مشکل لہجے اور کاغذی زیر جامے….


\"khawarکافی عرصہ پہلے کی بات ہے جب ہوائی اڈوں پر خاص حفاظتی اِقدامات نہیں ہوتے تھے اور جہازوں کے اندر بھی سخت حِفاظتی قوانین کا نفاذ نہیں ہوا کرتا تھا۔ آج کی بات کریں تو اب جہاز کے کاک پِٹ کا دروازہ سٹیٹ آف دی آرٹ ٹیکنولوجی کا بنا ہوتا ہے لیکن اُس زمانے میں ایسا کُچھ نہ تھا۔ ایک سینئر خاتون ساتھی قِصہ یوں بیان کرتی ہیں کہ ایک پرواز پر وہ جہاز کے اگلے حصے میں کام کر رہی تھیں، ایک صاحب تشریف لائے، چہرے پر عُجلت کے آثار نُمایاں تھے، پھر سیدھے ہاتھ کی چیچی اُنگلی دِکھا کر مِسکین سی شکل بنائی تو پتہ چلا کہ جناب کو ٹوائلٹ جانا ہے۔ چونکہ جہاز کے اگلے حصے میں جو ٹوائلٹ ہوتے ہیں وہ بالکل کاک پِٹ کے ساتھ ذرا پیچھے کی طرف ہوتے ہیں، تو جب ٹوائلٹ کی طرف اِشارہ کیا جاتا ہے تو یوں لگتا ہے کہ اِشارہ کاک پِٹ کی طرف ہے۔ وہ صاحب بھی یہی سمجھے۔ کہنے لگیں کہ ٹوائلٹ کی طرف اِشارہ کر کے اپنے کام میں مشغول ہو گئی، وہ صاحب فوراً ہی پلٹ آئے اور مُجھے مُخاطب کر کے کہنے لگے ”سسٹر! کوئی اور ٹوائلٹ نہیں ہے“ ۔ میں نے کہا ” سر! یہ ٹوائلٹ خالی ہی تو ہے“ ۔ وہ صاحب ذرا کھِسیانے ہو کر کہنے لگے ”نہیں سسٹر اِس میں تو پہلے ہی دو لوگ بیٹھے ہیں“۔ بات سمجھنے میں دیر نہیں لگی۔ میں نے کاک پِٹ کا دروازہ بند کر کہ اُن کو ٹوائلٹ کی راہ دِکھائی۔

نوکری کے شُروع کے دِنوں میں میرا تبادلہ اِسلام آباد ہو گیا۔ وہاں سے جب بین الاقوامی پروازوں کا سِلسِلہ شُروع ہوا تو اِنگلستان منزل ٹھہرا۔ پاکستان کے مُختلِف علاقوں کے لوگ دُنیا کے مُختلِف مُمالِک میں آباد ہیں۔ مثلاً پٹھان گلف مُمالِک میں، گُجرات اور آس پاس کے عوام اِسپین میں، اِسی طرح اپر پنجاب کے زیادہ تر لوگ اِنگلینڈ میں۔ بھئی اِن میں 80 فیصد نہایت ہی اچھے لوگ ہوتے ہیں۔ سمجھیں بس اللہ میاں کی گائے۔ جہاز پر مجال ہے کہ بِلا وجہ تنگ کریں، اِتنے شائستہ اور نستعلیق بچے ہوتے ہیں اِن کے کہ دورانِ پرواز اُن کی ہمت نہیں پڑتی کہ پیپسی یا کوک مانگ سکیں۔ ٹوائلٹ میں ننگے پاﺅں جاتے ہی نہیں بھئی یہ لوگ اور نا ہی جہاز کے فرش پر لم لیٹ ہو جاتے ہیں کہ زور زبردستی کر کہ ہمیں اُٹھانا پڑے۔ گورے بھی بہت خوش ہیں اِن سے بلکہ اُنھوں نے تو کُچھ علاقے ہی اِن لوگوں کے لیئے مخصوص کر دیئے ہیں۔ اِن کے جہاز سے نیچے اُترنے کے بعد محسوس ہی نہیں ہوتا کہ اِس طیارے پر کسی نے سفر بھی کیا ہے۔ اُف! حد درجہ صفائی۔ اِن کے نوجوان دِکھنے میں تقریباً ایک جیسے ہی لگتے ہیں۔ سب کا ایک مخصوص ہیئر اِسٹائل ہوتا ہے۔ لہجے کا تو جواب ہی نہیں، میں مذاق نہیں کر رہا، واقعتاً جواب نہیں کیونکہ کُچھ سمجھ ہی نہیں آتا۔ یا تو یہ اپنی مادری زبان بولتے ہیں یا پھر ایسی انگریزی کہ انگریز بھی شرما جائے۔ اگر آپ کو عظیم برطانیہ کے پُرانے انگریزی لہجے ” کوکنی ایکسنٹ“ کے بارے میں جانکاری ہے تو بتاتا چلوں اِن لوگوں کا ایکسنٹ کوکنی سے بھی چار پانچ ہاتھ آگے ہے۔ آپ بھی ایسے بول سکتے ہیں، ترکیب یہ ہے کہ جُملے کا ہر لفظ ادا کرنے کے بعد بریک مارنی ہے بالکل ایسے جیسے آپ کسی کھڈوں سے بھری سڑک پر گاڑی چلا رہے ہوں، اور ہر ہر لفظ کا آخری حرف یا آخری دو حروف کھا جانے ہوتے ہیں۔ مِثال کے طور پر کسی کو پانی چاہئے ہو تو آواز آتی ہے ”برو کہ آ گے سو وا پھی“۔ اِن کے برو کی پھوپھی، اب بھلا بتائیں بندہ کیا کرے؟۔ اِس کا مطلب ویسے یہ بنا کہ ” برو کین آئی گیٹ سم واٹر پلیز“ ( بھائی مُجھے تھوڑا پانی مِل سکتا ہے)۔ شروع کے دِنوں میں تو مُجھے اِس لہجے کو سمجھنے میں بہت مُشکل ہوئی لیکن پھر میں نے کافی محنت اور مشق کی۔ اب شُکر ہے خدا کا کہ بالکل سمجھ نہیں آتی۔

