دو سالہ زینب کی زندگی بچانے کے لیے دنیا بھر میں نایاب خون کی تلاش


ایک دو سالہ پاکستانی نژاد امریکی بچی کی جان بچانے کے لیے خون کے ایک نایاب گروپ کی ضرورت ہے جس کی تلاش کے لیے دنیا بھر میں تلاش شروع کر دی گئی ہے۔

کینسر کے مرض میں مبتلا زینب مغل نامی اس بچی کو بڑی مقدار میں خون کی ضرورت ہے اور اس کا خون کا گروپ دنیا کا نایاب ترین گروپ ہے جس کی وجہ سے اس کی تلاش میں مشکل پیش آ رہی ہے۔

کارکنوں نے اب تک ایک ہزار سے زیادہ لوگوں کا گروپ ٹیسٹ کیا ہے لیکن اب تک صرف تین لوگ ایسے ملے ہیں جن کا یہی گروپ ہے۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ انھیں زینب کے علاج کے لیے سات سے دس عطیہ کندگان کی ضرورت ہے۔

چند ماہ قبل پتہ چلا تھا کہ زینب کو نیوروبلاسٹوما نامی مرض ہے جو خاص طور پر بچوں کو نشانہ بناتا ہے۔

جب تک زینب کا علاج چلتا رہے گا، اسے خون کی ضرورت پڑتی رہے گی۔ ان کے خون کا گروپ ایسا ہے جو صرف پاکستانی، انڈین یا ایرانی نژاد لوگوں میں پایا جاتا ہے۔

تاہم ان ملکوں میں بھی صرف چار فیصد لوگوں کا یہی گروپ ہے۔

دو عطیہ کندگان امریکہ سے اور ایک برطانیہ سے ملا ہے۔

خون پر تحقیق کے ادارے ون بلڈ کی لیبارٹری مینیجر فریڈا برائٹ نے کہا: ‘یہ خون اس قدر نایاب ہے کہ میں نے اپنی 20 سالہ پیشہ ورانہ زندگی میں پہلی بار اس قسم کے انتقالِ خون کا تجربہ کیا ہے۔ خون سے ان کے مرض کا علاج نہیں ہو گا لیکن ان کے علاج کے دوران اس کی ضرورت پڑے گی۔’

‘ہم سب رونے لگے’

زینب کے والد راحیل مغل کا تعلق پاکستان سے ہے اور وہ کہتے ہیں کہ انھیں ستمبر میں پتہ چلا کہ زینب کو یہ مرض ہے۔ ‘ہم سب رونے لگے۔ یہ بدترین خبر تھی۔’

زینب کے والدین نے اپنا خون دینے کی پیشکش کی لیکن معلوم ہوا کہ ان کا خون زینب کے خون سے نہیں ملتا۔ راحیل کہتے ہیں کہ ان کے خاندان کے بہت سے لوگوں نے بھی خون دینے کی کوشش کی لیکن وہ بھی نہیں ملا۔

خون

Getty Images
زینب کو سات سے دس عطیہ کنندگان کی ضرورت ہے

ون بلڈ کے مطابق علاج سے زینب کی رسولی گھٹنا شروع ہو گئی ہے، لیکن انھیں آگے چل کر ہڈی کے گودے کے ٹرانسپلانٹ کی بھی ضرورت پڑے گی۔

راحیل نے کہا: ‘میری بیٹی کی زندگی کا انحصار خون پر ہے۔ عطیہ کنندگان زبردست کام کر رہے ہیں۔ میں اسے کبھی نہیں بھول پاؤں گا۔’

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 6788 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp