ ایسے لکھنے سے کیا حاصل جب ہرسطر لکھنے سے پہلے یہ سوچنا پڑے کہ کیا نہیں لکھنا، بلکہ کیا کیا نہیں لکھنا۔ جو لکھنا ہے اس کے بارے سوچیں یا جو نہیں لکھنا اس کے بارے؟ ہرجملہ لکھتے ہوئے کیا اسی اُدھیڑ بُن میں رہیں کہ بات قاری سے کیسے چھپانی ہے؟ کیا ہم اپنے خیالات لوگوں تک پہنچانے کے لئے لکھتے ہیں یا چھپانے کے لئے؟ یا وجاہت مسعود صاحب جیسا طرزِ تحریر ایجاد کریں اور عمودِ لحمی کی مرگِ ناگہانی کا تذکرہ اس یقین کے ساتھ کریں کہ بڑی حد کتنوں کو سمجھ آ جائے گا۔ میری طرح ہر اُس صحافی کو لکھنا چھوڑ ہی دینا چاہیے جسے لکھتے ہوئے مسلسل یہ محسوس ہو جیسے وہ Coitus Interruptus کی مشق کر رہا ہے۔

اس سلسہ میں ایک تجویز دینا چاہتا ہوں، یہ میری آخری اُمید ہے، توقع ہے کہ اربابِ بست و کُشاد مایوس نہیں کریں گے۔ در خواست یہ ہے کہ خواہ قلم کو یوں ہی زنجیروں میں جکڑا رہنے دیں، بلکہ ہر حلقۂ زنجیر پر بھی احتیاطً قُفل لگا دیجیے، لیکن بس ایک، فقط ایک مہربانی فرما دیجیے کہ ہمیں اپنی تحریر میں گالی نکالنے کی اجازت دے دیجیے، ہر طرح کی گالی، بڑی بڑی، گندی گندی غلیظ گالیاں، منہ بھر کہ گالیاں۔ اس سلسلہ میں غیر مشروط آزادی عطا فرمائیے۔

تعدد دُشنام فی کالم کا کوئی کوٹہ مقرر نہ کیجیے، کُل محرمات سے زبانی رشتے جوڑنے کی مکمل آزادی عطا فرمائیے۔ آزادی اظہارِ رائے نہ سہی، آزادی اِظہارِ جذبات ہی سہی۔ ایک صاحب کہنے لگے گالم گلوچ سے ماحول میں تعفن بڑھے گا۔ عرض کیا کہ فضا تو فضلہ کی عفُونت سے پہلے ہی لدی ہوئی ہے، گٹر میں رہنے والے تعفن سے نہیں ڈرتے، قے کرنے سے فرش گندا ہو جاتا ہے، لیکن بدن کا اندروں چمک اٹھتا ہے۔

چلیے اگر کسی کو اعتراض ہے تو اس پہلو پہ غور کیا جا سکتا ہے کہ کسی ملک، ادارے یا فرد کو تحریری گالی کی اجازت نہ دی جائے (یعنی اس ضمن میں موجودہ صورت حال برقرار رکھی جائے اور زبانی کام چلایا جائے) لیکن کم از کم ہوائی گالی کی اجازت تو ہونا چاہیے، یعنی روئے دُشنام کسی کی طرف نہ ہو، جیسے کوئی تباہ حال، خود رفتہ، سر بہ زانو مجذوب آنکھیں مُوند کر گالیاں نکالتا ہے۔ اور اسی طرح لکھاری کو اپنی شان میں غلیظ ترین گالیاں لکھنے کی کامل آزادی بھی میسر ہونا چاہیے، آخر اس پہ کسی کو کیا اعتراض ہو سکتا ہے؟ یہ ’خود ستائی‘ تو غالباً بنیادی انسانی حقوق میں شامل ہے، اور اگر نہیں ہے تو کیوں نہیں ہے، ضرور ہونی چاہیے۔