اسی بارے میں: ۔  سیاحت کے نام پرقدرتی ماحول کی تباہی

\"edit\"ایسی ہی ایک نوکری کے آغاز کے دِنوں کی فلائیٹ کا قِصہ کُچھ ایسے ہے کہ پرواز تقریباً آدھی سے زیادہ گزر چُکی تھی۔ حیرت انگیز طور پر سکون کا لمحہ تھا، مُجھے آئل میں ایک دوشیزہ اپنی جانب آتی دِکھائی دی۔ یہاں آئل سے مُراد تیل نہیں بلکہ وہ راہداری (چلنے کا راستہ) ہے جو جہاز کی نشستوں کے درمیان ہوتی ہے۔ ماشااللہ کافی حسین و جمیل، جدید تراش خراش کا لباس، سُرخی اور زیور اِس حد تک پورا تھا کہ گمان اغلب تھا کہ کسی عروسی تقریب میں شرکت فرما کر آ رہی ہیں۔ سب کُچھ سلو موشن میں چلنے لگا۔ آجکل رمضان المُبارک ہے اور میرے نام کا لاحقہ منٹو بھی نہیں ہے ورنہ کُچھ تفصیلات اور آپ کے گوش گزار کرتا۔ پہنچ گئیں مُجھ تک تو احتراماً کھڑا ہو گیا، رسماً مُسکرائیں، میں بھی مُسکرایا، پھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا، وہ بول پڑیں ۔ سُریلی آواز میں کُچھ الفاظ میری سماعت سے ٹکرائے اور نینو سیکنڈ میں جب میرے ذہن نے اُسے ڈی کوڈ کیا تو میں سلو موشن سے فوراً فاسٹ فارورڈ موڈ میں آ گیا۔ تخیُلات کا سِلسِلہ ٹوٹنے سے قبل میں ایک تیز رفتار اور بھاری ہارن بجاتے ہوئے ٹرک سے ٹکرایا اور شیشے کی کوئی چیز بھی ٹوٹنے کی آواز مُجھے سُنائی دی۔ کہنے لگیں ” تُساں کول کاغذ دی کچھی ہوسی، می بے بی نی ای“ ( آپ کے پاس کاغذ کا زیر جامہ ہو گا، مائی بے بی نیڈ اِٹ، میرے بچے کو اِس کی ضرورت ہے) ۔ وہ موصوفہ مُجھ سے اپنے بچے کے لیئے پیمپر مانگ رہی تھی ۔ میرے منہ سے صرف ” ہیں؟“ نکل سکا۔ وہ پھر سے بولنا شروع کرنے لگیں تو میں نے جلدی سے اوکے اوکے کہہ کر انہیں روکا اور پیمپر پکڑا کر چلتا کیا۔

اسی بارے میں: ۔  جمعے کے خطبے سے اسلام آباد کی ناکہ بندی تک کا سفر

عزم و ضبط کا پیکر بننا کیا ہوتا ہے یہ اِن پروازوں پر پتہ چلتا ہے۔ ایک صاحب اور آئے، بچے کا فیڈر ہاتھ میں تھا اور میرے ساتھی سے کُچھ کہنے لگے۔ دو تین منٹ ہو گئے، مُذاکرات جاری تھے، نہ سمجھ آنی تھی نہ آئی۔ پھر اُنہیں میری طرف ٹور دِیا گیا۔ اُن کا مُدعا یہ تھا کہ \” آ نی سوم کوس وا“۔ نہیں آئی نا سمجھ؟ مُجھے بھی نہیں آئی تھی۔ وہ تو اللہ بھلا کرے ایک اور مُسافر کا جس نے ہمارے مترجم ہونے کا فرض ادا کیا۔ اُس نے تشریح یہ کی کہ یہ آدم زاد کہہ رہا ہے کہ ” آئی نیڈ سم کوسا واٹر“ یعنی مُجھے نیم گرم پانی چاہیئے تا کہ وہ اپنے بچے کا فیڈر بنا سکے۔

آجکل یہ لہجہ سیکھنے کے لیئے ایک انگریزی ڈراما (Peaky Blinders) بھی دیکھ رہا ہوں سب ٹائیٹلز کے ساتھ۔۔ مُجھے قوی اُمید ہے کہ کُچھ ہی مہینوں میں اِس انتھک محنت کے باعث انگریزی زبان مُکمل طور پر بھول جاﺅں گا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

خاور جمال

خاور جمال پیشے کے اعتبار سے فضائی میزبان ہیں اور اپنی ائیر لائن کے بارے میں کسی سے بات کرنا پسند نہیں کرتے، کوئی بات کرے تو لڑنے بھڑنے پر تیار ہو جاتے ہیں

khawar-jamal has 23 posts and counting.See all posts by khawar-jamal

2 thoughts on “مشکل لہجے اور کاغذی زیر جامے….

  • 27-06-2016 at 3:07 pm
    Permalink

    goodOneBro;)

  • 28-06-2016 at 9:55 am
    Permalink

    V. Nice

Comments are closed.