خواتین، میڈیا اور اخلاقیات


\"mahnaz2\" 25جون ہفتے کی صبح کو عکس ریسرچ سنٹر کی ’خواتین ، میڈیا اور اخلاقیات: فاصلے کو کم کرنا‘ کے موضوع پر ہونے والی قومی مشاورت میں شرکت کا موقع ملا تو یہ جان کر خوشگوار حیرت ہوئی کہ انہوں نے پرنٹ میڈیا اور الیکٹرونک میڈیا کے لئے ایک صنفی حساسیت پر مبنی ضابطہ اخلاق بنا رکھا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے پاکستانی خواتین کا میڈیا شکایت سیل بھی بنایا ہوا ہے۔

 پاکستان میں میڈیا کو بڑی حد تک آزاد اور عروج پذیر صنعت بنانے میں اخباری کارکنوں کی چھ دہائیوں کی ان تھک جدوجہد شامل ہے۔ ’عکس‘ کی تحقیقی رپورٹ کے مطابق اس وقت پاکستان میں نوے سے زیادہ چینلز (نیوز اور انٹرٹینمنٹ) 180 ریڈیو اسٹیشنز اور 400 پرنٹ پبلیکیشنز (روزنامے، ماہنامے،ہفت روزے، مختلف زبانوں) کام کر رہے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ گزشتہ دہائی میں الیکٹرونک چینلز کی تعداد میں بے پناہ اضافے کے ساتھ کیا صحتمند اور متوازن رپورٹنگ کو بھی فروغ حاصل ہوا ہے؟تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ میڈیا اخلاقی اصولوں،صنفی توازن اور محتاط صحافت کے لحاظ سے مکمل طور پر ناکام نظر آتا ہے۔ مقامی زبانوں میں شائع ہونے والے اخبارات قدامت پسند جب کہ انگریزی کے اخبارو جرائد آزاد خیال ہیں۔ کرائم رپورٹس میں جرم کی بجائے عورت پر توجہ مرکوز کرنے کا رحجان مقبول ہے۔ ریپ کا شکار ہونے والی خواتین کی تصاویر شائع کرنا، ان کے بارے میں خود سے فیصلے صادر کرنا عام ہے، تحقیق و تجزیہ کی زحمت کوئی نہیں کرتا۔

کرائم رپورٹس میں عورت کے حوالے سے جو زبان استعمال ہوتی ہے، اس کے بارے میں مجھے ذاتی طور پر اور سول سوسائٹی کو خاص طور پر عورتوں کے حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیموں کو ہمیشہ سے اعتراض رہا ہے۔ ایک زمانے میں، چار بچوں کی ماں آشنا کے ساتھ فرار۔۔۔ جیسی سرخیاں اس تواتر سے پڑھنے کو ملتی تھیں کہ قارئین پریشان ہو جاتے تھے۔ عکس نے بھی اس طرح کی سرخیاں جمع کی ہیں: فحاشی کے اڈے پر چھاپہ، 4 تتلیاں ، 5 بھنورے گرفتار ۔ مستری اینٹیں لگاتا رہا،اوباش جوان اس کی بیوی پلستر کر گیا ِ۔ اندازہ لگائیے کہ سب ایڈیٹر جس کے دل میں عورت کے لئے کوئی عزت نہیں ہے، نے کس طرح اپنے تخلیقی احساسات کو منفی انداز میں استعمال کیا ہے۔ کیا کوئی عورت اس طرح کا جملہ سوچ سکتی ہے؟

\"consult\"پاکستان کی آبادی اور خواندگی کی شرح کو مد نظر رکھتے ہوئے الیکٹرونک میڈیا سماج کو ترقی اور صنفی حساسیت کی طرف مائل کرنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتا ہے لیکن ٹی وی چینلز کے پروگرام میں عام طور پر خواتین کے حقوق سے متعلق معاملات کو اہمیت نہیں دی جاتی۔ ٹی آر پی (ٹارگٹ ریٹنگ پوائنٹ) کے بعد سے پروگرامز کا معیار بتدریج گرتا جا رہا ہے۔ ریٹنگ میں اضافے کی غرض سے عورتوں پر ہونے والے مظالم کو سنسنی خیز انداز میں پیش کیا جاتا ہے اور ان کی تصاویر اور ذاتی معلومات پیش کر کے اخلاقی اصولوں کی خلاف ورزی کی جاتی ہے۔ ریڈیو کے بارے میں عکس کی رپورٹ میں یہ سوال اٹھایا گیا ہے: اگر ملا فضل اللہ سوات کے تقریباً تمام لوگوں اور خاص طور پر خواتین کی سوچ پر اثر انداز ہونے کے لئے غیر قانونی ایف ایم چینل استعمال کر سکتا ہے تو پھر قانونی اور لائسنس یافتہ ایف ایم چینلز خواتین کے مسائل پراس سنجیدگی اور ذمہ داری سے توجہ کیوں نہیں دے سکتے جس کی وہ حقدار ہیں؟

ایک اور قابل توجہ پہلو اشتہارات میں عورت کا بے جا استعمال ہے،عورتیں جو اشیا استعمال بھی نہیں کرتیں، ان کے اشتہارات میں بھی عورتوں کو دکھایا جاتا ہے۔ یہی حال تفریحی میڈیا کا ہے۔ ہمیں عکس کے اس تجزئیے سے مکمل اتفاق ہے کہ ٹی وی ڈراموں کا وہ دور گزر گیا جب کسی ڈرامے کی نئی قسط دیکھنے کے لئے شام کو لوگ گھروں کو لوٹ جاتے تھے اور سڑکیں سنسان ہو جایا کرتی تھیں۔ اس حقیقت کے باوجود کہ پی ٹی وی ایک سرکاری چینل تھا، اس کے ڈراموں کا معیار شروع سے بہت اچھا تھا۔ اس کا رحجان ترقی پسند ہونے کی وجہ سے عوام کو یہ دیکھنے کا موقع ملتا تھا کہ اگر عورتوں کو زندگی کے ہر شعبے میں بھر پور نمائندگی دی جائے اور انہیں باعزت طریقے سے سراہا جائے تو معاشرہ زیادہ متوازن ہو سکتا ہے۔ اس کا زوال فوجی آمر ضیا ءالحق کی تنگ نظر دقیا نوسی پالیسیوں کی وجہ سے شروع ہوا اور اس کے شواہد آج کل نشر کئے جانے والے بہت سے ڈراموں میں دیکھے جا سکتے ہیں جو دیکھے جانے کے بھی قابل نہیں ہیں۔ بد ترین بات یہ ہے کہ اس میں عورتوں کو دقیانوسی طریقے سے یا تو کمزور اور لاچار دکھایا جاتا ہے یا پھر میکیا ولیائی شخصیت کی حامل جو خاندان میں اپنی طاقت اور اثر بڑھانے کے لئے جھوٹ بولتی ہیں،جوڑ توڑ کرتی ہیں اور دھوکے بازی کرتی ہیں۔ ایسے ڈرامے بہت کم دکھائے جاتے ہیں جن میں عورت کو درست انداز میں، ایک ذمہ دار، سمجھ دار،قابل اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والے انسان کے طور پر پیش کیا جاتا ہو۔

ایک تو یہ سوال ہے کہ میڈیا میں عورتوں کی تصویر کشی کیسے ہوتی ہے اور دوسرا سوال یہ ہے کہ میڈیا میں کام کرنے والی عورتوں کا مقام کیا ہے؟ میڈیا میں کام کرنے والی عورتوں کی تعداد مردوں کے مقابلے میں کم ہے اور اہم عہدوں پر فائز عورتوں کی تعداد تو اور بھی کم ہے۔ بچپن میں تو ہم نے صرف بیگم زیب النسا حمید اللہ کا نام سنا تھا جنہوں نے مرر رسالہ نکالا تھا۔ برسوں بعد ملیحہ لودھی اور بعد میں شیریں مزاری کو انگریزی اخبارات کا ایڈیٹر بننے کا موقع ملا۔ اردو اخبارات میں عورتوں کو صرف خواتین کے صفحے تک محدود رکھا جاتا تھا۔ 80 کے عشرے میں نفیسہ ہود بھائی نے ڈان کے لئے کرائم رپورٹنگ شروع کی تھی۔ رضیہ بھٹی کی ادارت میں نیوز لائن نے جرات مند صحافت کی شاندار مثال قائم کی اور ان کے بعد ریحانہ حکیم نے اس روایت کو جاری رکھا۔ 2000ء کے بعد ٹی وی چینلز اور ایف ایم ریڈیوز کی تعداد میں اضافہ کی بدولت عورتوں کے لئے کام کے مواقع میں اضافہ ہوا ہے مگر صنفی مساوات کا خواب پورا ہونے میں وقت لگے گا۔

میڈیا کا ذکر ہو رہا ہے تواس کی ریگولیٹری اتھارٹی پیمرا کا ذکر بھی ضروری ہے۔ ہمارامطالبہ ہے کہ اس میں سول سوسائٹی کو زیادہ نمائندگی دی جائے۔ اور اس کے مانیٹرنگ نظام کو بہتر بنایا جائے۔ کچھ مخصوس حلقوں کے دباﺅ پر کسی پروگرام یا اینکر پر پابندی نہ لگائی جائے، فیصلہ سازی کے عمل کو شفاف اور منصفانہ بنایا جائے۔

عکس کے پروگرام کے شرکا نے جہاں میڈیا کے مواد پر مارکیٹنگ اور ایڈورٹائزنگ کے افراد کے بے جا دباﺅ پر اعتراض کیا وہیں یہ مطالبہ بھی کیا کہ مستند اور تجربہ کار صحافیوں کو اخبارات کا ایڈیٹر اور ٹی وی پروگرامز کا پروڈیوسر بنایا جائے اور پیراشوٹ اینکرز کی شہنشاہیت کا خاتمہ کیا جائے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