منڈی میں امن کے حصص میں بے پناہ کمی….


jamil abbasiکل صبح محترم ’ہم سب‘ پر عزیز القدر ظفراللہ صاحب کی تحریر ”امن آئے گا دبے پاﺅں‘ پڑھنے کا موقع ملا۔ تحریر پر ایک طرح جہاں ہمارے ماضی بعید اور قریب کا مایوس کن ذکر حاوی تھا وہاں اختتام پر قدرے امید افزائی بھی دکھائی دی۔ میں تو اس تحریر کو دعا کی طرح لیتا ہوں اور پورے دل و جان کے ساتھ ’آمین ‘کہنے میں شرکت حاصل کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں مگر برا ہو ان خیالات فاسدہ کا جو سوچوں میں در آتے ہیں۔

ایک خیال یوں کہتا ہے کہ بھائی ’امن‘یہاں آئے ہی کیوں؟شمشیر ہمارا ورثہ ہے اور ہم بطور قوم’شاہین‘۔ ہمارا تو نصب العین ہی نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر کشتوں کے پشتے لگانا ہے اور پھر ایک مومن کی حیثیت میں ہم پر ’امن و آشتی‘ کے ساتھ گھر بیٹھنا حرام قرار دیا گیا ہے حتیٰ کہ تلقین کی گئی کہ’بے تیغ‘بھی لڑنا لازم ہے۔ اب چونکہ اس فاسد خیال اور سوال کا جواب فقیر کے پاس نہیں تھا تو ارادہ ہوا کہ زاد راہ کے طور پر کمر پر آٹا باندھ کر جواب ڈھونڈھنے نکلتا ہوں۔ کسی صائب الرائے اور فاضل دانشور سے اکتساب علم کے لئے اس کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کر کے بیٹھوں۔ اسی آٹے کو کمر پر باندھنے کے بندوبست میں تھا تو ایک اور نہایت فاسد خیال کالی بلی کی طرح راستہ کاٹ گیا۔ خیال نے یاد دلایا کہ فی زمانہ قوم کے سب سے پاک و پوتر جماعت کے سابق قائد نے قوم کی ترقی کے لئے معاشرے میں قتال فی سبیل اللہ کو عام کرنا ملی ذمہ داری قرار دی ہے۔ اب اس تناظرمیں ’امن‘ تو گویا شودر اور پلید چیز ٹھہرا ۔ لازم ہوا کہ ’امن‘سے دوری اچھی ہے میاں۔ اور تم بھی یہ سوال جواب سے کنی کترا کر ملی و قومی ذمہ داری کی جانب دھیان دو۔ سوال ذرا وزن دار تھا لہٰذا ہم نے کمر پر بندھا آٹا کھول کر رکھ دیا۔

اسی اثنا میں ہمارے ہاں کے ایک نیک اور باشعور ’مرد‘کی اوصاف بھی یاد آگئیں کہ ہتھیار اس کے لئے زیور ہے۔ اب یہ صدری علم تو ہر ایک رکھتا ہے کہ زیور کس کو پیارا نہیں ہوتا۔ میں تو پھر وہیں بیٹھا کا بیٹھا رہ گیا اور اس سوال جواب نے میرے حواس کو متزلزل کردیا۔ اب اے مکرم قاری تجھ پر ہی ان خیالات فاسدہ کی ذمہ داری ہے۔ اب تو ہی مدعی بھی بن اور منصف بھی۔ راقم الحروف اپنے آپ کو بری الذمہ قرار دیتا ہے۔ اے دانا قاری اب تو ہی سوچ کہ اس نازک صورتحال میں بیچارے ’امن‘ کو یہاں کیسے مہمان بنایا جا سکتا ہے اور پھر یاد رہے کہ ’امن‘ یہاں بالکل غیر ضروری اور اجنبی ہے، اس کی کوئی زیادہ جان پہچان نہیں۔ اور اگر تھوڑی بہت ہے بھی تو وہ کسی کام کی نہیں۔ بھلا اس پر خطر صورتحال میں ’امن‘اپنی جان کی بازی لگا کر کیسے آسکتا ہے؟ اور اگر بچارا اپنی ذمہ داری پر آتا ہے تو آگے اس کی مرضی۔ اسی ادھیڑ بن میں یہ بھی یاد رہے تحریر کا عنوان ذہن ’امن آئے گا دبے پاو ¿ں‘ہے۔ محترم ظفراللہ صاحب نے ’امن‘کے دبے پاو ¿ں آنے کا ذکر کیا ہے۔ بلاشک ’امن‘دبے پاو ¿ں چوروں کی طرح یہاں آسکتا ہے لیکن شرط یہ ہے کہ کوئی اسے دیکھ نہ لے ورنہ وہیں کے وہیں دفن کردیا جائے گا۔ تو اے قاری اب تو جانے اور ’امن‘ جانے….


Comments

FB Login Required - comments