اب آپ ہی بتائیے کیا گالی نکالے بغیر پاکستان کی سیاست کا ایمان دارانہ تجزیہ ممکن ہے؟ بلا شبہ، مہذب زبان میں موجودہ ملکی سیاست پہ تبصرہ کرنا ایک غیر فطری فعل ہے۔ کیا آج پاکستان کے گلی کوچوں، قہوہ خانوں، کھیتوں کھلیانوں میں ملکی حالات پہ کوئی تبصرہ گالیوں سے خالی ہوتا ہے؟ تو پھر ہم لکھنے والوں پر یہ خلافِ فطرت پابندی کیوں ہے؟

یہ تجویز سنجیدہ رد ِ عمل کی متقاضی ہے۔ یہ ایک علمی اور نفسیاتی مسئلہ ہے اور اس پہ غور بھی انہی زاویوں سے کیا جانا چاہیے۔ ہم ملکی سیاست کے ضمن میں گالیوں سے لتھڑے ہوئے تبصرہ کی ضرورت و افادیت کی وکالت یوں ہی نہیں کر رہے ہیں، اس کے حق میں مُسکِت دلائل کے انبارموجود ہیں۔

نفسیات داں متفق ہیں کہ گالی نکالنے سے درد میں کمی محسوس ہوتی ہے، طبیب مصر ہیں کہ گالی دینے سے جسم میں ایڈرینے لِن سرپٹ دوڑتی ہے، ہارمون پیدا ہوتے ہیں، جن سے درد برداشت کرنے کی قوت بڑھتی ہے۔ (ان سردیوں میں جب آپ کا گُھٹنا کسی میز سے ٹکرائے تو آپ اس نظریہ کی مزید تصدیق کر سکتے ہیں )

گالی آپ کے بے اختیار ہونے کے احساس کو کم کرتی ہے۔ یہ التباس پیدا کرتی ہے کہ چیزیں آپ کے کنٹرول میں ہیں۔ یاوہ گوئی سے آپ کے اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے، اور مجبوری و محکوری کا احساس کم ہو جاتا ہے۔ بے ہودہ گفتاری سے غصہ نکل جاتا ہے، اگر یہ غصہ نہ نکلے تو اس کا اخراج تشدد کی صورت میں بھی ہو سکتا ہے، یعنی گالی وارننگ کا کام بھی کرتی ہے، جیسے اکثر جانور حملہ آور ہونے سے پہلے غُراتے ہیں۔

جب معاشرے میں ہر طرف جھوٹ حکم ران ہو تو گالی سب سے بڑا سچ بن جاتی ہے۔ جب سفید کو سفید اور سیاہ کو سیاہ کہنے کی اجازت نہ ہو، والیان سیاہ و سفید سے سوال کرنے کی ممانعت ہو، تو فقراء قلم کو کم از کم یہ اجازت ہونا چاہیے کہ وہ اپنے دل کی تھاپ پہ رقص کرتے ہوئے، آسمان کی طرف منہ کر کے جی بھر کر گالیاں نکالیں۔

اگر ہم اپنی داخلی کیفیت کسی بھی حازق طبیب کو بتائیں کہ ہم بے اختیار محسوس کرتے ہیں، مجبور و محقور محسوس کرتے ہیں، دل میں درد بھی سوا ہوتا ہے، اور ہم بہت غصہ میں رہتے ہیں، تو وہ ایک ثانیہ میں ہمارے مرض کی درست تشخیص کر لے گا اور مسکراتے ہوئے نسخہ میں لکھے گا ”روزانہ صبح، دوپہر، شام، پیٹ بھر کر گالیاں دیجیے، افاقہ ہو گا۔ “

ملکی حالات کے تناظر میں، ہر حسّاس ذہن ہماری گذارشات کو انتہائی معقول قرار دے گا۔ کارپردازانِ ریاست سے التماس ہے کہ آج ہمارا فیصلہ کر دیجیے۔ تحریری گالم گلوچ کی اجازت نہ ملنے کی صورت میں دوستو، یہ ہماری آپ سے آخری ملاقات ہے۔ بس، بہت ہو گئی۔ اس ماحول میں لکھنا تو ایسے ہی ہے جیسے کپڑے پہن کر سیکس کرنا۔ ایسے گناہِ بے لذت سے ہم تو باز آئے۔ خدا حافظ!

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں